FBISE paper questions
Set B
- AمحاورہAnswer
- Bضرب المثل
- Cکہاوت
- Dامدادی فعل
یہ ٹکڑا مصدر "کرنا" پر ختم ہوتا ہے اور اپنے لغوی معنی کے بجائے مجازی معنی (بہت بلند ہونا) دیتا ہے، اس لیے محاورہ ہے۔
- Aمثنیہ
- Bجمع الجمعAnswer
- Cجمع مکسر
- Dجمع سالم
جمع کی دوبارہ جمع بنائی جائے (وجوہ سے وجوہات) تو وہ جمع الجمع کہلاتی ہے۔
- Aعطف
- Bاضافت
- CتردیدAnswer
- Dعلت
"یا"، "خواہ"، "چاہے" جیسے حروف دو باتوں میں سے ایک کا اختیار دیتے ہیں، یہ حروفِ تردید ہیں۔
- Aغیر حقیقی فعل
- Bاصل فعل
- Cپہلا فعل
- Dدوسرا فعلAnswer
مرکب مصدر میں پہلا فعل اصل فعل اور دوسرا امدادی فعل ہوتا ہے (گر پڑا: پڑا امدادی)۔
- Aسایۂ دیوارAnswer
- Bان گنت
- Cبے نام
- Dخاطر خواہ
"سایۂ دیوار" (دیوار کا سایہ) میں ہمزۂ اضافت ہے، یہ ترکیبِ اضافی ہے۔ "ان گنت" اور "بے نام" سابقوں سے بنے ہیں اور "خاطر خواہ" ایک صفت ہے۔
- Aرسمی خط
- Bترچھا خطAnswer
- Cغیر رسمی خط
- Dدفتری خط
حوالہ نمبر جیسے ف/12/2026 میں ترچھا خط (/) لگتا ہے۔ باقی تین خطوط کی قسمیں ہیں، علامتیں نہیں۔
- Aوجہات
- Bوجوہ
- CوجوہاتAnswer
- Dتوجیہات
وجہ کی جمع مکسر "وجوہ" ہے اور اس کی پھر جمع "وجوہات"، اس لیے وجوہات جمع الجمع ہے۔ "وجوہ" صرف جمع ہے۔
- Aمحاورہ
- Bضرب المثل
- Cمصدر
- Dمرکب مصدرAnswer
دو مصادر مل کر (گر پڑنا، لکھ لینا) مرکب مصدر بناتے ہیں۔
- AمثنویAnswer
- Bقصیدہ
- Cمنقبت
- Dملی نغمہ
مثنوی میں ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں مگر ہر شعر کا قافیہ نیا ہوتا ہے۔
- Aرعایتِ لفظی
- BمبالغہAnswer
- Cحسنِ تعلیل
- Dتلمیح
حد سے بڑھا کر تعریف یا مذمت مبالغہ ہے۔
- Aاندھادھند
- Bتقلید
- CمغربAnswer
- Dمناسب
"مغرب" کے دو معنی ہیں: مغربی دنیا اور سورج ڈوبنے کا وقت (نمازِ مغرب)۔
- Aصنعتِ حسنِ تعلیل کی
- Bصنعتِ تضاد کی
- Cصنعتِ تکرار کی
- Dصنعتِ رعایتِ لفظی کیAnswer
"عارضی" کا مطلب چند روزہ ہے مگر "عارض" رخسار کو بھی کہتے ہیں جو "رخسار" سے مناسبت رکھتا ہے: رعایتِ لفظی۔
- Aمصرعِ ثانیAnswer
- Bمصرعِ اولیٰ
- Cمصرع
- Dمصرعِ اعلیٰ
شعر کی دوسری سطر مصرعِ ثانی ہے۔
- Aمسدس
- BمخمسAnswer
- Cرباعی
- Dمثلث
خمس یعنی پانچ؛ پانچ مصرعوں کے بند والی نظم مخمس ہے۔
- Aدن، رات
- Bروز، شب
- Cسدا، صداAnswer
- Dفنا، بقا
سدا (ہمیشہ) اور صدا (آواز) کی آواز ایک ہے، املا اور معنی الگ۔ باقی تینوں جوڑے متضاد ہیں۔
- Aہجو
- Bمثنوی
- Cمرثیہ
- DقصیدہAnswer
حسنِ طلب قصیدے کا جز ہے جس میں شاعر اپنی ضرورت بیان کرتا ہے۔
- AردیفAnswer
- Bہم آواز الفاظ
- Cمتشابہات
- Dذو معنی الفاظ
قافیے کے بعد ہر شعر میں جوں کے توں آنے والے الفاظ ردیف ہیں۔
- A:
- B:-Answer
- C!
