Grammar: figures of speech and poetic devices

قواعد: علمِ بیان اور علمِ بدیع

Class 12 Urdu, Grammar 4

اس حصے میں علمِ بیان (تشبیہ، استعارہ، کنایہ، مجازِ مرسل) اور علمِ بدیع کی صنعتیں (تلمیح، رعایتِ لفظی، مراعات النظیر، حسنِ تعلیل، مبالغہ، تکرار، تضاد) شعری مثالوں سمیت ہیں۔ حصہ اول میں 3 سے 4 MCQs اور حصہ قواعد کا 3 نمبر کا سوال انھی سے آتا ہے، اور غزل و نظم کی تشریح میں شعری محاسن لکھنے کے لیے بھی یہی علم چاہیے۔

Learning outcomes (2)
  • علمِ بدیع کی صنعتوں (تلمیح، رعایتِ لفظی، مراعات النظیر، حسنِ تعلیل، مبالغہ، تکرار) کی شناخت کر سکیں اور تحریر میں استعمال کر سکیں۔
  • علمِ بیان (تشبیہ، استعارہ، کنایہ، مجازِ مرسل) کی شناخت کر سکیں۔

علمِ بیان اور علمِ بدیع: فرق

علمِ بیان وہ علم ہے جس سے ایک ہی بات کو مختلف طریقوں سے (کبھی صاف، کبھی اشارے سے) ادا کرنا آتا ہے۔ اس کی چار بنیادی قسمیں ہیں: تشبیہ، استعارہ، کنایہ اور مجازِ مرسل۔

علمِ بدیع وہ علم ہے جس سے کلام میں حسن اور خوب صورتی پیدا کی جاتی ہے۔ اس کی خوبیوں کو صنائع (واحد: صنعت) کہتے ہیں۔ نصاب کی صنعتیں: تلمیح، رعایتِ لفظی، مراعات النظیر، حسنِ تعلیل، مبالغہ اور تکرار (ساتھ میں تضاد بھی)۔

تشبیہOften examined

تشبیہ کے لغوی معنی ہیں مشابہت دینا۔ اصطلاح میں کسی ایک چیز کو کسی مشترک خوبی کی بنا پر دوسری چیز جیسا قرار دینا تشبیہ ہے۔

نازکی اس کے لب کی کیا کہیےپنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
میر تقی میرؔ

تشبیہ کے پانچ ارکان

رکنتعریفاوپر کے شعر میں
مشبہجسے تشبیہ دی جائےلب (ہونٹ)
مشبہ بہجس سے تشبیہ دی جائےگلاب کی پنکھڑی
وجہِ شبہدونوں میں مشترک خوبینازکی
حرفِ تشبیہمشابہت ظاہر کرنے والا لفظسی
غرضِ تشبیہتشبیہ دینے کا مقصدلب کی نزاکت کو نمایاں کرنا

مشبہ اور مشبہ بہ کو طرفینِ تشبیہ کہتے ہیں۔ حروفِ تشبیہ: سا، سی، سے، جیسا، جیسے، مثل، مانند، طرح، گویا، صورت۔

استعارہOften examined

استعارہ کے لغوی معنی ہیں عاریتاً (ادھار) لینا۔ اصطلاح میں کسی لفظ کو اس کے حقیقی معنی کے بجائے مجازی معنی میں اس طرح استعمال کرنا کہ حقیقی اور مجازی معنی میں تشبیہ کا تعلق ہو، مگر حرفِ تشبیہ اور مشبہ دونوں غائب ہوں۔ یعنی مشبہ کو ہی مشبہ بہ کہہ دیا جائے۔

مثال: "میدان میں ایک شیر لڑ رہا تھا۔" یہاں بہادر سپاہی کو "شیر" کہہ دیا گیا۔ یہ نہیں کہا کہ سپاہی شیر جیسا ہے، سیدھا اسے شیر ہی کہہ دیا۔

تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیراترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
علامہ اقبالؔ (نصاب کی غزل)

یہاں مسلمان نوجوان کو "شاہیں" کہا گیا ہے: بلند پرواز، خود دار اور آزاد ہونے کی وجہ سے۔

استعارے کے ارکان

رکنتعریفمثال (شیر)
مستعار لہجس کے لیے لفظ ادھار لیا گیا (تشبیہ کا مشبہ)بہادر سپاہی
مستعار منہجس سے لفظ ادھار لیا گیا (تشبیہ کا مشبہ بہ)شیر
وجہِ جامعدونوں میں مشترک خوبیبہادری

