Surah Hud
سورۃ ہود
Surah Hud is the 11th surah of the Quran, a Makki surah of 123 ayat and 10 rukus in paras 11 and 12, named after Hazrat Hud (AS), whose story is in 11:50 to 60. It was revealed in the late Makki period, when the Quraish were denying the Prophet (ﷺ), mocking the warnings of punishment and demanding treasures and angels. The surah answers by calling to tawhid, risalah and the Hereafter (11:1 to 24) and then tells the stories of Hazrat Nuh, Hazrat Hud, Hazrat Salih, Hazrat Ibrahim, Hazrat Lut, Hazrat Shu'aib and Hazrat Musa (AS) with their nations, to show that those who deny the messengers are destroyed. It ends with the command to stand firm, to establish prayer and to rely on Allah (11:112 to 123). FBISE asks about the name, the period, the stories (the angels' good news to Hazrat Ibrahim (AS), the ark of Hazrat Nuh (AS)), the ayah 11:3 and five words of the 80-list.سورۃ ہود قرآن مجید کی 11 ویں سورۃ ہے، مکی ہے، گیارھویں اور بارھویں پارے میں ہے اور اس کی 123 آیات اور 10 رکوع ہیں؛ اس کا نام حضرت ہود علیہ السلام پر ہے جن کا قصہ 11:50 تا 60 میں ہے۔ یہ مکی دور کے آخری حصے میں اس وقت نازل ہوئی جب قریش نبی کریم ﷺ کو جھٹلاتے، عذاب کی دھمکیوں کا مذاق اڑاتے اور خزانے اور فرشتے کا مطالبہ کرتے تھے۔ سورت جواب میں توحید، رسالت اور آخرت کی دعوت دیتی ہے (11:1 تا 24) اور پھر حضرت نوح، حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت ابراہیم، حضرت لوط، حضرت شعیب اور حضرت موسیٰ علیہم السلام کے قصے ان کی قوموں کے ساتھ سناتی ہے تاکہ معلوم ہو کہ رسولوں کو جھٹلانے والے ہلاک ہوتے ہیں۔ آخر میں ثابت قدم رہنے، نماز قائم کرنے اور اللہ پر بھروسہ کرنے کا حکم ہے (11:112 تا 123)۔ فیڈرل بورڈ نام، زمانۂ نزول، قصوں (فرشتوں کی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خوشخبری، حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی)، آیت 11:3 اور منتخب 80 الفاظ میں سے پانچ الفاظ پر سوال کرتا ہے۔
Learning outcomes (4)
- SLO:I-10-A-01: State the introduction of Surah Hud (name and reason for it, ayat, rukus, Makki period, background of revelation, central theme) and the stories of the prophets and their nations in it.SLO:I-10-A-01: سورۃ ہود کا تعارف (نام اور وجہ تسمیہ، آیات، رکوع، مکی دور، پس منظر، مرکزی مضمون) اور اس میں مذکور انبیا اور ان کی اقوام کے قصے بیان کرنا۔
- SLO:I-10-A-02: Give the meanings of the selected words of the surah («يُسِرُّوْنَ»، «دَآبَّةٍ»، «مُنِيْبٌ»، «اَرْسَلْنَا»، «تَوَكَّلْتُ»).SLO:I-10-A-02: سورت کے منتخب الفاظ («يُسِرُّوْنَ»، «دَآبَّةٍ»، «مُنِيْبٌ»، «اَرْسَلْنَا»، «تَوَكَّلْتُ») کے معانی بیان کرنا۔
- SLO:I-10-A-03: Read the key ayat (11:3, 11:6, 11:25 to 26, 11:42 to 46, 11:56, 11:69 to 73, 11:85, 11:112, 11:114) with their translation and answer comprehension questions.SLO:I-10-A-03: اہم آیات (11:3، 11:6، 11:25 تا 26، 11:42 تا 46، 11:56، 11:69 تا 73، 11:85، 11:112، 11:114) کو ترجمے کے ساتھ پڑھ کر فہمی سوالات کے جواب دینا۔
- SLO:I-10-A-04: Understand the teachings of the surah: tawhid, repentance and trust in Allah, steadfastness, honesty in dealings, and the lessons of the ark of Hazrat Nuh (AS) and the fate of the earlier nations (long topics 8 and 9).SLO:I-10-A-04: سورت کی تعلیمات سمجھنا: توحید، توبہ اور توکل، استقامت، لین دین میں دیانت، اور حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی اور سابقہ اقوام کے انجام سے سبق (تفصیلی موضوعات 8 اور 9)۔
Introduction to Surah Hudسورۃ ہود کا تعارفOften examined
Learn this table first: the MCQs and the 2-mark questions on the introduction of the surah come straight from it.