- D" "
تفصیل یا فہرست سے پہلے تفصیلیہ (:-) آتی ہے۔ اکیلا (:) رابطہ ہے۔
- Aآخری
- Bتیسرا
- CدوسراAnswer
- Dپہلا
مطلع کے بعد کا یعنی دوسرا شعر مطلعِ ثانی ہے۔
- Aمثل
- Bتاکہ
- Cبلکہ
- DاگرچہAnswer
"اگرچہ" شرط کے معنی دیتا ہے۔ "مثل" تشبیہ، "تاکہ" علت اور "بلکہ" اضراب ہے۔
استعجابیہ (!): یہ علامت حیرت، خوشی، غم، افسوس، نفرت یا پکار جیسے جذبات ظاہر کرنے والے لفظ یا جملے کے بعد لگائی جاتی ہے۔ اسے ندائیہ یا فجائیہ بھی کہتے ہیں۔
مثالیں: واہ! کیا خوب صورت منظر ہے۔ / افسوس! وہ امتحان میں ناکام ہو گیا۔ / اے خدا! ہم پر رحم فرما۔
ان جملوں میں "واہ"، "افسوس" اور "اے خدا" جذبات ظاہر کر رہے ہیں، اس لیے ان کے بعد (!) لگائی گئی۔
مرثیہ: "مرثیہ" عربی لفظ "رثا" سے ہے جس کے معنی ہیں مرنے والے کو یاد کر کے رونا۔ اصطلاح میں مرثیہ وہ نظم ہے جس میں کسی مرنے والے کی خوبیاں بیان کی جائیں اور اس کی موت پر غم اور حسرت کا اظہار کیا جائے۔ اردو میں زیادہ تر مرثیے واقعۂ کربلا اور حضرت امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کی شہادت پر لکھے گئے ہیں۔ میر انیس اور مرزا دبیر اردو کے سب سے بڑے مرثیہ نگار ہیں، اور اردو مرثیہ عموماً مسدس کی ہیئت میں لکھا جاتا ہے۔
مرثیے کے اجزا: چہرہ، سراپا، رخصت، آمد، رجز، جنگ، شہادت اور بین۔ (کوئی سے دو لکھنے ہوں تو مثلاً: چہرہ، یعنی مرثیے کا آغاز اور تمہید؛ بین، یعنی شہادت کے بعد عزیزوں کا رونا اور ماتم۔)
تلمیح کے لغوی معنی ہیں اشارہ کرنا۔ اصطلاح میں شعر میں کسی تاریخی، مذہبی یا مشہور واقعے، قصے یا شخصیت کی طرف ایک دو لفظوں میں اشارہ کرنا کہ پورا واقعہ ذہن میں آ جائے، صنعتِ تلمیح کہلاتا ہے۔
وضاحت: "آتشِ نمرود" سے حضرت ابراہیمؑ کا وہ واقعہ ذہن میں آتا ہے جب نمرود نے انھیں آگ میں ڈالا اور وہ اللہ پر یقین کے سبب بے خوف آگ میں چلے گئے۔ شاعر نے دو لفظوں میں پورے واقعے کی طرف اشارہ کر دیا، یہی تلمیح ہے۔
- (i)جگ میں آکر شاعر کس نتیجے پر پہنچا؟
شاعر نے دنیا میں آ کر ہر طرف دیکھا تو اس نتیجے پر پہنچا کہ کائنات کی ہر چیز میں اللہ تعالیٰ ہی کا جلوہ ہے؛ اسے جدھر بھی نظر کی، اللہ ہی نظر آیا۔ یہ تصوف کا نظریہ وحدت الوجود ہے جو صوفی شاعر درد کی شاعری کی پہچان ہے۔
اس سوال کا مکمل جواب اوپر کے حصوں میں ہے: شعر 4، شعر 6، شعر 7۔ ہر شعر کے لیے مفہوم، تشریح اور شعری محاسن لکھیں۔
اس سوال کا مکمل جواب اوپر کے حصوں میں ہے: شعر 1، شعر 3، شعر 5۔ ہر شعر کے لیے مفہوم، تشریح اور شعری محاسن لکھیں۔
Set D