کنایہOften examined

کنایہ کے لغوی معنی ہیں اشارہ کرنا یا پوشیدہ بات کہنا۔ اصطلاح میں کوئی ایسا لفظ یا جملہ بولنا جس کے حقیقی معنی بھی مراد لیے جا سکیں لیکن بولنے والے کا اصل مقصد اس سے جڑے ہوئے دوسرے (لازمی) معنی ہوں۔

کنایہظاہری معنیاصل مراد
اس کے بال سفید ہو گئےبالوں کا رنگ سفیدبوڑھا ہو گیا
اس کا ہاتھ کھلا ہےہاتھ کھلا ہوابہت سخی ہے
اس کے گھر چولہا نہیں جلتاچولہا نہیں جلتابہت غریب ہے
دانتوں میں انگلی دباناانگلی دانتوں میںحیران ہونا
کالی بلا (سیاہ زلف)کالی آفتمحبوب کی زلف

مجازِ مرسلOften examined

مجازِ مرسل میں کوئی لفظ اپنے حقیقی معنی کے بجائے مجازی معنی میں استعمال ہوتا ہے اور دونوں معنوں میں تشبیہ کے سوا کوئی اور تعلق ہوتا ہے، جیسے کل اور جز کا، ظرف اور مظروف کا، سبب اور نتیجے کا۔ "مرسل" یعنی آزاد، تشبیہ کی قید سے آزاد۔

تعلقمثالکہا گیامراد
کل بول کر جز مراددریا بہہ رہا ہے۔دریا (پورا)دریا کا پانی
جز بول کر کل مراداس کے گھر میں دس منہ کھانے والے ہیں۔منہپورے آدمی
ظرف بول کر مظروف مراداس نے پورا گلاس پی لیا۔گلاس (برتن)گلاس کا پانی یا دودھ
ظرف بول کر مظروف مرادسارا شہر امنڈ آیا۔شہرشہر کے لوگ
سبب بول کر نتیجہ مرادہم نے گندم کھائی۔گندمگندم کی روٹی
آلہ بول کر کام مراداس کی زبان بہت میٹھی ہے۔زباناس کی گفتگو
علمِ بیان ایک نظر میں
تشبیہاستعارہکنایہمجازِ مرسل
دونوں چیزیں مذکور؟ہاںنہیں (صرف مشبہ بہ)صرف ایک لفظ/جملہصرف ایک لفظ
حرفِ تشبیہ؟ہاں (یا مقدر)نہیںنہیںنہیں
حقیقی معنی ممکن؟ہاںنہیںہاںنہیں
تعلقمشابہتمشابہتلازم و ملزومکل جز، ظرف مظروف وغیرہ
مثالعلی شیر جیسا ہےشیر آیابال سفید ہو گئےدریا بہہ رہا ہے

صنعتِ تلمیحOften examined

تلمیح کے لغوی معنی ہیں اشارہ کرنا۔ اصطلاح میں شعر میں کسی تاریخی، مذہبی یا مشہور واقعے، قصے، شخصیت یا آیت و حدیث کی طرف ایک دو لفظوں میں اشارہ کرنا تاکہ پورا واقعہ ذہن میں آ جائے۔

بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشقعقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
علامہ اقبالؔ

"آتشِ نمرود" سے حضرت ابراہیمؑ کا واقعہ ذہن میں آتا ہے جنھیں نمرود نے آگ میں ڈالا تو آگ گلزار بن گئی۔

اردو شاعری کی عام تلمیحات
تلمیحواقعہ
آتشِ نمرودحضرت ابراہیمؑ کا آگ میں ڈالا جانا
جامِ جمایران کے بادشاہ جمشید کا پیالہ جس میں دنیا کا حال نظر آتا تھا
تیشۂ فرہادفرہاد کا شیریں کے لیے پہاڑ کاٹ کر نہر نکالنا
یوسف و یعقوبحضرت یوسفؑ کی جدائی میں حضرت یعقوبؑ کا رونا
قارون کا خزانہقارون کی دولت جو زمین میں دھنس گئی
آبِ حیات / خضرحضرت خضرؑ اور آبِ حیات کا چشمہ
ید بیضا / طورحضرت موسیٰؑ کا روشن ہاتھ اور کوہِ طور
دمِ عیسیٰحضرت عیسیٰؑ کا پھونک سے مردے زندہ کرنا

