Grammar: kinds of poetry and parts of a verse
قواعد: اصنافِ نظم اور شعر کے عناصر
اس حصے میں نظم کی اصناف موضوع کے لحاظ سے (حمد، نعت، ملی نظم، قصیدہ، ہجو، مناجات، منقبت، مرثیہ، مثنوی) اور ہیئت کے لحاظ سے (غزل، مخمس، مسدس) اور شعر کے عناصر (مصرع، قافیہ، ردیف، مطلع، مقطع، مطلعِ ثانی، بند) ہیں۔ حصہ اول میں عموماً 5 سے 6 MCQs یہاں سے آتے ہیں اور حصہ قواعد کا پہلا 3 نمبر والا سوال (مرثیہ، حمد، نعت کی تعریف) بھی۔
Learning outcomes (3)
- موضوع کے لحاظ سے نظم کی اقسام (حمد، نعت، قومی/ملی نظم، قصیدہ، ہجو، دعا/مناجات، منقبت، مرثیہ، مثنوی) کی پہچان کر سکیں۔
- ہیئت کے لحاظ سے نظم کی اقسام (غزل، مخمس، مسدس) کی پہچان کر سکیں۔
- شعر کے عناصر (مصرع، مصرعِ اولیٰ، مصرعِ ثانی، شعر، قافیہ، ردیف، بند، مطلع، مقطع، مطلعِ ثانی) کی شناخت کر سکیں۔
اصنافِ نظم کی دو تقسیمیں
اردو شاعری کی اصناف کو دو طرح سے پہچانا جاتا ہے:
- موضوع کے لحاظ سے: نظم میں بات کس کے بارے میں ہے؟ اللہ کی تعریف (حمد)، رسولِ اکرم ﷺ کی تعریف (نعت)، وطن (ملی نظم)، کسی کی مدح (قصیدہ)، کسی کی برائی (ہجو)، دعا (مناجات)، صحابہ و اہلِ بیت کی تعریف (منقبت)، مرنے والے کا غم (مرثیہ)۔
- ہیئت (فارم) کے لحاظ سے: نظم کی شکل کیسی ہے؟ مصرعے کیسے ترتیب دیے گئے ہیں اور قافیہ کیسے بدلتا ہے؟ غزل، مثنوی، مخمس، مسدس، رباعی وغیرہ۔
موضوع کے لحاظ سے اصنافOften examined
- حمد
- وہ نظم جس میں اللہ تعالیٰ کی تعریف، اس کی صفات، قدرت اور عظمت بیان کی جائے۔ "حمد" کے لغوی معنی ہیں تعریف۔ مثال: کعبے کی رونق کعبے کا منظر، اللہ اکبر اللہ اکبر (سید صبیح الدین رحمانی)۔
- نعت
- وہ نظم جس میں حضور اکرم ﷺ کی تعریف، آپ ﷺ کی سیرت، اخلاق اور محبت کا بیان ہو۔ نعت کہنے والے کو نعت گو کہتے ہیں؛ حضرت حسان بن ثابتؓ پہلے نعت گو مانے جاتے ہیں۔
- قومی / ملی نظم (ملی نغمہ)
- وہ نظم جس میں وطن سے محبت (حب الوطنی)، قوم کی عظمت، اتحاد اور جذبۂ قربانی بیان ہو۔ مثال: علامہ اقبال کا "ترانۂ ملی"، "اے وطن کے سجیلے جوانو"۔
- قصیدہ
- وہ نظم جس میں کسی شخص (بادشاہ، امیر، بزرگ) کی بڑھا چڑھا کر تعریف کی جائے۔ "قصیدہ" کا لفظ "قصد" (ارادہ) سے ہے، یعنی شاعر اسے کسی خاص ارادے سے لکھتا ہے۔ اردو کے بڑے قصیدہ گو: سودا اور ذوق۔
- ہجو
- قصیدے کی الٹ: وہ نظم جس میں کسی شخص یا چیز کی برائی یا مذمت مزاحیہ یا طنزیہ انداز میں کی جائے۔ سودا ہجو کے بھی بڑے شاعر ہیں۔
- دعا / مناجات
- وہ نظم جس میں شاعر عاجزی سے اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے یا التجا کرے۔ مثال: "لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری" (اقبال)۔