- Aجب تکAnswer
- Bمثل
- Cتاکہ
- Dبلکہ
"جب تک" شرط کے معنی دیتا ہے (جب تک محنت نہیں کرو گے، کامیاب نہیں ہو گے)۔ باقی تین تشبیہ، علت اور اضراب ہیں۔
- Aامدادی فعل
- BمحاورہAnswer
- Cضرب المثل
- Dکہاوت
مجازی معنی (بہت دنوں بعد نظر آنا) اور آخر میں مصدر "ہونا": یہ محاورہ ہے۔
- Aجمع اضافی
- Bجمع سالم
- Cجمع مکسرAnswer
- Dجمع الجمع
"مکسر" یعنی ٹوٹا ہوا: جب واحد کی شکل ٹوٹ جائے (علم سے علوم) تو جمع مکسر ہے۔
- Aعلت
- Bاضافت
- Cاضراب
- DعطفAnswer
ملانے کا کام (اور، و، پھر) حروفِ عطف کرتے ہیں۔ اضافت تعلق بتاتی ہے، ملاتی نہیں۔
- Aاصل فعلAnswer
- Bمحاورہ
- Cمعاون فعل
- Dامدادی فعل
پہلا فعل اصل کام بتاتا ہے، اس لیے اصل فعل ہے۔ معاون فعل اور امدادی فعل ایک ہی چیز (دوسرا فعل) کے دو نام ہیں۔
- Aخاطر خواہ
- Bاہلِ جنوںAnswer
- Cبے نام
- Dان گنت
"اہلِ جنوں" میں زیرِ اضافت ہے (جنوں والے)، یہ ترکیبِ اضافی ہے۔
- Aدفتری خط
- Bرسمی خط
- Cترچھا خطAnswer
- Dغیر رسمی خط
ترچھا خط (/) حوالہ نمبر اور تاریخ لکھنے میں استعمال ہوتا ہے۔
- AآثاراتAnswer
- Bاثروں
- Cآثار
- Dاثرات
اثر کی جمع مکسر "آثار" ہے اور آثار کی جمع "آثارات"، یعنی جمع الجمع۔ "اثرات" اثر کے ساتھ "ات" لگا کر بنی جمع سالم ہے اور "آثار" صرف جمع مکسر۔
Note. کچھ کتابیں "اثرات" کو بھی جمع الجمع لکھ دیتی ہیں، مگر قاعدے کی رو سے اثر سے آثار اور آثار سے آثارات ہی جمع الجمع ہے۔
- Aتلمیح
- Bرعایتِ لفظی
- CمبالغہAnswer
- Dحسنِ تعلیل
بعید از قیاس یعنی عقل سے دور: یہ مبالغہ ہے۔
- Aانسان
- Bسچی
- Cکامیابی
- DلگنAnswer
"لگن" کے دو معنی ہیں: شوق اور دھن، اور تسلا (بڑا برتن)۔
- Aصنعتِ رعایتِ لفظی کیAnswer
- Bصنعتِ حسنِ تعلیل کی
- Cصنعتِ تضاد کی
- Dصنعتِ تکرار کی
رخسار اور عارضی (عارض) کی مناسبت رعایتِ لفظی ہے۔
- Aمصرعِ اعلیٰ
- Bمصرعِ اولیٰAnswer
- Cمصرعِ صغریٰ
- Dمصرعِ ثانی
اولیٰ یعنی پہلا: پہلی سطر مصرعِ اولیٰ ہے۔ "اعلیٰ" اور "صغریٰ" دھوکے کے الفاظ ہیں۔
- Aتین
- BپانچAnswer
- Cچھے
- Dچار
مخمس کے ہر بند میں پانچ مصرعے ہوتے ہیں۔
- Aفنا، بقا
- Bگل، گلزار
- Cصبح، شام
- Dالم، علمAnswer
الم (دکھ) اور علم (جھنڈا یا جاننا) ہم آواز ہیں مگر املا اور معنی مختلف۔
- AقصیدہAnswer
- Bہجو
- Cمثنوی
- Dمرثیہ
گریز قصیدے کا وہ جز ہے جہاں شاعر تشبیب سے مدح کی طرف مڑتا ہے۔
- Aذو معنی الفاظ
- BردیفAnswer
- Cہم آواز الفاظ
- Dمتشابہات
ردیف قافیے کے بعد بغیر تبدیلی کے دہرائی جاتی ہے۔
- A" "
- B!