پہلے یہ جدول یاد کریں: سورت کے تعارف پر مبنی MCQs اور 2 نمبر کے سوالات سیدھے اسی سے آتے ہیں۔
| Point | Detail |
|---|---|
| Name | Hud («هود») |
| Reason for the name | Hazrat Hud (AS), the prophet sent to the people of Aad, whose story is in 11:50 to 60 |
| Makki or Madani | Makki (revealed in Makkah before the hijrah) |
| Order in the Quran | 11th (after Yunus, before Yusuf) |
| Order of revelation | About 52nd in the usual order of revelation |
| Number of ayat | 123 |
| Number of rukus | 10 |
| Para | Para 11 (11:1 to 5) and para 12 (11:6 to 123) |
| Period of revelation | Late Makki period, when the opposition of the Quraish was at its hardest (according to the common view) |
| Opening | The disjointed letters «الر» (Alif Lam Ra), as in Yunus, Yusuf, Ibrahim and Al-Hijr |
| Other names | No other well-known name; the Prophet (ﷺ) spoke of it together with its 'sisters' (see Virtues) |
| Main subject | Tawhid, risalah and the Hereafter, and the stories of seven messengers and their nations as a warning |
| Distinction | The story of Hazrat Nuh (AS) (11:25 to 49) is the longest in it, and the same call 'worship Allah, you have no deity other than Him' is repeated by Nuh, Hud, Salih and Shu'aib (AS) |
| نکتہ | تفصیل |
|---|---|
| نام | ہود |
| وجہ تسمیہ | حضرت ہود علیہ السلام جو قومِ عاد کی طرف بھیجے گئے، ان کا قصہ 11:50 تا 60 میں ہے |
| مکی یا مدنی | مکی (ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی) |
| ترتیبِ تلاوتی | گیارھویں (یونس کے بعد، یوسف سے پہلے) |
| ترتیبِ نزولی | مشہور ترتیب کے مطابق تقریباً 52 ویں |
| تعداد آیات | 123 |
| تعداد رکوع | 10 |
| پارہ | پارہ 11 (آیت 1 تا 5) اور پارہ 12 (آیت 6 تا 123) |
| زمانۂ نزول | مکی دور کا آخری حصہ جب قریش کی مخالفت سب سے سخت تھی (مشہور رائے کے مطابق) |
| آغاز | حروفِ مقطعات «الر» (الف لام را)، جیسے یونس، یوسف، ابراہیم اور الحجر میں |
| دیگر نام | کوئی اور مشہور نام نہیں؛ نبی کریم ﷺ نے اسے اس کی ہم سورتوں کے ساتھ ذکر فرمایا (دیکھیں فضائل) |
| اہم موضوع | توحید، رسالت اور آخرت، اور سات رسولوں اور ان کی قوموں کے قصے بطور تنبیہ |
| امتیاز | اس میں حضرت نوح علیہ السلام کا قصہ (11:25 تا 49) سب سے لمبا ہے، اور 'اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں' کی دعوت نوح، ہود، صالح اور شعیب علیہم السلام نے دہرائی |
The name and the reason for it
نام اور وجہ تسمیہ
- The surah is named after Hazrat Hud (AS), the prophet of the people of Aad. His story is told in 11:50 to 60, and his name comes in 11:50, 11:53, 11:58, 11:60 and again in 11:89.
- Like the names of most surahs, the name is only a label: it does not mean the surah is mainly about Hazrat Hud (AS). His story takes 11 ayat, while the story of Hazrat Nuh (AS) takes 25 ayat (11:25 to 49).
