Mehshar
محشر (غوث بہار)
یہ حصہ نثر کا دوسرا سبق ہے: غوث بہار کا بلوچی افسانہ "محشر" جسے غنی پرواز نے اردو میں ترجمہ کیا۔ قیامت کے دن ایک بوڑھا جنت اور اعراف سے لوٹایا جاتا ہے اور آخر دوزخ کے کنوئیں پر اپنی قوم کو اس کے کردار سے پہچان لیتا ہے۔ یہاں مصنف اور مترجم کا تعارف، ترتیب وار خلاصہ، کرداروں کا جدول، فنی خوبیاں، دو امتحانی اقتباسات چھ چھ سوالات اور مکمل جوابات کے ساتھ، اور ایک نثر پارے کی مکمل تشریح دی گئی ہے۔
Learning outcomes (4)
- کلام کو آغاز یا درمیان سے سن کر نظم و نثر کے مرکزی خیال اور سیاق و سباق کو سمجھ اور بیان کر سکیں۔
- کسی کہانی یا مکالمے کو سن کر اس کے حسن و قبح کا جائزہ لیتے ہوئے دہرا سکیں۔
- افسانے کے اجزا اور ادبی محاسن کو شناخت کر سکیں۔
- عبارت کو درست تلفظ، لب و لہجے اور ضرورت کے مطابق تاثر کے ساتھ پڑھ سکیں۔
مصنف اور مترجم کا تعارف: غوث بہار (1952ء تا 2018ء)Often examined
غوث بہار بلوچی زبان کے معروف افسانہ نگار اور شاعر تھے۔ انھوں نے بلوچی لسانیات پر بھی قلم اٹھایا اور اردو ادب سے بلوچی میں تراجم بھی کیے۔ بلوچی رسم الخط، عروض اور دیگر لسانی موضوعات پر وہ مسلسل لکھتے رہے اور بلوچی زبان کی ترویج کے لیے متعدد مضامین اور مقالے لکھے۔
غوث بہار کا تعلق قلم اور کتاب کے اس قبیلے سے سمجھا جاتا ہے جس نے ناسازگار حالات میں بھی قلم کی حرمت کا سودا نہیں کیا اور معاشی تنگی کے باوجود علم و ادب سے جڑے رہے۔ لسانیات پر ان کی تین کتابیں شائع ہوئیں، جبکہ دو بلوچی افسانوی مجموعے اور بلوچی شاعری کا ایک مجموعہ ان کا ادبی ورثہ ہیں۔ انھوں نے 2018ء میں کوئٹہ میں وفات پائی۔
مترجم: غنی پرواز
افسانہ "محشر" بلوچی سے اردو میں غنی پرواز نے ترجمہ کیا۔ وہ 15 اگست 1945ء کو بلوچستان کے شہر تربت میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے ادب، ثقافت، فلسفہ، سیاسیات، صحافت، تعلیم اور انسانی حقوق سے دلچسپی رہی۔ کہانی، شاعری، افسانہ نگاری، ناول نگاری، ڈراما، تنقید، تحقیق اور ترجمہ جیسے شعبوں میں اردو، انگریزی اور بلوچی زبان میں کام کیا۔
افسانے کا خلاصہOften examined
"محشر" ایک علامتی افسانہ ہے۔ اس میں قیامت کے دن کا منظر دکھا کر مصنف نے ایک ایسی قوم پر طنز کیا ہے جو آپس میں متحد نہیں اور جس کا ہر فرد دوسرے کو آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتا۔
محشر کا منظر
دوپہر کا وقت ہے اور سورج سوا نیزے پر کھڑا ہے۔ گرمی کی شدت نے چیونٹیوں اور پرندوں سے لے کر چیتوں اور ہاتھیوں تک کو پریشان کر رکھا ہے۔ دنیا ایک چٹیل میدان اور زمین تپتے ہوئے توے کی مانند ہے۔ ایک اونچی عمارت کے دروازے پر ایک خوش شکل، قد آور اور سفید پوش نوجوان کھڑا ہے جو دور سے اٹھتی ہوئی گرد کو حیرت سے دیکھ رہا ہے۔
بوڑھا اور جنت کا دروازہ