- C:Answer
- D:-
ٹھہراؤ کی ترتیب: سکتہ (،)، وقفہ (؛)، رابطہ (:)، ختمہ (۔)۔ وقفے سے زیادہ ٹھہراؤ رابطہ (:) کا ہے۔
- Aپہلا
- Bآخری
- Cتیسرا
- DدوسراAnswer
مطلعِ ثانی دوسرا شعر ہے؛ پہلا مطلع اور آخری مقطع ہے۔
تفصیلیہ (:-): جب کسی بات کے بعد اس کی تفصیل، اجزا یا فہرست بیان کرنی ہو تو یہ علامت لگائی جاتی ہے۔ عموماً "درج ذیل"، "مندرجہ ذیل" اور "حسبِ ذیل" کے بعد آتی ہے۔
مثال: پاکستان کے چار صوبے یہ ہیں:- پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان۔
فرق: رابطہ (:) صرف کسی قول یا ایک بات سے پہلے آتا ہے، تفصیلیہ (:-) پوری فہرست سے پہلے۔
حسنِ تعلیل یعنی خوب صورت وجہ۔ اصطلاح میں کسی بات کی ایسی شاعرانہ وجہ بیان کرنا جو حقیقت میں اس کی وجہ نہ ہو مگر دل کش اور خیال انگیز ہو، حسنِ تعلیل کہلاتا ہے۔
وضاحت: پھول کے اندر زرد زردانے قدرتی طور پر ہوتے ہیں۔ شاعر اس کی وجہ یہ بتاتا ہے کہ قارون کا خزانہ زمین میں دھنستے ہوئے راستے میں لٹ گیا، اسی لیے ہر پھول مٹھی میں سونا لیے نکلتا ہے۔ یہ وجہ حقیقی نہیں بلکہ شاعرانہ ہے۔
- (i)محبوب کے آنکھ اٹھا کر دیکھنے کا کیا نتیجہ نکلا؟
محبوب نے جس طرف بھی آنکھ بھر کر دیکھا، وہاں عاشقوں کے بدن جان سے خالی ہو گئے؛ یعنی وہ اس کے حسن اور جلوے کی تاب نہ لا سکے اور جان دے بیٹھے۔
اس سوال کا مکمل جواب اوپر کے حصوں میں ہے: شعر 4، شعر 5، شعر 6۔ ہر شعر کے لیے مفہوم، تشریح اور شعری محاسن لکھیں۔
اس سوال کا مکمل جواب اوپر کے حصوں میں ہے: شعر 4، شعر 5، شعر 6۔ ہر شعر کے لیے مفہوم، تشریح اور شعری محاسن لکھیں۔
Set A
- AردیفAnswer
- Bحروفِ علت
- Cحروفِ تشبیہ
- Dمتضاد
یہی ردیف کی تعریف ہے۔
- A" "
- B!Answer
- C:-
- D:
حیرت جذبہ ہے، اس پر استعجابیہ (!) آتی ہے۔
- Aمطلع
- Bمطلعِ ثانی
- CمقطعAnswer
- Dٹیپ کا شعر
آخری شعر جس میں تخلص ہو مقطع کہلاتا ہے۔
- Aمثل
- Bتاکہ
- Cبلکہ
- DاگرAnswer
"اگر" سب سے عام حرفِ شرط ہے۔
- AمحاورہAnswer
- Bضرب المثل
- Cکہاوت
- Dامدادی فعل
"آب آب ہونا" یعنی شرم سے پانی پانی ہو جانا؛ مجازی معنی اور مصدر پر اختتام، اس لیے محاورہ۔
- Aجمع مکسر
- Bجمع سالمAnswer
- Cجمع الجمع
- Dجمع اضافی
واحد کی شکل سلامت رہے اور صرف آخر میں حروف بڑھیں (خیال سے خیالات) تو جمع سالم ہے۔
- Aاضراب
- Bعطف
- CاضافتAnswer
- Dعلت