- منقبت
- وہ نظم جس میں صحابۂ کرامؓ، اہلِ بیتؓ یا اولیائے کرام کی تعریف کی جائے۔
- مرثیہ
- وہ نظم جس میں کسی مرنے والے کی تعریف اور اس کی موت پر غم اور حسرت کا اظہار کیا جائے۔ اردو میں زیادہ تر مرثیے واقعۂ کربلا اور حضرت امام حسینؓ کی شہادت پر لکھے گئے۔ بڑے مرثیہ نگار: میر انیس اور مرزا دبیر۔ غالب نے اپنے بھانجے عارف کی وفات پر اور حالی نے غالب کی وفات پر مرثیہ لکھا۔
- مثنوی
- وہ لمبی نظم جس میں کوئی قصہ، کہانی یا واقعہ مسلسل بیان ہو اور ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں، مگر ہر شعر کا قافیہ دوسرے شعر سے الگ ہو۔ مثالیں: میر حسن کی "سحر البیان"، دیا شنکر نسیم کی "گلزارِ نسیم"، مولانا روم کی مثنوی۔
قصیدے کے اجزا (پانچ)
| جز | کیا ہوتا ہے |
|---|---|
| تشبیب | آغاز؛ عشق، موسم، بہار یا زمانے کا ذکر، تاکہ سننے والا متوجہ ہو |
| گریز | تشبیب سے ممدوح (جس کی تعریف ہو رہی ہے) کی طرف خوب صورتی سے مڑنا |
| مدح | اصل حصہ: ممدوح کی تعریف |
| حسنِ طلب | شاعر سلیقے سے اپنی ضرورت یا انعام کی درخواست کرتا ہے |
| دعا | آخر میں ممدوح کے لیے دعا |
مرثیے کے اجزا (آٹھ)
| جز | کیا ہوتا ہے |
|---|---|
| چہرہ | تمہید یا آغاز |
| سراپا | ہیرو (امام حسینؓ یا کسی شہید) کے حسن و جمال کا بیان |
| رخصت | میدانِ جنگ میں جانے سے پہلے عزیزوں سے رخصت ہونا |
| آمد | میدانِ جنگ میں ہیرو کا آنا |
| رجز | ہیرو کا اپنے خاندان اور بہادری پر فخر کا اظہار |
| جنگ | لڑائی کا منظر، گھوڑے اور تلوار کی تعریف |
| شہادت | ہیرو کی شہادت کا بیان |
| بین | شہادت کے بعد عزیزوں کا رونا اور ماتم |
ہیئت کے لحاظ سے اصنافOften examined
- غزل
- وہ صنف جس کا ہر شعر مفہوم کے لحاظ سے الگ اور مکمل ہوتا ہے۔ پہلا شعر (مطلع) کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں، باقی اشعار میں صرف دوسرا مصرع ہم قافیہ ہوتا ہے۔ آخری شعر (مقطع) میں شاعر عموماً اپنا تخلص لاتا ہے۔ غزل کے لغوی معنی ہیں "عورتوں سے باتیں کرنا"، یعنی عشق و محبت کا بیان۔
- مثنوی
- ہر شعر کے دونوں مصرعے آپس میں ہم قافیہ، اور ہر شعر کا قافیہ نیا۔ اسی آزادی کی وجہ سے لمبی کہانیاں مثنوی میں لکھی گئیں۔
- مثلث
- ہر بند میں تین مصرعے۔
- رباعی / مربع
- رباعی چار مصرعوں کی مختصر نظم ہے (پہلا، دوسرا اور چوتھا مصرع ہم قافیہ)؛ مربع کے ہر بند میں چار مصرعے ہوتے ہیں۔
- مخمس
- وہ نظم جس کے ہر بند میں پانچ مصرعے ہوں ("خمس" یعنی پانچ)۔
- مسدس