گرد میں سے ایک بوڑھا نمودار ہوتا ہے جس نے پھٹی ہوئی پگڑی، پیوندوں سے اٹی شلوار اور گریبان اور آستینوں سے عاری قمیص پہن رکھی ہے، چہرہ گرد آلود اور پاؤں ننگے ہیں۔ وہ عمارت میں داخل ہونا چاہتا ہے تو پاسبان نوجوان اسے روک لیتا ہے۔ بوڑھا ہکلاتے ہوئے بتاتا ہے کہ وہ سویا ہوا تھا اور اس نے صور کی آواز نہیں سنی، سورج کی تپتی شعاعوں نے اسے جگایا۔ نوجوان بتاتا ہے کہ آج محشر ہے، صبح حساب کتاب شروع ہوا تھا اور یہ جنت ہے جو نیک لوگوں کی جگہ ہے۔
بوڑھا اپنا نام کلیڈ، باپ کا نام ٹھلو اور عمر ستر سال بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ بلوچستان کا رہنے والا ہے۔ نوجوان چار اونٹوں کے بوجھ سے بھی بھاری رجسٹر میں نام ڈھونڈتا ہے اور آخر کہتا ہے کہ آپ کا نام جنتیوں میں شامل نہیں۔ بوڑھے نے دنیا میں سن رکھا تھا کہ جو جنتی نہ ہو اس کی جگہ دوزخ ہے، اس لیے اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے۔ نوجوان کو رحم آتا ہے اور وہ اسے آگے کچھ مکانات کی طرف بھیج دیتا ہے۔
اعراف
بوڑھا گرمی سے بے حال وہاں پہنچتا ہے جہاں مٹی اور گارے کے مکانات ایک بڑی چار دیواری میں ہیں۔ دروازے پر ایک اور نوجوان ہے جو پہلے جیسا خوب صورت نہیں مگر اچھا لگتا ہے۔ بوڑھا اسے پہلے نوجوان کا "ہم پیشہ" سمجھ کر اپنا نام دہراتا ہے، مگر نوجوان عربی اور بلوچی کے فرق کی وجہ سے "کلیڈ ولد ٹھلو" کو "کلیر ولد تصلو" پڑھتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ نام یہاں نہیں۔ یہ جگہ اعراف ہے جہاں لوگ چند سال گزار کر جنت میں جاتے ہیں۔ بے زار ہو کر وہ بوڑھے کو مشرق کی طرف جلتی آگ کی جانب بھیج دیتا ہے۔
دوزخ اور کالا شخص
آگ کے قریب ایک انتہائی کالا اور بد شکل شخص بوڑھے کا خیر مقدم کرتا ہے جس کی ناک ہاتھی کی ناک جیسی، آنکھیں پیشانی پر اور ہاتھ میں سرا جلا ہوا موٹا ڈنڈا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ یہاں کوئی رجسٹر نہیں، یہ ان کی جگہ ہے جن کے گناہ ثوابوں سے زیادہ ہوں اور فرشتے انھیں لا کر آگ کے کنوؤں میں پھینک دیتے ہیں۔ بوڑھا کہتا ہے کہ دنیا میں اس کی ایک بڑی قوم تھی، مجھے وہ کنوئیں دکھا دیں تاکہ میں اپنی قوم کو دیکھ کر اپنی جگہ پہچان لوں۔ اخلاق اور ہمدردی میں پہلے دونوں نوجوانوں سے بہتر یہ کالا شخص اسے دوزخ کی سیر کراتا ہے۔
چار کنوئیں اور قوم کی پہچان
- پہلا کنواں: لوگ خاموشی سے جل رہے ہیں، کوئی ہاتھ پاؤں نہیں ہلاتا۔ بوڑھا کہتا ہے: میری قوم اتنی کاہل نہیں تھی۔
- دوسرا کنواں: لوگ ایک دوسرے سے بے پناہ ہمدردی رکھتے ہیں اور ہر شخص چاہتا ہے کہ دوسرے کے بجائے وہ جل جائے۔ بوڑھا کہتا ہے: میری قوم اتنی تو کبھی نہیں رہی۔
- تیسرا کنواں: لوگ رو رہے ہیں اور ایک دوسرے کے نیچے گھسنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بوڑھا کہتا ہے: ایسی بزدل قوم میری ہرگز نہیں ہو سکتی۔
- چوتھا بڑا کنواں: جس کی آگ کناروں تک پھیلی ہے۔ یہاں ہر فرد باہر نکلنا چاہتا ہے، مگر جو کنارے تک پہنچے اسے دوسرے پاؤں پکڑ کر واپس کھینچ لیتے ہیں تاکہ وہ آگے نہ نکل جائے۔ بوڑھا چیخ اٹھتا ہے: یہی ہے میری قوم!