- سورت کا نام حضرت ہود علیہ السلام پر ہے جو قومِ عاد کے نبی تھے۔ ان کا قصہ 11:50 تا 60 میں ہے، اور ان کا نام 11:50، 11:53، 11:58، 11:60 اور پھر 11:89 میں آیا ہے۔
- اکثر سورتوں کے ناموں کی طرح یہ نام صرف پہچان کے لیے ہے: اس کا مطلب یہ نہیں کہ سورت کا بڑا حصہ حضرت ہود علیہ السلام کے بارے میں ہے۔ ان کا قصہ 11 آیات میں ہے جبکہ حضرت نوح علیہ السلام کا قصہ 25 آیات (11:25 تا 49) میں ہے۔
Period and background of revelation
زمانۂ نزول اور پس منظر
Surah Hud is Makki and, according to the common view, belongs to the late Makki period, a few years before the hijrah, when the opposition of the Quraish was hard and the Prophet (ﷺ) and the believers were under great pressure (some mention the hard years after the deaths of Hazrat Khadijah (RA) and Abu Talib). No single incident is reported as the occasion of the whole surah; its background is the situation in Makkah, and the surah itself shows what the Quraish were saying.
سورۃ ہود مکی ہے اور مشہور رائے کے مطابق مکی دور کے آخری حصے میں، ہجرت سے چند سال پہلے نازل ہوئی، جب قریش کی مخالفت سخت تھی اور نبی کریم ﷺ اور مسلمان بڑے دباؤ میں تھے (بعض لوگ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اور ابو طالب کی وفات کے بعد کے سخت سالوں کا ذکر کرتے ہیں)۔ پوری سورت کا کوئی ایک واقعہ شانِ نزول کے طور پر منقول نہیں؛ اس کا پس منظر مکہ کے حالات ہیں، اور خود سورت بتاتی ہے کہ قریش کیا کہتے تھے۔
- They called the message of the resurrection 'obvious magic' (11:7).
- They mocked the warnings of punishment: 'What is holding it back?' (11:8).
- They demanded a treasure to be sent down to the Prophet (ﷺ) or an angel to come with him (11:12).
- They said he had invented the Quran, so Allah challenged them to bring ten surahs like it (11:13).
- وہ قیامت کے پیغام کو 'کھلا جادو' کہتے تھے (11:7)۔
- وہ عذاب کی دھمکیوں کا مذاق اڑاتے: 'اسے کس چیز نے روک رکھا ہے؟' (11:8)۔
- وہ مطالبہ کرتے کہ نبی کریم ﷺ پر کوئی خزانہ اتارا جائے یا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ آئے (11:12)۔
- وہ کہتے کہ اس نے قرآن خود گھڑ لیا ہے، تو اللہ نے ان کو اس جیسی دس سورتیں لانے کا چیلنج دیا (11:13)۔
The surah comforts the Prophet (ﷺ): the stories of the earlier messengers are told 'to make firm your heart' (11:120).
سورت نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتی ہے: پچھلے رسولوں کے قصے 'تمہارے دل کو مضبوط کرنے' کے لیے سنائے گئے ہیں (11:120)۔
Central theme (مرکزی مضمون)
مرکزی مضمون
The central theme is the warning from history: the messengers of every age called their people to the worship of Allah alone, to repentance and to honesty; those who denied them were destroyed, and the believers were saved. The Quraish are warned that the same law applies to them, and the Prophet (ﷺ) and the believers are told to be steadfast and to rely on Allah.
مرکزی مضمون تاریخ سے تنبیہ ہے: ہر دور کے رسولوں نے اپنی قوم کو صرف اللہ کی عبادت، توبہ اور دیانت کی طرف بلایا؛ جھٹلانے والے ہلاک ہوئے اور ایمان والے بچائے گئے۔ قریش کو خبردار کیا گیا کہ ان پر بھی یہی قانون لاگو ہے، اور نبی کریم ﷺ اور مومنوں کو ثابت قدم رہنے اور اللہ پر بھروسہ کرنے کا حکم دیا گیا۔
Main topics of the surah
سورت کے اہم موضوعات
- 11:1 to 24: the Quran, the call to worship Allah alone, to seek forgiveness and repent (11:3), Allah's knowledge and provision (11:5 to 6), man's ungratefulness and pride (11:9 to 10), the challenge to bring ten surahs (11:13).
- 11:25 to 49: the story of Hazrat Nuh (AS) and the ark.
- 11:50 to 60: Hazrat Hud (AS) and Aad; 11:61 to 68: Hazrat Salih (AS) and Thamud.
- 11:69 to 83: the angels with Hazrat Ibrahim (AS) and the destruction of the people of Hazrat Lut (AS).