- وہ نظم جس کے ہر بند میں چھے مصرعے ہوں ("سدس" یعنی چھے)۔ پہلے چار مصرعے ہم قافیہ اور آخری دو مصرعے (ایک شعر) الگ قافیے میں۔ مثال: مولانا حالی کی "مسدسِ مد و جزرِ اسلام" (مسدسِ حالی)۔ میر انیس کے مرثیے بھی مسدس میں ہیں۔
| ہیئت | ایک بند میں مصرعے | یاد رکھنے کا طریقہ |
|---|---|---|
| مثلث | 3 | ثلاثہ = تین |
| مربع | 4 | اربع = چار |
| مخمس | 5 | خمسہ = پانچ (پنجتن) |
| مسدس | 6 | سدس / ستہ = چھے |
| مسبع | 7 | سبع = سات |
| مثمن | 8 | ثمانیہ = آٹھ |
شعر کے عناصر: مصرع سے مقطع تکOften examined
ذیل کی مثالیں نصاب کی غزلوں سے ہیں۔ خواجہ میر دردؔ کی غزل کا مطلع:
- مصرع
- شعر کی ایک سطر۔ اوپر کی مثال میں "جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا" ایک مصرع ہے۔
- مصرعِ اولیٰ
- شعر کی پہلی سطر (پہلا مصرع)۔
- مصرعِ ثانی
- شعر کی دوسری سطر (دوسرا مصرع)۔
- شعر
- دو مصرعوں کا مجموعہ جو وزن میں برابر ہوں اور مل کر ایک مکمل خیال ادا کریں۔ جمع: اشعار۔
- قافیہ
- وہ ہم آواز الفاظ جو شعر کے آخر میں ردیف سے پہلے آئیں اور جن کا آخری حصہ ملتا ہو۔ اوپر: ادھر / جدھر۔
- ردیف
- وہ لفظ یا الفاظ جو قافیے کے بعد بغیر کسی تبدیلی کے ہر شعر میں دہرائے جائیں۔ اوپر: دیکھا۔ اقبال کی غزل میں "اور بھی ہیں" ردیف ہے۔
- مطلع
- غزل یا قصیدے کا پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ (اور ہم ردیف) ہوں۔ اوپر کا شعر دردؔ کی غزل کا مطلع ہے۔
- مطلعِ ثانی
- مطلع کے فوراً بعد آنے والا دوسرا شعر جس کے دونوں مصرعے بھی ہم قافیہ ہوں۔
- حسنِ مطلع
- مطلع کے بعد کا وہ شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں اور جو مطلع سے زیادہ خوب صورت ہو؛ اکثر مطلعِ ثانی ہی کو حسنِ مطلع کہتے ہیں۔
- مقطع
- غزل کا آخری شعر جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرے۔
- تخلص
- شاعر کا قلمی نام جو وہ مقطع میں لاتا ہے: دردؔ، میرؔ، غالبؔ، اقبالؔ۔
- بند
- مخمس، مسدس، ترکیب بند وغیرہ میں مصرعوں کا ایک گروہ (اسٹینزا)۔
- ٹیپ کا مصرع / شعر
- ترجیع بند یا گیت میں ہر بند کے آخر میں دہرایا جانے والا مصرع یا شعر۔
مثال سے قافیہ اور ردیف
| شعر | قافیہ | ردیف |
|---|---|---|
| ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ... | جہاں، امتحاں | اور بھی ہیں |
| جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا ... | ادھر، جدھر | دیکھا |
Key terms
- حمد
- اللہ تعالیٰ کی تعریف میں نظم۔
- نعت
- حضور اکرم ﷺ کی تعریف میں نظم۔
- منقبت
- صحابہ، اہلِ بیت یا اولیا کی تعریف۔
- قصیدہ
- کسی شخص کی مدح؛ اجزا: تشبیب، گریز، مدح، حسنِ طلب، دعا۔
- ہجو
- کسی کی مذمت یا برائی۔
- مرثیہ