کالا شخص حیران ہو کر پوچھتا ہے کہ ان کی شکلیں تو مسخ ہو چکی ہیں اور کھالیں اتر چکی ہیں، تم نے انھیں کیسے پہچانا؟ بوڑھا جواب دیتا ہے: "قوم شکل سے نہیں کردار سے پہچانی جا سکتی ہے۔" یہ غیر متحد اور بغض و عناد رکھنے والی قوم میری ہے، مجھے اس کے پاس جانے دیجیے۔
پیغام
افسانے کا پیغام یہ ہے کہ قوم کی پہچان اس کا اجتماعی کردار ہے۔ جو قوم ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتی، حسد اور بغض رکھتی اور کسی کو آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتی، وہ خود بھی آگ سے نہیں نکل پاتی۔ ترقی کے لیے اتحاد، ہمدردی اور ایک دوسرے کی مدد ضروری ہے۔
کردار اور فنی پہلو
| کردار | تعارف | علامت یا کردار کی خوبی |
|---|---|---|
| بوڑھا (کلیڈ ولد ٹھلو) | ستر سالہ غریب بلوچ، ننگے پاؤں، پھٹے کپڑے؛ محشر میں دیر سے جاگا | سادہ، سچا اور اپنی قوم کو خوب پہچاننے والا عام آدمی؛ کہانی کا راوی نما مرکزی کردار |
| پہلا نوجوان | جنت کی اونچی عمارت کا خوش شکل، قد آور، سفید پوش پاسبان | ضابطے کا پابند، رجسٹر دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے؛ رحم آتا ہے تو آگے بھیج دیتا ہے |
| دوسرا نوجوان | اعراف کے دروازے پر؛ پہلے سے کم خوب صورت | زبان کے فرق کی وجہ سے نام غلط پڑھتا ہے؛ جلد بے زار ہو جاتا ہے |
| کالا شخص | دوزخ کا نگران؛ بد شکل، ہاتھی جیسی ناک، جلا ہوا ڈنڈا | شکل سب سے بری مگر اخلاق اور ہمدردی میں سب سے بہتر؛ یہ تضاد بتاتا ہے کہ ظاہر سے نہیں کردار سے پرکھو |
فنی خوبیاں
- علامت نگاری: کنوئیں مختلف قوموں کے کردار کی علامت ہیں؛ پاؤں پکڑ کر کھینچنا حسد اور نا اتفاقی کی علامت ہے۔
- منظر نگاری: سوا نیزے پر سورج، تپتا توا، چٹیل میدان؛ قاری گرمی محسوس کرتا ہے۔
- مکالمہ نگاری: بوڑھے کا ہکلانا ("میں۔۔۔ میں۔۔۔ سویا۔۔۔ ہوا۔۔۔ تھا") اس کی گھبراہٹ دکھاتا ہے۔
- طنز و مزاح: نام کا "کلیر ولد تصلو" پڑھا جانا اور بوڑھے کا نوجوانوں کو "ہم پیشہ" یا "بھائی" سمجھنا ہلکا مزاح پیدا کرتا ہے، مگر انجام میں گہرا طنز ہے۔
- نقطۂ عروج: چوتھے کنوئیں پر بوڑھے کا "یہی ہے میری قوم!" کہنا اور "قوم شکل سے نہیں کردار سے پہچانی جا سکتی ہے" والا جملہ۔
Key terms
- استدعا
- درخواست، گزارش۔
- بغض
- دل میں رکھی جانے والی دلی دشمنی۔
- عناد
- دشمنی۔
- خیر مقدم کرنا
- خوش آمدید کہنا۔
- شکل مسخ ہونا
- شکل بگڑنا یا تبدیل ہونا۔
- اعراف
- دوزخ اور جنت کے درمیان مقام۔
- چٹیل میدان
- جس میدان میں درخت اور پانی نہ ہو۔
- سفید پوش
- اجلے کپڑے پہننے والا؛ کم آمدنی ہونے کے باوجود باوقار زندگی گزارنے والا۔
- صور
- بگل، وہ آواز جو حضرت اسرافیلؑ حشر کے دن نکالیں گے۔
- سوا نیزے پر
- سورج کا بہت قریب ہونا، شدید گرمی (سبق کے خاص الفاظ)۔
- شرابور
- پوری طرح بھیگا ہوا (سبق کے خاص الفاظ)۔
- در بدر
- دروازے دروازے پھرنا، ٹھکانا نہ ملنا (سبق کے خاص الفاظ)۔