رعایتِ لفظی اور مراعات النظیرOften examined

رعایتِ لفظی

شعر میں ایسے الفاظ لانا جن کا ایک معنی شعر میں مراد ہو مگر ان کا دوسرا معنی شعر کے کسی اور لفظ سے مناسبت رکھتا ہو، یعنی لفظوں سے کھیلنا۔

اس کے رخسار دیکھ جیتا ہوںعارضی میری زندگانی ہے
2026 کے پرچوں میں آیا شعر

"عارضی" کا شعر میں مطلب ہے چند روزہ (عارضی زندگی)، مگر "عارض" کا مطلب رخسار بھی ہے۔ یعنی شاعر کی زندگی رخسار (عارض) پر منحصر ہے۔ "رخسار" اور "عارضی" کی یہ مناسبت رعایتِ لفظی ہے۔

مراعات النظیر

شعر میں ایسی چیزوں کا ذکر کرنا جو آپس میں ایک ہی سلسلے یا ماحول سے تعلق رکھتی ہوں (تضاد کے بغیر)، جیسے باغ کے ساتھ گل، بلبل، صبا، چمن، باغباں؛ یا جسم کے ساتھ آنکھ، کان، ناک۔

آشنا اپنی حقیقت سے ہو اے دہقاں ذرادانہ تو، کھیتی بھی تو، باراں بھی تو، حاصل بھی تو
علامہ اقبالؔ

دہقاں، دانہ، کھیتی، باراں اور حاصل سب کھیتی باڑی سے متعلق ہیں: یہ مراعات النظیر ہے۔ اسی شعر میں "تو" اور "بھی تو" بار بار آیا ہے، اس لیے اس میں صنعتِ تکرار بھی ہے۔

صنعتِ حسنِ تعلیلOften examined

حسنِ تعلیل یعنی خوب صورت وجہ بیان کرنا۔ اصطلاح میں کسی بات کی ایسی شاعرانہ وجہ بیان کرنا جو حقیقت میں اس کی وجہ نہ ہو مگر سننے میں دل کش لگے۔

زیرِ زمیں سے آتا ہے جو گل سو زر بکفقاروں نے راستے میں لٹایا خزانہ کیا
ماڈل پیپر میں دیا گیا شعر

پھول کے بیچ میں زرد زردانے (پولن) ہوتے ہیں، یہ قدرتی بات ہے۔ شاعر اس کی وجہ یہ بتاتا ہے کہ قارون کا خزانہ زمین میں دھنستے ہوئے راستے میں بکھر گیا تھا، اس لیے ہر پھول ہاتھ میں سونا لے کر نکلتا ہے۔ یہ وجہ حقیقی نہیں، شاعرانہ ہے: یہی حسنِ تعلیل ہے۔ (قارون کے ذکر کی وجہ سے اس شعر میں تلمیح بھی ہے۔)

نثری مثال: "شبنم کے قطرے دراصل رات کے آنسو ہیں جو سورج کے بچھڑنے پر گرتے ہیں۔"

مبالغہ، تکرار اور تضادOften examined

صنعتِ مبالغہ

کسی چیز یا شخص کی تعریف یا برائی کو حد سے بڑھا کر، بعید از قیاس انداز میں بیان کرنا۔

وہ لو کہ الحذر، وہ حرارت کہ الاماںرن کی زمیں تو سرخ تھی اور زرد آسماں
میر انیسؔ

کربلا کی گرمی اتنی بڑھا کر بیان کی گئی کہ زمین سرخ اور آسمان زرد پڑ گیا۔

مبالغے کے تین درجے
قسمکیا ہوتا ہےمثال
تبلیغبات عقلاً اور عادتاً دونوں طرح ممکن ہووہ ایک سانس میں پورا گلاس پی گیا۔
اغراقعقلاً ممکن مگر عادتاً ناممکناس نے ایک دن میں سو میل پیدل سفر کیا۔
غلونہ عقلاً ممکن نہ عادتاًاس کے آنسوؤں سے دریا بہہ نکلا۔

صنعتِ تکرار

شعر میں کسی لفظ کو بار بار دہرانا تاکہ بات میں زور، روانی یا موسیقیت پیدا ہو۔

آتے آتے آئے گا ان کو خیالجاتے جاتے بے خیالی جائے گی
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہےجانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
میر تقی میرؔ

صنعتِ تضاد

شعر میں ایک دوسرے کے الٹ معنی رکھنے والے الفاظ لانا: دن رات، زندگی موت، آگ پانی۔

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیبموت کیا ہے انھی اجزا کا پریشاں ہونا
چکبستؔ