- مرنے والے کا غم اور تعریف؛ اجزا: چہرہ، سراپا، رخصت، آمد، رجز، جنگ، شہادت، بین۔
- مثنوی
- ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ، ہر شعر کا قافیہ نیا؛ مسلسل قصہ۔
- مخمس
- ہر بند میں پانچ مصرعے۔
- مسدس
- ہر بند میں چھے مصرعے۔
- ردیف
- قافیے کے بعد ہو بہو دہرائے جانے والے الفاظ۔
- قافیہ
- ردیف سے پہلے آنے والے ہم آواز الفاظ۔
- مطلع / مطلعِ ثانی
- پہلا شعر / دوسرا ہم قافیہ شعر۔
- مقطع
- آخری شعر جس میں تخلص ہو۔
مختصر سوالات: نمونے کے جوابات
حصہ قواعد کے لیے: تعریف، مثال اور ایک نمایاں شاعر یا اجزا ضرور لکھیں۔
قصیدہ وہ نظم ہے جس میں کسی شخص کی بڑھا چڑھا کر تعریف کی جائے۔ یہ لفظ "قصد" (ارادہ) سے ہے کیونکہ شاعر اسے خاص ارادے سے کہتا ہے۔ اردو کے بڑے قصیدہ گو سودا اور ذوق ہیں۔
اجزا: تشبیب (آغاز)، گریز (مدح کی طرف مڑنا)، مدح (تعریف)، حسنِ طلب (اپنی ضرورت کا بیان) اور دعا۔
مثنوی وہ طویل نظم ہے جس میں کوئی قصہ مسلسل بیان ہو۔ اس کے ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں اور ہر شعر کا قافیہ الگ ہوتا ہے۔
مشہور مثنویاں: میر حسن کی "سحر البیان" اور دیا شنکر نسیم کی "گلزارِ نسیم"۔
غزل: ہر شعر کا مفہوم الگ؛ سارے اشعار ایک قافیہ اور ردیف میں؛ پہلا شعر مطلع اور آخری مقطع۔
مخمس: ہر بند میں پانچ مصرعے۔ مسدس: ہر بند میں چھے مصرعے، جیسے مسدسِ حالی۔
یعنی غزل شعروں سے بنتی ہے اور مخمس و مسدس بندوں سے۔
مطلع: غزل کا پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں، جیسے دردؔ کا: "جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا / تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا"۔
مقطع: غزل کا آخری شعر جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرے۔
کتاب کی مشقوں کے قواعد والے MCQs
درسی کتاب کی مشقوں سے صرف وہ MCQs جو سبق کے متن کے بغیر حل ہو سکتے ہیں، حل اور وجہ کے ساتھ۔
- Aمنقبت
- BحمدAnswer
- Cنعت
- Dشہر آشوب
اللہ کی تعریف حمد، رسول اکرم ﷺ کی نعت اور صحابہ و اولیا کی منقبت کہلاتی ہے۔
Note. کتاب: نظم 4: نثار میں تری گلیوں کے (فیض)، صفحہ 117
- Aفارسی
- Bترکی
- CعربیAnswer
- Dفرانسیسی
قصیدہ عربی لفظ قصد (ارادہ کرنا) سے ہے۔
Note. کتاب: نظم 4: نثار میں تری گلیوں کے (فیض)، صفحہ 117
- Aقصیدہ
- BمرثیہAnswer
- Cمناجات
- Dہجو
مرنے والے کا غم اور اس کے اوصاف کا بیان مرثیہ کہلاتا ہے۔
Note. کتاب: نظم 4: نثار میں تری گلیوں کے (فیض)، صفحہ 117
- Aمنقبت
- Bہجو
- CقصیدہAnswer
- Dمرثیہ
تشبیب، گریز، مدح، حسن طلب اور دعا قصیدے کے اجزا ہیں۔
Note. کتاب: نظم 4: نثار میں تری گلیوں کے (فیض)، صفحہ 118