"کا، کی، کے" ایک اسم کا دوسرے سے تعلق ظاہر کرتے ہیں (علی کا گھر)، یہ حروفِ اضافت ہیں۔
- Aضرب المثل
- Bمحاورہ
- Cاصل فعل
- Dامدادی فعلAnswer
دوسرا فعل پہلے کی مدد کرتا ہے، اس لیے امدادی فعل ہے۔
- Aاہلِ وطنAnswer
- Bبے نام
- Cان گنت
- Dخاطر خواہ
"اہلِ وطن" (وطن کے لوگ) زیرِ اضافت سے بنی ترکیبِ اضافی ہے۔
- A:
- B؟Answer
- C!
- D:-
استفہام یعنی سوال؛ سوالیہ جملے کے آخر میں (؟) لگتی ہے۔
- Aنادروں
- Bنوادر
- CنوادراتAnswer
- Dنادرات
نادر سے نوادر (جمع مکسر) اور نوادر سے نوادرات (جمع الجمع)۔
- Aوہ سویا۔
- Bوہ بھاگا۔
- Cوہ رکا نہیں۔
- Dوہ گر پڑا۔Answer
"گر پڑا" دو فعلوں (گر + پڑا) سے بنا ہے؛ باقی جملوں میں ایک ہی فعل ہے۔
- Aملی نظم / ملی نغمہAnswer
- Bدعا / مناجات
- Cقصیدہ
- Dہجو
وطن سے محبت اور قومی جذبہ ملی نظم یا ملی نغمے کا موضوع ہے۔
- Aرعایتِ لفظی
- BتلمیحAnswer
- Cحسنِ تعلیل
- Dمبالغہ
تاریخی واقعے یا شخصیت کی طرف اشارہ تلمیح ہے۔
- Aقیمتی
- Bگم
- CہارAnswer
- Dگیا
"ہار" کے دو معنی: گلے کا زیور اور شکست۔
- Aصنعتِ حسنِ تعلیل
- Bصنعتِ تضاد
- Cصنعتِ رعایتِ لفظی
- Dصنعتِ تکرارAnswer
"پتا پتا" اور "بوٹا بوٹا" میں لفظ دہرایا گیا ہے: صنعتِ تکرار۔
- AاگرAnswer
- Bتم
- Cمحنت
- Dکامیاب
"اگر" شرط ظاہر کرتا ہے؛ "تو" اس کا جزا والا حرف ہے۔ باقی اختیارات اسم یا ضمیر ہیں۔
- Aارض، سما
- Bفنا، بقا
- Cارض، عرضAnswer
- Dگل، گلزار
ارض (زمین) اور عرض (چوڑائی یا گزارش) سننے میں ایک جیسے ہیں: متشابہ جوڑا۔
- Aہجو
- Bمثنوی
- Cمرثیہ
- DقصیدہAnswer
تشبیب قصیدے کا ابتدائی حصہ ہے۔
رابطہ (:): یہ علامت وقفے سے زیادہ اور ختمے سے کم ٹھہراؤ ظاہر کرتی ہے۔ کسی کا قول نقل کرنے سے پہلے، یا جب پہلا حصہ دوسرے حصے کی وضاحت سے جڑا ہو تو لگائی جاتی ہے۔
مثالیں: قائدِ اعظم نے فرمایا: "کام، کام اور بس کام۔" / استاد نے کہا: "وقت کی پابندی کرو۔"
ان جملوں میں "فرمایا" اور "کہا" کے بعد قول شروع ہو رہا ہے، اس لیے وہاں (:) لگایا گیا۔
حمد: "حمد" کے معنی تعریف کے ہیں۔ اصطلاح میں وہ نظم جس میں اللہ تعالیٰ کی تعریف، اس کی صفات، قدرت، رحمت اور عظمت کا بیان ہو، حمد کہلاتی ہے۔ اردو شاعروں نے اپنے دیوان کا آغاز عموماً حمد سے کیا ہے۔ مثال: "کعبے کی رونق کعبے کا منظر، اللہ اکبر اللہ اکبر"۔