زندگی اور موت، ظہورِ ترتیب اور پریشاں ہونا متضاد ہیں۔

صنعت پہچاننے کا طریقہ (ایک نظر میں)Often examined

شعر میں کیا نظر آئےصنعت
کسی نبی، بادشاہ، عاشق یا تاریخی واقعے کا نام یا اشارہتلمیح
ایک لفظ جس کا دوسرا معنی شعر کے کسی لفظ سے جڑتا ہورعایتِ لفظی
ایک ہی ماحول کی کئی چیزیں (گل، بلبل، چمن)مراعات النظیر
کسی قدرتی بات کی خیالی، شاعرانہ وجہحسنِ تعلیل
ناممکن حد تک بڑھا کر تعریف یا برائیمبالغہ
ایک ہی لفظ کا بار بار آناتکرار
الٹ معنی والے الفاظتضاد
سا، جیسا، مثل کے ساتھ موازنہتشبیہ
کسی کو سیدھا دوسری چیز کہہ دینا (شیر، شاہیں)استعارہ

Key terms

تشبیہ
مشترک خوبی کی بنا پر ایک چیز کو دوسری جیسا کہنا؛ حرفِ تشبیہ کے ساتھ۔
استعارہ
مشبہ کو سیدھا مشبہ بہ کہہ دینا: شیر آیا (بہادر آدمی)۔
کنایہ
حقیقی معنی ممکن مگر مراد لازمی معنی: بال سفید ہونا (بڑھاپا)۔
مجازِ مرسل
مجازی معنی، تعلق تشبیہ کے سوا: دریا بہہ رہا ہے (پانی)۔
تلمیح
تاریخی یا مذہبی واقعے کی طرف اشارہ: آتشِ نمرود۔
رعایتِ لفظی
لفظ کے دوسرے معنی کی شعر کے کسی لفظ سے مناسبت: رخسار، عارضی۔
مراعات النظیر
ایک ماحول کی چیزیں جمع کرنا: دانہ، کھیتی، باراں۔
حسنِ تعلیل
غیر حقیقی مگر خوب صورت وجہ بیان کرنا۔
مبالغہ
بعید از قیاس تعریف یا مذمت؛ تبلیغ، اغراق، غلو۔
تکرار
لفظ کا بار بار آنا: پتا پتا بوٹا بوٹا۔
تضاد
الٹ معنی والے الفاظ: زندگی، موت۔

مختصر سوالات: نمونے کے جوابات

علمِ بیان کی تعریفیں: ہر جواب میں تعریف، مثال اور دوسرے سے فرق۔

3 marks
استعارہ کی تعریف کریں اور اس کے ارکان مثال سے واضح کریں۔
Solution

استعارہ یعنی ادھار لینا۔ کسی لفظ کو مجازی معنی میں اس طرح استعمال کرنا کہ حقیقی اور مجازی معنی میں تشبیہ کا تعلق ہو مگر حرفِ تشبیہ اور مشبہ ذکر نہ ہوں۔

مثال: "میدان میں شیر لڑ رہا تھا۔" مستعار لہ: بہادر سپاہی؛ مستعار منہ: شیر؛ وجہِ جامع: بہادری۔

3 marks
کنایہ کی تعریف کریں اور دو مثالیں دیں۔
Solution

کنایہ وہ لفظ یا جملہ ہے جس کے حقیقی معنی بھی مراد لیے جا سکیں مگر بولنے والے کی اصل مراد اس سے جڑے ہوئے دوسرے معنی ہوں۔

مثالیں: "اس کے بال سفید ہو گئے" (بوڑھا ہو گیا)؛ "اس کا ہاتھ کھلا ہے" (سخی ہے)۔

3 marks
مجازِ مرسل کی تعریف مثالوں سے کریں۔
Solution

مجازِ مرسل میں لفظ مجازی معنی میں استعمال ہو اور حقیقی و مجازی معنی میں تشبیہ کے سوا کوئی اور تعلق ہو، جیسے کل اور جز یا ظرف اور مظروف کا۔

مثالیں: "دریا بہہ رہا ہے" (کل بول کر جز یعنی پانی مراد)؛ "سارا شہر امنڈ آیا" (ظرف بول کر مظروف یعنی لوگ مراد)۔

3 marks
تشبیہ کی تعریف کریں اور اس کے ارکان لکھیں۔
Solution

تشبیہ کسی چیز کو کسی مشترک خوبی کی بنا پر دوسری چیز جیسا قرار دینا ہے۔

ارکان: مشبہ، مشبہ بہ، وجہِ شبہ، حرفِ تشبیہ اور غرضِ تشبیہ۔ مثال: "پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے" میں لب مشبہ، گلاب کی پنکھڑی مشبہ بہ، نازکی وجہِ شبہ اور "سی" حرفِ تشبیہ ہے۔