- ہکلانا
- رک رک کر بولنا (سبق کے خاص الفاظ)۔
- گوش گزار کرنا
- کسی کے کانوں تک بات پہنچانا، سنا دینا (سبق کے خاص الفاظ)۔
اقتباسات اور سوالات (سوال 2، حصہ نثر)
دونوں اقتباسات افسانے کے ان موڑوں سے ہیں جہاں سے امتحان میں سب سے زیادہ سوال بنتے ہیں۔ ہر جز 3 نمبر کا ہے۔ جواب میں اقتباس سے پہلے اور بعد کے واقعات کا حوالہ ضرور دیں۔
"اطمینان رکھیے اب آپ کا نام دیکھ لوں گا" نوجوان نے اپنی نگاہیں سامنے رکھے ہوئے رجسٹر پر ڈال دیں جو چار اونٹوں کے بوجھ سے بھی زیادہ معلوم ہوتا تھا۔ وہ اطمینان سے اوراق الٹتا رہا مگر بوڑھا جو گرمی سے تنگ آ چکا تھا، انتظار نہ کر سکا اس لیے اس نے پھر نوجوان سے کہا: "میں گرمی سے مرا جا رہا ہوں مجھے جنت میں جانے دیں۔" نوجوان نے کوئی جواب نہ دیا اور کافی دیر تک اوراق الٹتے رہنے کے بعد کہا: "آپ کا نام یہاں نہیں ہے۔۔۔ یعنی آپ کا نام جنتیوں کے ناموں میں شامل نہیں ہے یعنی جناب! آپ جنتی نہیں ہیں۔ یہ عمارت آپ کے لیے نہیں۔" بوڑھے نے دنیا میں سن رکھا تھا کہ محشر میں جو شخص جنتی نہ ہو تو اس کی جگہ دوزخ ہو گی جو آگ اور انگاروں سے بھری رہتی ہے۔ جب نوجوان کے منہ سے اس نے اپنے جنتی نہ ہونے کی بات سنی تو اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور وہ عاجزی سے نوجوان کی منت سماجت کرنے لگا۔ نوجوان کو اس پر رحم آ گیا۔
- (i)یہ اقتباس کس افسانے سے لیا گیا ہے، اس کے مصنف اور مترجم کون ہیں؟ اقتباس میں "نوجوان" کون ہے اور یہ "عمارت" کیا ہے؟
- (ii)بوڑھا محشر میں دیر سے کیوں پہنچا اور جنت کے دروازے پر پہنچنے سے پہلے اس سے کیا سوالات کیے گئے؟
- (iii)رجسٹر کو "چار اونٹوں کے بوجھ سے بھی زیادہ" کیوں کہا گیا ہے؟ اس تشبیہ کی خوبی بیان کریں۔
- (iv)نام نہ ملنے پر بوڑھے کی کیا حالت ہوئی؟ نوجوان کے رویے اور افسانے کے آخری کردار "کالے شخص" کے رویے کا موازنہ کریں۔
- (v)درج ذیل کے متضاد لکھیں: اطمینان، جنت، عاجزی۔ "منت سماجت" اور "آگ اور انگاروں" میں کون سے مرکب ہیں؟
- (vi)اقتباس کا مرکزی خیال لکھیں یا تلخیص کریں۔
یہ اقتباس افسانہ "محشر" سے لیا گیا ہے جس کے مصنف غوث بہار ہیں اور اسے بلوچی سے اردو میں غنی پرواز نے ترجمہ کیا ہے۔
یہاں "نوجوان" جنت کی اونچی عمارت کا خوش شکل، قد آور اور سفید پوش پاسبان ہے، اور "عمارت" جنت ہے جسے نوجوان ان لوگوں کی جگہ بتاتا ہے جنھوں نے دنیا میں اچھے کام کیے۔
بوڑھا سویا ہوا تھا اور اس نے صور کی زوردار آواز نہیں سنی تھی۔ سورج کی تپتی شعاعوں نے اسے جگایا، اس لیے وہ حساب کتاب سے رہ گیا اور دیر سے پہنچا۔
نوجوان نے اسے روک کر پوچھا کہ وہ پہلے کہاں تھا، پھر اس کا نام، باپ کا نام اور رہائش پوچھی۔ بوڑھے نے اپنا نام کلیڈ، باپ کا نام ٹھلو بتایا اور کہا کہ وہ بلوچستان کا رہنے والا ہے اور اس کی عمر ستر سال ہے۔