نعت: وہ نظم جس میں حضور اکرم ﷺ کی تعریف، آپ ﷺ کی سیرت، اخلاق، معجزات اور آپ ﷺ سے محبت کا اظہار کیا جائے، نعت کہلاتی ہے۔ نعت میں ادب و احترام بنیادی شرط ہے۔ مثال: "کریم ایسے کہ انعام کرتے جاتے ہیں / جواد ایسے کہ نعمت کو کم نہیں کرتے"۔
مراعات النظیر یعنی ملتی جلتی چیزوں کا خیال رکھنا۔ اصطلاح میں شعر میں ایسی چیزوں کا ذکر کرنا جو ایک ہی سلسلے یا ماحول سے تعلق رکھتی ہوں اور ان میں تضاد نہ ہو، صنعتِ مراعات النظیر کہلاتا ہے۔
وضاحت: دہقاں (کسان)، دانہ، کھیتی، باراں (بارش) اور حاصل (فصل) سب کھیتی باڑی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک ہی ماحول کی ان چیزوں کو ایک شعر میں جمع کرنا مراعات النظیر ہے۔
اس سوال کا مکمل جواب اوپر کے حصوں میں ہے: شعر 1، شعر 2، شعر 4۔ ہر شعر کے لیے مفہوم، تشریح اور شعری محاسن لکھیں۔
اس سوال کا مکمل جواب اوپر کے حصوں میں ہے: شعر 1، شعر 2، شعر 5۔ ہر شعر کے لیے مفہوم، تشریح اور شعری محاسن لکھیں۔
Model paper
- Aتلمیح
- Bرعایتِ لفظی
- Cمبالغہ
- DتکرارAnswer
"تو" اور "بھی تو" بار بار دہرایا گیا ہے، اس لیے دیے گئے اختیارات میں صنعتِ تکرار ہے۔
Note. اس شعر میں مراعات النظیر بھی ہے (دہقاں، دانہ، کھیتی، باراں، حاصل) مگر وہ اختیارات میں نہیں تھی۔
- Aمہربانو
- Bدبلا پتلا
- Cعروج و زوال
- Dقہرِ داراAnswer
"قہرِ دارا" (دارا کا قہر) زیرِ اضافت والی ترکیبِ اضافی ہے۔ "دبلا پتلا" مرکبِ تابع ہے اور "مہربانو" ایک اسم۔
Note. "عروج و زوال" بھی ترکیبِ عطفی ہے؛ بورڈ کی کلید شائع نہیں ہوئی۔ 2026 کے پرچوں میں ہر بار زیرِ اضافت والی ترکیب درست جواب تھی، اس لیے "قہرِ دارا" محفوظ انتخاب ہے۔
- Aحروفِ علت
- Bحروفِ اضراب
- Cحروفِ تردیدAnswer
- Dحروفِ بیان
دو باتوں میں سے ایک کا اختیار (یا، خواہ، چاہے) حروفِ تردید کا کام ہے۔
- AقصیدہAnswer
- Bہجو
- Cمناجات
- Dمنقبت
"قصیدہ" "قصد" یعنی ارادے سے ہے: شاعر کسی کی مدح کے خاص ارادے سے لکھتا ہے۔
- Aفنا، بقا
- Bبے باک، بے باقAnswer
- Cنمودِ صبح
- Dنظریۂ پاکستان
بے باک (نڈر) اور بے باق (چکتا، ادا شدہ) سننے میں ایک جیسے ہیں مگر املا اور معنی الگ: یہ متشابہات ہیں۔ فنا، بقا متضاد ہیں۔
- Aمحاورہ
- Bمصدر
- CروزمرہAnswer
- Dحرف