3 marks
صنعتِ مبالغہ کی تعریف کریں اور اس کی قسمیں لکھیں۔
Solution

مبالغہ کسی بات کو حد سے بڑھا کر، بعید از قیاس انداز میں بیان کرنا ہے۔

قسمیں: تبلیغ (عقلاً اور عادتاً ممکن)، اغراق (عقلاً ممکن، عادتاً ناممکن)، غلو (عقلاً اور عادتاً دونوں ناممکن)۔

کتاب کی مشقوں کے قواعد والے MCQs

درسی کتاب کی مشقوں سے صرف وہ MCQs جو سبق کے متن کے بغیر حل ہو سکتے ہیں، حل اور وجہ کے ساتھ۔

1
مشترک صفت کی بنیاد پر ایک چیز کو دوسری چیز جیسا کہنا کیا کہلاتا ہے؟
  1. AتشبیہAnswer
  2. Bاستعارہ
  3. Cکنایہ
  4. Dمجاز مرسل
Why

مشترک صفت کی بنا پر ایک چیز کو دوسری کی مانند قرار دینا تشبیہ ہے۔

Note. کتاب: غزل 2: غالب، صفحہ 147

2
تشبیہ میں لفظ اپنے کن معنوں میں استعمال ہوتا ہے؟
  1. Aغیر حقیقی
  2. Bمجازی
  3. Cمرادی
  4. DحقیقیAnswer
Why

تشبیہ میں الفاظ حقیقی معنوں میں رہتے ہیں؛ استعارہ، کنایہ اور مجاز مرسل میں مجازی۔

Note. کتاب: غزل 2: غالب، صفحہ 147

3
استعارہ کے کتنے ارکان ہوتے ہیں؟
  1. Aایک
  2. Bدو
  3. CتینAnswer
  4. Dچار
Why

مستعار لہ، مستعار منہ اور وجہ جامع: تین ارکان۔

Note. کتاب: غزل 2: غالب، صفحہ 147

4
"بچے نے بسم اللہ پڑھی۔" یہ جملہ کس کی مثال ہے؟
  1. Aمجاز مرسل کی
  2. Bاستعارہ کی
  3. Cکنایہ کیAnswer
  4. Dتشبیہ کی
Why

بسم اللہ پڑھنے سے مراد تعلیم کا آغاز ہے اور حقیقی معنی بھی مراد لیے جا سکتے ہیں، اس لیے کنایہ۔

Note. کتاب: غزل 2: غالب، صفحہ 147

5
"اسے کالے نے کاٹا۔" یہ جملہ مثال ہے:
  1. Aمحاورے کی
  2. Bکنایے کیAnswer
  3. Cضرب المثل کی
  4. Dکہاوت کی
Why

کالے سے مراد سانپ ہے؛ کتاب صفحہ 143 پر یہی کنایہ کی مثال ہے۔

Note. کتاب: غزل 2: غالب، صفحہ 147

6
"کھا کھا کے اوس اور بھی سبزہ ہرا ہوا / تھا موتیوں سے دامن صحرا بھرا ہوا" یہ شعر مثال ہے:
  1. Aتشبیہ کی
  2. Bمجاز مرسل کی
  3. Cکنایہ کی
  4. Dاستعارے کیAnswer
Why

اوس کے قطروں کو صرف "موتی" کہا گیا، مشبہ کا ذکر نہیں، اس لیے استعارہ۔

Note. کتاب: غزل 2: غالب، صفحہ 147

7
جس کو تشبیہ دی جاتی ہے اسے قواعد کی رو سے کیا کہیں گے؟
  1. Aمستعار لہ
  2. Bمشبہ بہ
  3. CمشبہAnswer
  4. Dوجہ جامع
Why

جسے تشبیہ دی جائے وہ مشبہ، جس سے دی جائے وہ مشبہ بہ۔

Note. کتاب: غزل 2: غالب، صفحہ 147

8
تشبیہ کے ارکان ہوتے ہیں:
  1. AپانچAnswer
  2. Bچھے
  3. Cسات
  4. Dآٹھ
Why

مشبہ، مشبہ بہ، حرف تشبیہ، وجہ تشبیہ، غرض تشبیہ: پانچ ارکان۔

Note. کتاب: غزل 2: غالب، صفحہ 147

9
استعارہ میں جس سے معانی ادھار لیے جاتے ہیں، اسے قواعد کی رو سے کیا کہیں گے؟
  1. Aوجہ تشبیہ
  2. Bمستعار منہAnswer
  3. Cمستعار لہ
  4. Dوجہ جامع
Why