اس رجسٹر میں محشر کے دن تمام جنتیوں کے نام درج تھے، اس لیے وہ بہت بڑا اور بھاری تھا۔ مصنف نے اس کی ضخامت کو بلوچ معاشرت کی ایک مانوس چیز، اونٹ کے بوجھ سے تشبیہ دی ہے۔
یہ تشبیہ مقامی رنگ لیے ہوئے ہے؛ صحرا میں رہنے والا بلوچ قاری فوراً اس بوجھ کا اندازہ کر لیتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بوڑھے کی بے چینی بڑھاتی ہے کہ اتنے بڑے رجسٹر میں نام ڈھونڈنے میں دیر لگے گی جبکہ وہ گرمی سے مرا جا رہا ہے۔
بوڑھے نے دنیا میں سن رکھا تھا کہ جو جنتی نہ ہو اس کی جگہ آگ اور انگاروں سے بھری دوزخ ہے۔ اس لیے یہ سن کر اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور وہ عاجزی سے منت سماجت کرنے لگا۔
نوجوان کو رحم تو آیا مگر اس نے بس ہاتھ کے اشارے سے آگے بھیج دیا۔ اس کے برعکس آخر میں بد شکل کالا شخص، جو اخلاق و ہمدردی میں پچھلے دونوں نوجوانوں سے بہتر تھا، خود بوڑھے کو ساتھ لے کر دوزخ کے کنوئیں دکھاتا ہے۔ یوں افسانہ بتاتا ہے کہ ظاہری خوب صورتی اور اخلاق ایک چیز نہیں۔
اطمینان کا متضاد بے چینی (یا اضطراب)؛ جنت کا متضاد دوزخ؛ عاجزی کا متضاد غرور (یا تکبر)۔
منت سماجت مرکبِ تابع موضوع (جوڑا) ہے جس میں دونوں لفظ ہم معنی ہیں اور زور پیدا کرتے ہیں۔ آگ اور انگاروں مرکبِ عطفی ہے کیونکہ دونوں اسم "اور" (حرفِ عطف) سے جڑے ہیں۔
مرکزی خیال: محشر کے دن انسان کا فیصلہ اس کے اعمال کے رجسٹر سے ہوتا ہے، منت سماجت سے نہیں۔ جنتی نہ ہونے کی خبر انسان کے لیے سب سے بڑا صدمہ ہے۔
تلخیص: جنت کا پاسبان نوجوان ایک بہت بڑے رجسٹر میں بوڑھے کا نام ڈھونڈتا رہا جبکہ بوڑھا گرمی سے بے حال ہو کر جنت میں جانے کی التجا کرتا رہا۔ کافی دیر بعد نوجوان نے بتایا کہ اس کا نام جنتیوں میں نہیں۔ دوزخ کا خیال آتے ہی بوڑھے کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور وہ منت کرنے لگا۔ نوجوان نے رحم کھا کر اسے آگے کچھ مکانات کی طرف بھیج دیا کہ شاید وہاں اس کا نام ہو۔
کالا شخص حیرت سے بوڑھے کو دیکھتا رہا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ آخر اس نے اپنی قوم کو کس طرح پہچان لیا؟ پھر اس نے پوچھا: "آخر آپ کی قوم کی شناخت کیا ہے؟ ان لوگوں کی شکلیں تو مسخ ہو چکی ہیں اور کھالیں تک اتر چکی ہیں۔ اس حالت میں آپ نے کیوں کر انھیں پہچان لیا؟" "آپ کی بات درست ہے۔" بوڑھے نے جواب دیا: "لیکن قوم شکل سے نہیں کردار سے پہچانی جا سکتی ہے۔۔۔ دیکھیے! ہر فرد اس کوشش میں ہے کہ کنوئیں سے باہر نکل جائے۔ جب ایک فرد کنوئیں کے کنارے تک پہنچ جاتا ہے اور باہر نکلنے ہی والا ہوتا ہے تو دوسرے افراد اس کے پاؤں پکڑ کر کھینچتے ہیں اور اسے دوبارہ کنوئیں میں گرا دیتے ہیں تاکہ وہ نکل نہ جائے کیوں کہ اس سے دوسرے افراد پیچھے رہ جائیں گے۔ یہ کردار دنیا میں میری قوم کے سوا اور کسی قوم کا نہ تھا۔ یہ غیر متحد اور بغض و عناد رکھنے والی قوم میری ہے۔ مجھے جانے دیجیے اس کے پاس کہ یہی ہے میری قوم!"