روزمرہ اہلِ زبان کی بول چال کا انداز ہے اور زمانے کے ساتھ ان کے اسلوب کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔ محاورے کے الفاظ بدلے نہیں جا سکتے۔
- Aفارسی
- Bاردو
- Cترکی
- DعربیAnswer
"شعر" عربی لفظ ہے؛ اسی لیے اس کی جمع عربی قاعدے سے "اشعار" (جمع مکسر) بنتی ہے۔
- Aامدادی فعل
- Bمرکب مصدرAnswer
- Cحروف
- Dاصل فعل
اسم اور مصدر مل کر مرکب مصدر بناتے ہیں، جیسے یاد کرنا، کام کرنا۔
- Aتضاد
- Bحسنِ تعلیل
- CتلمیحAnswer
- Dمبالغہ آرائی
تینوں مشہور قصوں (جمشید، فرہاد، حضرت ابراہیمؑ) کی طرف اشارہ ہیں، اس لیے تلمیح۔
- Aذو معنیAnswer
- Bتذکیر و تانیث
- Cجمع مکسر
- Dمتشابہ
ذو معنی کا مطلب ہی دو معنی والا ہے۔ متشابہ میں دو الگ الفاظ ہوتے ہیں جن کا املا الگ ہو۔
- Aــ
- BعAnswer
- C!
- Dؔ
ایک مصرع نقل کرنے سے پہلے "ع" لکھا جاتا ہے؛ پورا شعر ہو تو "؎"۔
- Aرباعی کا
- Bغزل کاAnswer
- Cمثنوی کا
- Dمنقبت کا
غزل کا ہر شعر مفہوم کے لحاظ سے الگ اور مکمل ہوتا ہے۔ مثنوی میں ایک ہی قصہ مسلسل چلتا ہے۔
- Aمصرعِ اولیٰ
- Bمصرعِ ثانیAnswer
- Cٹیپ کا مصرع
- Dترکیب کا مصرع
ثانی یعنی دوسرا: دوسرا مصرع مصرعِ ثانی ہے۔
- Aچار
- Bپانچ
- CچھےAnswer
- Dسات
مسدس کا مطلب ہی چھے والا ہے۔
- Aساخت کیAnswer
- Bاملا کی
- Cمحاورہ کی
- Dضرب المثل کی
سارے الفاظ درست ہیں، صرف ترتیب غلط ہے: "مجھ سے اس کا غم دیکھا نہیں جاتا۔" لفظوں کی ترتیب کی غلطی ساخت کی غلطی ہے۔
- Aجمع سالم
- Bجمع مکسرAnswer
- Cجمع الجمع
- Dاسمِ جمع
دونوں میں واحد کی شکل ٹوٹ گئی ہے (حروف کی ترتیب اور حرکات بدل گئیں)، اس لیے جمع مکسر۔
- Aرعایتِ لفظی
- Bحسنِ تعلیلAnswer
- Cمراعات النظیر
- Dمبالغہ آرائی
غیر حقیقی مگر خوب صورت وجہ بیان کرنا حسنِ تعلیل ہے۔
- AمرثیہAnswer
- Bہجو
- Cمنقبت
- Dقصیدہ
مرنے والے کا غم اور تعریف مرثیے کا موضوع ہے۔
- Aشرط
- BتردیدAnswer
- Cبیان
- Dعلت
"نہیں" انکار ظاہر کرتا ہے۔ دیے گئے اختیارات میں انکار کے سب سے قریب تردید ہے، اس لیے یہی جواب ہے۔
Note. اصطلاحی طور پر "نہیں" حرفِ نفی ہے؛ اختیارات میں نفی نہ ہونے کی وجہ سے تردید درست مانا جاتا ہے۔ بورڈ کی کلید شائع نہیں ہوئی۔
- A!Answer
- B" "
- C( )
- D:-
خوشی، غم، حیرت جیسے جذبات پر ندائیہ یا استعجابیہ علامت (!) لگتی ہے۔
(1) سچ ہے، اتفاق میں برکت ہے۔ (سکتہ اور ختمہ)