جس لفظ سے معنی ادھار لیے جائیں وہ مستعار منہ، جس کے لیے لیے جائیں وہ مستعار لہ۔

Note. کتاب: غزل 2: غالب، صفحہ 147

10
"دریا بہہ رہا ہے۔" قواعد کی رو سے یہ جملہ کس کی مثال ہے؟
  1. Aتشبیہ
  2. Bاستعارہ
  3. Cکنایہ
  4. Dمجاز مرسلAnswer
Why

بہتا پانی ہے، دریا (ظرف) بول کر پانی (مظروف) مراد لیا گیا: مجاز مرسل۔

Note. کتاب: غزل 2: غالب، صفحہ 147

11
درج ذیل میں سے کس کے لغوی معنی "اشارہ کرنا" ہیں؟
  1. AتلمیحAnswer
  2. Bتضاد
  3. Cتکرار
  4. Dمراعات النظیر
Why

تلمیح کے لغوی معنی اشارہ کرنا؛ شعر میں کسی واقعے یا قصے کی طرف اشارہ۔

Note. کتاب: غزل 5: ادا جعفری، صفحہ 163

12
"پتا پتا، بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے / جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے" یہ شعر کس صنعت کی مثال ہے؟
  1. Aصنعت مبالغہ
  2. Bصنعت تلمیح
  3. Cصنعت مراعات النظیر
  4. Dصنعت تکرارAnswer
Why

پتا پتا، بوٹا بوٹا اور جانے کی بار بار دہرائی صنعت تکرار ہے۔

Note. کتاب: غزل 5: ادا جعفری، صفحہ 163

13
"اس کے رخسار دیکھ جیتا ہوں / عارضی میری زندگانی ہے" یہ شعر مثال ہے:
  1. Aرعایت لفظی کیAnswer
  2. Bصنعت مبالغہ کی
  3. Cصنعت تکرار کی
  4. Dصنعت لف و نشر کی
Why

عارضی کے دو معنی: عارض (رخسار) سے متعلق اور وقتی۔ یہی رعایت لفظی ہے۔

Note. کتاب: غزل 5: ادا جعفری، صفحہ 164

14
"کیا کیا خضر نے سکندر سے / اب کسے رہ نما کرے کوئی" یہ شعر کس صنعت کی مثال ہے؟
  1. Aتکرار کی
  2. Bتضاد کی
  3. Cتلمیح کیAnswer
  4. Dحسن تعلیل کی
Why

خضر اور سکندر کے آب حیات والے قصے کی طرف اشارہ ہے، اس لیے تلمیح۔

Note. کتاب: غزل 5: ادا جعفری، صفحہ 164

15
"پیاسی جو تھی سپاہ خدا تین رات کی / ساحل سے سر پٹکتی تھیں موجیں فرات کی" اس شعر میں کون سی صنعت استعمال ہوئی ہے؟
  1. Aحسن تعلیلAnswer
  2. Bمراعات النظیر
  3. Cرعایت لفظی
  4. Dمبالغہ
Why

موجوں کے ساحل سے ٹکرانے کی اصل وجہ کے بجائے شاعرانہ وجہ (پیاسی سپاہ کا غم) بیان کی گئی: حسن تعلیل۔

Note. کتاب: غزل 5: ادا جعفری، صفحہ 164

FBISE 2026 and model paper questions

Questions from the FBISE HSSC-II model paper (Assessment Framework 2022-23) and FBISE HSSC-II 2026 (1st Annual) papers that belong to this unit, answered the way an examiner expects.

102026 Annual I, Set B, Q.1 (10)1 mark
صنعت جس میں کسی شے یا شخص کی بعید از قیاس تعریف یا مذمت کی جائے:
  1. Aرعایتِ لفظی
  2. BمبالغہAnswer
  3. Cحسنِ تعلیل
  4. Dتلمیح
Why

حد سے بڑھا کر تعریف یا مذمت مبالغہ ہے۔

122026 Annual I, Set B, Q.1 (12)1 mark
"اس کے رخسار دیکھ جیتا ہوں / عارضی میری زندگانی ہے" یہ شعر مثال ہے:
  1. Aصنعتِ حسنِ تعلیل کی
  2. Bصنعتِ تضاد کی
  3. Cصنعتِ تکرار کی
  4. Dصنعتِ رعایتِ لفظی کیAnswer
Why