- Aقصیدہ
- Bشہر آشوب
- Cمرثیہ
- DہجوAnswer
ہجو قصیدے کی ضد ہے: اس میں کسی کی برائی اور مذاق ہوتا ہے۔
Note. کتاب: نظم 4: نثار میں تری گلیوں کے (فیض)، صفحہ 118
- AمثنویAnswer
- Bملی نغمہ
- Cمنقبت
- Dقصیدہ
مثنوی کے ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں مگر ہر شعر کا قافیہ بدل جاتا ہے۔
Note. کتاب: نظم 4: نثار میں تری گلیوں کے (فیض)، صفحہ 118
- AدوAnswer
- Bتین
- Cچار
- Dپانچ
مثنیٰ کا مطلب دو دو ہے؛ اسی سے مثنوی بنا کیونکہ ہر شعر کے دو مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں۔
Note. کتاب: نظم 4: نثار میں تری گلیوں کے (فیض)، صفحہ 118
- AمثنویAnswer
- Bقصیدہ
- Cمنقبت
- Dملی نغمہ
مثنوی میں قافیہ ہر شعر میں بدلتا ہے، اس لیے طویل قصے آسانی سے بیان ہو جاتے ہیں۔
Note. کتاب: نظم 4: نثار میں تری گلیوں کے (فیض)، صفحہ 118
- Aاور بھی ہیںAnswer
- Bاور
- Cاور بھی
- Dبھی ہیں
قافیہ (جہاں، امتحاں) کے بعد ہر شعر میں "اور بھی ہیں" دہرایا جاتا ہے۔
Note. کتاب: غزل 3: اقبال، صفحہ 151
- Aردیف
- Bمحاورہ
- Cذو معانی الفاظ
- DقافیہAnswer
قافیہ کے معنی پیچھے آنے والا؛ شعر میں ہم آواز الفاظ قافیہ کہلاتے ہیں۔
Note. کتاب: غزل 4: محسن احسان، صفحہ 157
- AردیفAnswer
- Bروزمرہ
- Cمتشابہات
- Dہم آواز الفاظ
قافیہ کے بعد جوں کے توں دہرائے جانے والے الفاظ ردیف ہیں۔
Note. کتاب: غزل 4: محسن احسان، صفحہ 157
- AمردفAnswer
- Bغیر مردف
- Cمسجع
- Dبے وزن
ردیف والی غزل مردف اور بغیر ردیف کی غزل غیر مردف کہلاتی ہے۔
Note. کتاب: غزل 4: محسن احسان، صفحہ 157
- AپہلاAnswer
- Bدوسرا
- Cدرمیان کا
- Dآخری
مطلع کے معنی طلوع ہونے کی جگہ؛ غزل کا پہلا شعر۔ آخری شعر مقطع ہے۔
Note. کتاب: غزل 4: محسن احسان، صفحہ 157
- Aآنکھوں، نشاط
- Bڈال، وصال، سالAnswer
- Cخواب، مجھے
- Dدے، دے
ڈال، وصال، سال ہم آواز ہیں اور ان کے بعد "دے" ردیف ہے۔
Note. کتاب: غزل 4: محسن احسان، صفحہ 157
- Aقصیدہ
- Bشہر آشوب
- CغزلAnswer
- Dمثنوی
غزل کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا یا ان کے حسن و عشق کا ذکر ہیں۔
Note. کتاب: غزل 4: محسن احسان، صفحہ 157
- Aمرثیہ
- Bقصیدہ
- Cشہر آشوب
- DغزلAnswer
غزل کا ہر شعر اپنا مضمون الگ رکھتا ہے؛ باقی اصناف ایک موضوع پر مسلسل ہوتی ہیں۔
Note. کتاب: غزل 5: ادا جعفری، صفحہ 164
FBISE 2026 and model paper questions
Questions from the FBISE HSSC-II model paper (Assessment Framework 2022-23) and FBISE HSSC-II 2026 (1st Annual) papers that belong to this unit, answered the way an examiner expects.