(2) دودھ پینے کے درج ذیل فوائد ہیں:- (تفصیلیہ)
(3) اف! آج کس قدر گرمی ہے۔ (استعجابیہ اور ختمہ)
(1) صنعتِ تکرار: "آتے آتے" اور "جاتے جاتے" میں الفاظ دہرائے گئے ہیں۔
(2) صنعتِ مبالغہ: گرمی کو اتنا بڑھا کر بیان کیا کہ زمین سرخ اور آسمان زرد ہو گیا۔
(3) صنعتِ حسنِ تعلیل: پھول کے زردانوں کی شاعرانہ وجہ قارون کا لٹا ہوا خزانہ بتائی گئی (قارون کے ذکر میں تلمیح بھی ہے)۔
- (i)دیے گئے نظمیہ بند میں "میزابِ رحمت" کی وضاحت کیجیے۔
- (ii)شاعر کو حیرت کا سامنا کیوں ہے؟
- (iii)شاعر غلافِ کعبہ پکڑ کر کیوں رویا؟ (یا: پہلے شعر کا مفہوم اپنے الفاظ میں لکھیں)
"میزابِ رحمت" خانہ کعبہ کی چھت پر لگا ہوا سونے کا پرنالہ ہے جس سے بارش کا پانی حطیم میں گرتا ہے۔ اس پانی کو رحمت کا باعث سمجھا جاتا ہے اس لیے اسے میزابِ رحمت کہتے ہیں، اور اس کے نیچے مانگی گئی دعا قبول ہونے کی امید کی جاتی ہے۔ اسی لیے شاعر کہتا ہے کہ میری سب دعائیں منظور ہوں گی کیونکہ میزابِ رحمت میرے سر پر ہے۔
شاعر کبھی اپنے آپ کو دیکھتا ہے اور کبھی حرم کو۔ وہ خود کو ایک عام اور خطا کار انسان سمجھتا ہے، اس لیے اسے یقین نہیں آتا کہ وہ اللہ کے مقدس گھر کے سامنے کھڑا ہے۔ وہ اسے اپنی کوشش نہیں بلکہ مقدر کا کرم سمجھتا ہے: "کہ لایا کہاں مجھ کو میرا مقدر"۔ یہی عاجزی اس کی حیرت کا سبب ہے۔
جب شاعر کو اللہ کے گھر کے سامنے اپنی خطائیں یاد آئیں تو اسے سخت ندامت ہوئی؛ اس کی دعائیں آنسوؤں میں بدل گئیں اور وہ غلافِ کعبہ پکڑ کر رو پڑا تاکہ اللہ سے گناہوں کی معافی مانگے۔ (یا) پہلے شعر کا مفہوم: میں نے جتنی دعائیں مانگی ہیں وہ سب قبول ہوں گی، کیونکہ میں میزابِ رحمت کے نیچے کھڑا ہوں اور اللہ کی رحمت کا سایہ میرے سر پر ہے۔
- (i)شاعر کو محبوب سے کس بات کا شکوہ ہے؟
شاعر کو شکوہ ہے کہ اس نے سو سو طرح سے مر کر دیکھا، مگر محبوب کے لبوں نے مسیحائی نہ کی؛ یعنی ایک بار بھی میٹھا بول بول کر اسے نئی زندگی نہ دی اور اس کی حالت پر توجہ نہ کی۔
- (i)شاعر نے عالمِ رنگ و بو پر قناعت کرنے سے کیوں منع کیا ہے؟
کیونکہ یہ ظاہری دنیا انسان کی آخری منزل نہیں؛ اس سے آگے اور بھی چمن اور آشیاں (منزلیں اور مواقع) ہیں۔ جو اسی دنیا پر قناعت کر لے وہ آگے بڑھنے کی کوشش چھوڑ دیتا ہے اور پیچھے رہ جاتا ہے، جبکہ اقبال انسان کو مسلسل جستجو اور ترقی کا درس دیتے ہیں۔