- (i)یہ واقعہ کہاں پیش آ رہا ہے اور بوڑھا یہاں تک کیسے پہنچا؟
- (ii)اس کنوئیں تک پہنچنے سے پہلے بوڑھے نے کن کنوؤں کے لوگوں کو اپنی قوم ماننے سے انکار کیا اور کیوں؟
- (iii)"قوم شکل سے نہیں کردار سے پہچانی جا سکتی ہے" اس جملے کی وضاحت کریں۔
- (iv)بوڑھے کی قوم کی کون سی خامی بیان کی گئی ہے؟ اس سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟
- (v)"مسخ" اور "بغض و عناد" کے معنی لکھیں۔ "غیر متحد" کا متضاد لکھیں اور "افراد" کا واحد بتا کر جمع کی قسم لکھیں۔
- (vi)اقتباس کا مرکزی خیال لکھیں یا تلخیص کریں۔
یہ واقعہ دوزخ میں پیش آ رہا ہے جہاں آگ اور انگاروں سے بھرے کنوؤں میں لوگ جل رہے ہیں۔
بوڑھا پہلے جنت کے دروازے سے لوٹایا گیا کیونکہ اس کا نام جنتیوں میں نہیں تھا۔ پھر اعراف میں دوسرے نوجوان نے اس کا نام "کلیر ولد تصلو" پڑھ کر کہا کہ یہ نام یہاں نہیں اور اسے مشرق کی جلتی آگ کی طرف بھیج دیا۔ وہاں کالے شخص نے بتایا کہ یہاں کوئی رجسٹر نہیں، تو بوڑھے نے اپنی قوم کو دیکھنے کی خواہش کی اور کالا شخص اسے کنوئیں دکھانے لگا۔
پہلے کنوئیں میں لوگ خاموشی سے جل رہے تھے، بوڑھے نے کہا میری قوم اتنی کاہل نہیں تھی۔ دوسرے میں لوگ ایک دوسرے سے بے پناہ ہمدردی رکھتے تھے اور ہر شخص دوسرے کی جگہ خود جلنا چاہتا تھا، بوڑھے نے کہا میری قوم اتنی تو کبھی نہیں رہی۔ تیسرے میں لوگ رو رہے تھے اور ایک دوسرے کے نیچے چھپ رہے تھے، بوڑھے نے کہا ایسی بزدل قوم میری ہرگز نہیں ہو سکتی۔
ان انکاروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بوڑھے کی قوم کاہل اور بزدل تو نہ تھی مگر ہمدرد بھی نہ تھی۔
کنوئیں کے لوگوں کی شکلیں مسخ ہو چکی تھیں اور کھالیں اتر چکی تھیں، اس لیے انھیں چہروں سے پہچاننا ممکن نہ تھا۔ بوڑھے نے انھیں ان کے عمل سے پہچانا کہ جو کنارے تک پہنچتا ہے اسے باقی پاؤں پکڑ کر واپس گرا دیتے ہیں۔
مصنف کہنا چاہتے ہیں کہ کسی قوم کی اصل پہچان اس کی عادتیں اور اجتماعی رویے ہیں۔ یہ جملہ پورے افسانے کا نقطۂ عروج ہے، اور یہی بات کالے شخص کے کردار سے بھی ثابت ہوتی ہے جو بد شکل ہونے کے باوجود سب سے بااخلاق تھا۔
بوڑھے کی قوم غیر متحد اور بغض و عناد رکھنے والی تھی۔ اس کا کوئی فرد دوسرے کو آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتا تھا، اس لیے جو ترقی کرنے لگتا اسے باقی کھینچ کر نیچے گرا دیتے، چاہے اس میں سب کا نقصان ہو۔
سبق یہ ہے کہ حسد اور ٹانگ کھینچنے کی عادت پوری قوم کو آگ میں رکھتی ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے کی کامیابی پر خوش ہوں اور آگے بڑھنے والے کا ہاتھ تھامیں تو پوری قوم ترقی کر سکتی ہے۔