"عارضی" کا مطلب چند روزہ ہے مگر "عارض" رخسار کو بھی کہتے ہیں جو "رخسار" سے مناسبت رکھتا ہے: رعایتِ لفظی۔

2026 Annual I, Set B, Q.2 (د) (ii)3 marks
صنعتِ تلمیح کی وضاحت ایک شعری مثال سے کریں۔
Solution

تلمیح کے لغوی معنی ہیں اشارہ کرنا۔ اصطلاح میں شعر میں کسی تاریخی، مذہبی یا مشہور واقعے، قصے یا شخصیت کی طرف ایک دو لفظوں میں اشارہ کرنا کہ پورا واقعہ ذہن میں آ جائے، صنعتِ تلمیح کہلاتا ہے۔

بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشقعقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
علامہ اقبالؔ

وضاحت: "آتشِ نمرود" سے حضرت ابراہیمؑ کا وہ واقعہ ذہن میں آتا ہے جب نمرود نے انھیں آگ میں ڈالا اور وہ اللہ پر یقین کے سبب بے خوف آگ میں چلے گئے۔ شاعر نے دو لفظوں میں پورے واقعے کی طرف اشارہ کر دیا، یہی تلمیح ہے۔

112026 Annual I, Set D, Q.1 (11)1 mark
صنعت جس میں کسی شے یا شخص کی بعید از قیاس تعریف یا مذمت کی جائے:
  1. Aتلمیح
  2. Bرعایتِ لفظی
  3. CمبالغہAnswer
  4. Dحسنِ تعلیل
Why

بعید از قیاس یعنی عقل سے دور: یہ مبالغہ ہے۔

132026 Annual I, Set D, Q.1 (13)1 mark
"اس کے رخسار دیکھ جیتا ہوں / عارضی میری زندگانی ہے" یہ شعر مثال ہے:
  1. Aصنعتِ رعایتِ لفظی کیAnswer
  2. Bصنعتِ حسنِ تعلیل کی
  3. Cصنعتِ تضاد کی
  4. Dصنعتِ تکرار کی
Why

رخسار اور عارضی (عارض) کی مناسبت رعایتِ لفظی ہے۔

2026 Annual I, Set D, Q.2 (د) (ii)3 marks
صنعتِ حسنِ تعلیل کی وضاحت ایک شعری مثال سے کریں۔
Solution

حسنِ تعلیل یعنی خوب صورت وجہ۔ اصطلاح میں کسی بات کی ایسی شاعرانہ وجہ بیان کرنا جو حقیقت میں اس کی وجہ نہ ہو مگر دل کش اور خیال انگیز ہو، حسنِ تعلیل کہلاتا ہے۔

زیرِ زمیں سے آتا ہے جو گل سو زر بکفقاروں نے راستے میں لٹایا خزانہ کیا

وضاحت: پھول کے اندر زرد زردانے قدرتی طور پر ہوتے ہیں۔ شاعر اس کی وجہ یہ بتاتا ہے کہ قارون کا خزانہ زمین میں دھنستے ہوئے راستے میں لٹ گیا، اسی لیے ہر پھول مٹھی میں سونا لیے نکلتا ہے۔ یہ وجہ حقیقی نہیں بلکہ شاعرانہ ہے۔

142026 Annual I, Set A, Q.1 (14)1 mark
صنعت جس میں کسی تاریخی یا مشہور واقعہ یا شخصیت کا ذکر یا اشارہ ہو:
  1. Aرعایتِ لفظی
  2. BتلمیحAnswer
  3. Cحسنِ تعلیل
  4. Dمبالغہ
Why

تاریخی واقعے یا شخصیت کی طرف اشارہ تلمیح ہے۔

162026 Annual I, Set A, Q.1 (16)1 mark
"پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے" صنعت کی پہچان کریں:
  1. Aصنعتِ حسنِ تعلیل
  2. Bصنعتِ تضاد
  3. Cصنعتِ رعایتِ لفظی
  4. Dصنعتِ تکرارAnswer
Why

"پتا پتا" اور "بوٹا بوٹا" میں لفظ دہرایا گیا ہے: صنعتِ تکرار۔

2026 Annual I, Set A, Q.2 (د) (ii)3 marks
صنعتِ مراعات النظیر کی وضاحت ایک شعری مثال سے کریں۔
Solution

مراعات النظیر یعنی ملتی جلتی چیزوں کا خیال رکھنا۔ اصطلاح میں شعر میں ایسی چیزوں کا ذکر کرنا جو ایک ہی سلسلے یا ماحول سے تعلق رکھتی ہوں اور ان میں تضاد نہ ہو، صنعتِ مراعات النظیر کہلاتا ہے۔