- AمثنویAnswer
- Bقصیدہ
- Cمنقبت
- Dملی نغمہ
مثنوی میں ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں مگر ہر شعر کا قافیہ نیا ہوتا ہے۔
- Aمصرعِ ثانیAnswer
- Bمصرعِ اولیٰ
- Cمصرع
- Dمصرعِ اعلیٰ
شعر کی دوسری سطر مصرعِ ثانی ہے۔
- Aمسدس
- BمخمسAnswer
- Cرباعی
- Dمثلث
خمس یعنی پانچ؛ پانچ مصرعوں کے بند والی نظم مخمس ہے۔
- Aہجو
- Bمثنوی
- Cمرثیہ
- DقصیدہAnswer
حسنِ طلب قصیدے کا جز ہے جس میں شاعر اپنی ضرورت بیان کرتا ہے۔
- AردیفAnswer
- Bہم آواز الفاظ
- Cمتشابہات
- Dذو معنی الفاظ
قافیے کے بعد ہر شعر میں جوں کے توں آنے والے الفاظ ردیف ہیں۔
- Aآخری
- Bتیسرا
- CدوسراAnswer
- Dپہلا
مطلع کے بعد کا یعنی دوسرا شعر مطلعِ ثانی ہے۔
مرثیہ: "مرثیہ" عربی لفظ "رثا" سے ہے جس کے معنی ہیں مرنے والے کو یاد کر کے رونا۔ اصطلاح میں مرثیہ وہ نظم ہے جس میں کسی مرنے والے کی خوبیاں بیان کی جائیں اور اس کی موت پر غم اور حسرت کا اظہار کیا جائے۔ اردو میں زیادہ تر مرثیے واقعۂ کربلا اور حضرت امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کی شہادت پر لکھے گئے ہیں۔ میر انیس اور مرزا دبیر اردو کے سب سے بڑے مرثیہ نگار ہیں، اور اردو مرثیہ عموماً مسدس کی ہیئت میں لکھا جاتا ہے۔
مرثیے کے اجزا: چہرہ، سراپا، رخصت، آمد، رجز، جنگ، شہادت اور بین۔ (کوئی سے دو لکھنے ہوں تو مثلاً: چہرہ، یعنی مرثیے کا آغاز اور تمہید؛ بین، یعنی شہادت کے بعد عزیزوں کا رونا اور ماتم۔)
- Aمصرعِ اعلیٰ
- Bمصرعِ اولیٰAnswer
- Cمصرعِ صغریٰ
- Dمصرعِ ثانی
اولیٰ یعنی پہلا: پہلی سطر مصرعِ اولیٰ ہے۔ "اعلیٰ" اور "صغریٰ" دھوکے کے الفاظ ہیں۔
- Aتین
- BپانچAnswer
- Cچھے
- Dچار
مخمس کے ہر بند میں پانچ مصرعے ہوتے ہیں۔
- AقصیدہAnswer
- Bہجو
- Cمثنوی
- Dمرثیہ
گریز قصیدے کا وہ جز ہے جہاں شاعر تشبیب سے مدح کی طرف مڑتا ہے۔
- Aذو معنی الفاظ
- BردیفAnswer
- Cہم آواز الفاظ
- Dمتشابہات
ردیف قافیے کے بعد بغیر تبدیلی کے دہرائی جاتی ہے۔
- Aپہلا
- Bآخری
- Cتیسرا
- DدوسراAnswer
مطلعِ ثانی دوسرا شعر ہے؛ پہلا مطلع اور آخری مقطع ہے۔