شکل مسخ ہونا: شکل بگڑ جانا یا تبدیل ہونا (فرہنگ)۔ بغض: دل میں رکھی جانے والی دشمنی، اور عناد: دشمنی؛ "بغض و عناد" مرکبِ عطفی ہے جس کے معنی ہیں دلی دشمنی اور حسد۔
"غیر متحد" کا متضاد متحد ہے۔ "افراد" کا واحد فرد ہے اور یہ جمع مکسر ہے کیونکہ واحد کی شکل بدل گئی ہے۔
مرکزی خیال: قوم کی پہچان اس کا کردار ہے۔ جو قوم آپس میں متحد نہ ہو اور حسد میں ایک دوسرے کو آگے نہ بڑھنے دے، وہ خود اپنی تباہی کا سامان کرتی ہے۔
تلخیص: بوڑھے نے کنوئیں کے لوگوں کو اپنی قوم کے طور پر پہچان لیا تو کالے شخص نے حیران ہو کر پوچھا کہ ان کی شکلیں تو مسخ ہو چکی ہیں، پھر کیسے پہچانا؟ بوڑھے نے کہا کہ قوم شکل سے نہیں کردار سے پہچانی جاتی ہے۔ یہاں جو فرد کنارے تک پہنچتا ہے، دوسرے اس کے پاؤں کھینچ کر اسے واپس گرا دیتے ہیں تاکہ وہ آگے نہ نکل جائے۔ یہ غیر متحد اور بغض و عناد رکھنے والی قوم ہی اس کی قوم ہے۔
تشریح (سوال 3)
نثر پارے کی تشریح 6 نمبر کی ہوتی ہے۔ علامتی افسانے کی تشریح میں ظاہری واقعہ اور اس کا علامتی مفہوم دونوں لکھیں۔
بوڑھے نے اپنی نگاہیں اٹھا کر کنوئیں کے اندر دیکھا، جہاں لوگ خاموشی سے جل رہے تھے۔ کوئی ایک شخص بھی ہاتھ پاؤں نہیں ہلا رہا تھا۔ "نہیں یہ میری قوم نہیں ہے۔" بوڑھے نے جواب دیا: "میری قوم اتنی کاہل نہیں تھی۔" کالا شخص بوڑھے کو ایک دوسرے کنوئیں کے قریب لے گیا۔ اور اس سے پوچھنے لگا: "کیا یہ ہے آپ کی قوم؟" بوڑھے نے پھر نگاہیں اٹھا کر دوسرے کنوئیں کے اندر دیکھا، جہاں سارے لوگ آپس میں بے پناہ ہمدردی رکھتے تھے اور ہر شخص کی کوشش یہی تھی کہ دوسرے کے بجائے وہی جل جائے۔ "نہیں نہیں۔ یہ قوم میری نہیں ہو سکتی۔ میری قوم اتنی تو کبھی نہیں رہی ہے۔" دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہوئے ایک اور کنوئیں کے قریب پہنچے۔ بوڑھے نے کالے شخص کے کہنے پر اس کنوئیں میں بھی نگاہیں اٹھا کر دیکھا جہاں سارے لوگ رو رہے تھے اور ایک دوسرے کے نیچے گھسنے کی کوشش کر رہے تھے۔ "نہیں جی نہیں!" بوڑھے نے کہا: "ایسی بزدل قوم میری ہرگز نہیں ہو سکتی۔"
حوالۂ متن
سبق: محشر
مصنف: غوث بہار (بلوچی سے ترجمہ: غنی پرواز)
سیاق و سباق
افسانے میں ایک بوڑھا محشر کے دن سویا رہ جاتا ہے اور دیر سے جاگتا ہے۔ جنت کے دروازے پر پاسبان نوجوان رجسٹر دیکھ کر بتاتا ہے کہ اس کا نام جنتیوں میں نہیں۔ اعراف میں بھی اس کا نام نہیں ملتا۔ آخر وہ دوزخ پہنچتا ہے جہاں کالا شخص بتاتا ہے کہ یہاں کوئی رجسٹر نہیں۔ بوڑھا کہتا ہے کہ دنیا میں اس کی ایک بڑی قوم تھی، اسے دیکھ کر وہ اپنی جگہ پہچان لے گا۔ کالا شخص اسے آگ کے کنوئیں دکھانے لگتا ہے۔ یہ نثر پارہ پہلے تین کنوؤں کا ہے۔ اس کے بعد چوتھے بڑے کنوئیں پر بوڑھا اپنی قوم کو پہچان لیتا ہے۔