آشنا اپنی حقیقت سے ہو اے دہقاں ذرادانہ تو، کھیتی بھی تو، باراں بھی تو، حاصل بھی تو
علامہ اقبالؔ

وضاحت: دہقاں (کسان)، دانہ، کھیتی، باراں (بارش) اور حاصل (فصل) سب کھیتی باڑی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک ہی ماحول کی ان چیزوں کو ایک شعر میں جمع کرنا مراعات النظیر ہے۔

1Model paper, Q.1 (1)1 mark
شعر میں صنعت کی نشان دہی کریں: "آشنا اپنی حقیقت سے ہو اے دہقاں ذرا / دانہ تو، کھیتی بھی تو، باراں بھی تو، حاصل بھی تو"
  1. Aتلمیح
  2. Bرعایتِ لفظی
  3. Cمبالغہ
  4. DتکرارAnswer
Why

"تو" اور "بھی تو" بار بار دہرایا گیا ہے، اس لیے دیے گئے اختیارات میں صنعتِ تکرار ہے۔

Note. اس شعر میں مراعات النظیر بھی ہے (دہقاں، دانہ، کھیتی، باراں، حاصل) مگر وہ اختیارات میں نہیں تھی۔

9Model paper, Q.1 (9)1 mark
جامِ جم، تیشۂ فرہاد اور آتشِ نمرود سے صنعت ذہن میں آتی ہے:
  1. Aتضاد
  2. Bحسنِ تعلیل
  3. CتلمیحAnswer
  4. Dمبالغہ آرائی
Why

تینوں مشہور قصوں (جمشید، فرہاد، حضرت ابراہیمؑ) کی طرف اشارہ ہیں، اس لیے تلمیح۔

17Model paper, Q.1 (17)1 mark
شاعری میں کسی بات کی ایسی وجہ بیان کرنا جو حقیقت میں نہ ہو، کہلاتا ہے:
  1. Aرعایتِ لفظی
  2. Bحسنِ تعلیلAnswer
  3. Cمراعات النظیر
  4. Dمبالغہ آرائی
Why

غیر حقیقی مگر خوب صورت وجہ بیان کرنا حسنِ تعلیل ہے۔

Model paper, Q.2 (د) یا3 marks
درج ذیل اشعار میں صنائع کی نشان دہی کریں: (1) آتے آتے آئے گا ان کو خیال / جاتے جاتے بے خیالی جائے گی (2) وہ لو کہ الحذر، وہ حرارت کہ الاماں / رن کی زمیں تو سرخ تھی اور زرد آسماں (3) زیرِ زمیں سے آتا ہے جو گل سو زر بکف / قاروں نے راستے میں لٹایا خزانہ کیا
Solution

(1) صنعتِ تکرار: "آتے آتے" اور "جاتے جاتے" میں الفاظ دہرائے گئے ہیں۔

(2) صنعتِ مبالغہ: گرمی کو اتنا بڑھا کر بیان کیا کہ زمین سرخ اور آسمان زرد ہو گیا۔

(3) صنعتِ حسنِ تعلیل: پھول کے زردانوں کی شاعرانہ وجہ قارون کا لٹا ہوا خزانہ بتائی گئی (قارون کے ذکر میں تلمیح بھی ہے)۔

Exam focus

  1. تلمیح، حسنِ تعلیل یا مراعات النظیر کی شعری مثال سے وضاحت (short)
    تینوں 2026 سیٹس کے حصہ قواعد میں ایک ایک۔
    Go to answer
  2. مبالغہ کی تعریف والا MCQ (mcq)
    سیٹ B اور D میں ایک ہی سوال۔
    Go to answer
  3. "رخسار / عارضی" والا شعر: رعایتِ لفظی (mcq)
    سیٹ B اور D میں۔
    Go to answer
  4. استعارہ، کنایہ، مجازِ مرسل کی تعریف اور فرق (short)
    حصہ قواعد اور تشریح کے شعری محاسن، دونوں میں کام آتا ہے۔
    Go to answer

Mark this unit as done to fill the Class 12 Urdu ring.

Next, unit 11
Kamal-e-Nafs aur Makarim-e-Akhlaq

© 2026 FBISE Fold. Independent study notes, not affiliated with the Federal Board of Intermediate and Secondary Education.