- AردیفAnswer
- Bحروفِ علت
- Cحروفِ تشبیہ
- Dمتضاد
یہی ردیف کی تعریف ہے۔
- Aمطلع
- Bمطلعِ ثانی
- CمقطعAnswer
- Dٹیپ کا شعر
آخری شعر جس میں تخلص ہو مقطع کہلاتا ہے۔
- Aملی نظم / ملی نغمہAnswer
- Bدعا / مناجات
- Cقصیدہ
- Dہجو
وطن سے محبت اور قومی جذبہ ملی نظم یا ملی نغمے کا موضوع ہے۔
- Aہجو
- Bمثنوی
- Cمرثیہ
- DقصیدہAnswer
تشبیب قصیدے کا ابتدائی حصہ ہے۔
حمد: "حمد" کے معنی تعریف کے ہیں۔ اصطلاح میں وہ نظم جس میں اللہ تعالیٰ کی تعریف، اس کی صفات، قدرت، رحمت اور عظمت کا بیان ہو، حمد کہلاتی ہے۔ اردو شاعروں نے اپنے دیوان کا آغاز عموماً حمد سے کیا ہے۔ مثال: "کعبے کی رونق کعبے کا منظر، اللہ اکبر اللہ اکبر"۔
نعت: وہ نظم جس میں حضور اکرم ﷺ کی تعریف، آپ ﷺ کی سیرت، اخلاق، معجزات اور آپ ﷺ سے محبت کا اظہار کیا جائے، نعت کہلاتی ہے۔ نعت میں ادب و احترام بنیادی شرط ہے۔ مثال: "کریم ایسے کہ انعام کرتے جاتے ہیں / جواد ایسے کہ نعمت کو کم نہیں کرتے"۔
- AقصیدہAnswer
- Bہجو
- Cمناجات
- Dمنقبت
"قصیدہ" "قصد" یعنی ارادے سے ہے: شاعر کسی کی مدح کے خاص ارادے سے لکھتا ہے۔
- Aرباعی کا
- Bغزل کاAnswer
- Cمثنوی کا
- Dمنقبت کا
غزل کا ہر شعر مفہوم کے لحاظ سے الگ اور مکمل ہوتا ہے۔ مثنوی میں ایک ہی قصہ مسلسل چلتا ہے۔
- Aمصرعِ اولیٰ
- Bمصرعِ ثانیAnswer
- Cٹیپ کا مصرع
- Dترکیب کا مصرع
ثانی یعنی دوسرا: دوسرا مصرع مصرعِ ثانی ہے۔
- Aچار
- Bپانچ
- CچھےAnswer
- Dسات
مسدس کا مطلب ہی چھے والا ہے۔
- AمرثیہAnswer
- Bہجو
- Cمنقبت
- Dقصیدہ
مرنے والے کا غم اور تعریف مرثیے کا موضوع ہے۔
Exam focus
- مرثیے کی تعریف اور دو اجزا (short)ماڈل پیپر اور سیٹ B، D میں حصہ قواعد کا پہلا سوال۔Go to answer
- حمد اور نعت کی تعریف (short)سیٹ A کا حصہ قواعد۔Go to answer
- قصیدے کے اجزا: تشبیب، گریز، حسنِ طلب (mcq)تینوں 2026 سیٹس میں۔Go to answer
- مخمس اور مسدس کے مصرعوں کی تعداد (mcq)ہر پرچے میں ایک MCQ۔Go to answer
- ردیف، مقطع، مطلعِ ثانی، مصرعِ اولیٰ و ثانی (mcq)ہر سیٹ میں دو سے تین MCQs۔Go to answer