تشریح
اس نثر پارے میں مصنف نے دوزخ کے کنوؤں کو قوموں کے کردار کی علامت بنا کر پیش کیا ہے۔ ہر کنوئیں میں لوگ ایک ہی آگ میں جل رہے ہیں، مگر ہر کنوئیں کے لوگوں کا رویہ الگ ہے۔ بوڑھا شکلیں نہیں دیکھتا بلکہ رویہ دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے کہ یہ اس کی قوم ہے یا نہیں۔
پہلا کنواں ایسی قوم کی تصویر ہے جو مصیبت میں ہاتھ پاؤں بھی نہیں ہلاتی۔ لوگ خاموشی سے جل رہے ہیں اور نکلنے کی کوشش نہیں کرتے۔ بوڑھا کہتا ہے: "میری قوم اتنی کاہل نہیں تھی۔" یعنی اس کی قوم میں جدوجہد تو تھی۔
دوسرا کنواں ایک مثالی قوم کا نقشہ ہے جس کے افراد میں بے پناہ ہمدردی ہے اور ہر شخص چاہتا ہے کہ دوسرا بچ جائے اور وہ خود جل جائے۔ یہ ایثار کی انتہا ہے۔ بوڑھا افسوس سے مان لیتا ہے: "میری قوم اتنی تو کبھی نہیں رہی ہے۔" اس جملے میں گہرا طنز ہے کہ اس کی قوم میں یہ اخلاقی بلندی نہیں تھی۔
تیسرا کنواں بزدلوں کا ہے جو روتے ہیں اور ایک دوسرے کے نیچے گھس کر خود کو بچانا چاہتے ہیں۔ بوڑھا غیرت سے کہتا ہے: "ایسی بزدل قوم میری ہرگز نہیں ہو سکتی۔" یعنی اس کی قوم بہادر تھی۔
یوں تین انکاروں کے ذریعے مصنف قاری کو تجسس میں رکھتا ہے اور قدم بہ قدم اس قوم کا خاکہ بناتا ہے: وہ نہ کاہل ہے، نہ بزدل، مگر ہمدرد بھی نہیں۔ یہی تیاری انجام کو مؤثر بناتی ہے، جب چوتھے کنوئیں پر بوڑھا دیکھتا ہے کہ جو کنارے تک پہنچے اسے باقی کھینچ کر گرا دیتے ہیں اور چیخ اٹھتا ہے کہ "یہی ہے میری قوم!" اور کہتا ہے کہ "قوم شکل سے نہیں کردار سے پہچانی جا سکتی ہے۔"
مصنف کا اسلوب سادہ مگر علامتی ہے۔ مختصر مکالمے اور دہرائے گئے جملے ("کیا یہ ہے آپ کی قوم؟") کہانی کو لوک داستان جیسا آہنگ دیتے ہیں۔ پیغام یہ ہے کہ ہمیں اپنے اجتماعی کردار کا جائزہ لینا چاہیے، کیونکہ محنت اور بہادری کے ساتھ اگر ہمدردی اور اتحاد نہ ہو تو قوم ترقی نہیں کر سکتی۔
Exam focus
- چوتھا کنواں: "قوم شکل سے نہیں کردار سے پہچانی جا سکتی ہے" (long)کتاب کی مشق کا اقتباس اور افسانے کا نقطۂ عروج؛ اقتباس اور تشریح دونوں میں سب سے زیادہ متوقع۔Go to answer
- جنت کے دروازے پر رجسٹر اور منت سماجت والا حصہ (long)کتاب کی مشق کا دوسرا اقتباس اسی حصے سے ہے۔Go to answer
- تین کنوؤں کی علامتیں: کاہل، ہمدرد، بزدل (short)تشریح اور مختصر سوال دونوں کے لیے اہم۔Go to answer
- مصنف غوث بہار، مترجم غنی پرواز، اصل زبان بلوچی (mcq)حوالۂ متن اور MCQ دونوں میں پوچھا جا سکتا ہے۔Go to answer
- افسانے کا فنی جائزہ: پلاٹ، کردار نگاری، مکالمہ، نقطۂ عروج (long)کتاب کی مشق کا سوال 3 اور 5 اسی پر ہیں۔Go to answer