- 11:84 to 95: Hazrat Shu'aib (AS) and Madyan; 11:96 to 99: Hazrat Musa (AS) and Pharaoh.
- 11:100 to 111: lessons of the stories and the Day of Judgement.
- 11:112 to 123: stand firm, establish prayer, be patient, rely on Allah.
- 11:1 تا 24: قرآن، صرف اللہ کی عبادت، استغفار اور توبہ کی دعوت (11:3)، اللہ کا علم اور رزق (11:5 تا 6)، انسان کی ناشکری اور غرور (11:9 تا 10)، دس سورتیں لانے کا چیلنج (11:13)۔
- 11:25 تا 49: حضرت نوح علیہ السلام کا قصہ اور کشتی۔
- 11:50 تا 60: حضرت ہود علیہ السلام اور عاد؛ 11:61 تا 68: حضرت صالح علیہ السلام اور ثمود۔
- 11:69 تا 83: فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس اور قومِ لوط کی ہلاکت۔
- 11:84 تا 95: حضرت شعیب علیہ السلام اور مدین؛ 11:96 تا 99: حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون۔
- 11:100 تا 111: قصوں کے اسباق اور قیامت کا دن۔
- 11:112 تا 123: ثابت قدمی، نماز کی پابندی، صبر اور اللہ پر توکل۔
Virtues of Surah Hudسورۃ ہود کی فضیلت
The one well-known authentic report about this surah is the hadith of Tirmidhi.
اس سورت کے بارے میں ایک ہی مشہور اور مستند روایت ہے، یعنی ترمذی کی حدیث۔
- Hazrat Abu Bakr (RA) said to the Prophet (ﷺ): 'O Messenger of Allah, you have become grey.' The Prophet (ﷺ) replied that Hud and its sisters had made him grey (reported by Tirmidhi).
- The scholars explain that the surah speaks of the destruction of the earlier nations, the terror of the Day of Judgement and the command to remain firm on the straight path (11:112), and the Prophet (ﷺ) felt the weight of these matters.
- حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: 'یا رسول اللہ! آپ پر بڑھاپا آ گیا۔' آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے ہود اور اس جیسی سورتوں نے بوڑھا کر دیا (ترمذی)۔
- علما بتاتے ہیں کہ اس سورت میں پچھلی قوموں کی ہلاکت، قیامت کی ہولناکی اور سیدھے راستے پر قائم رہنے کا حکم (11:112) ہے، اور نبی کریم ﷺ ان باتوں کا بوجھ محسوس فرماتے تھے۔
The opening call: tawhid, repentance and Allah's knowledge (11:1 to 24)ابتدائی دعوت: توحید، توبہ اور اللہ کا علم (11:1 تا 24)Often examined
The first two rukus state the message of the whole surah and answer what the Quraish were saying. The model paper prints 11:3.
پہلے دو رکوع پوری سورت کا پیغام بیان کرتے ہیں اور قریش کی باتوں کا جواب دیتے ہیں۔ ماڈل پیپر میں آیت 11:3 دی گئی ہے۔
The call (11:1 to 4)
دعوت (11:1 تا 4)
- The Quran is a Book whose ayat are made firm and then explained in detail, from One who is Wise and All-Aware (11:1).
- Worship none but Allah; the Prophet (ﷺ) is a warner and a bearer of good news from Him (11:2).
- Seek forgiveness of your Lord and repent to Him: He will give a good provision for a fixed term and will give every doer of good his due reward (his merit). If they turn away, the Prophet (ﷺ) fears for them the punishment of a great Day (11:3).
- To Allah is the return of all, and He has power over everything (11:4).
- قرآن ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں پختہ کی گئیں اور پھر تفصیل سے بیان ہوئیں، ایک حکمت والی اور باخبر ہستی کی طرف سے (11:1)۔
- اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو؛ نبی کریم ﷺ اس کی طرف سے ڈرانے والے اور خوشخبری دینے والے ہیں (11:2)۔
- اپنے رب سے معافی مانگو اور اس کی طرف رجوع کرو: وہ ایک مقررہ مدت تک اچھا سامانِ زندگی دے گا اور ہر نیکی کرنے والے کو اس کا حق (اجر) دے گا۔ اگر منہ موڑا تو نبی کریم ﷺ ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈراتے ہیں (11:3)۔
- سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے (11:4)۔
اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ ایک مدت خاص تک تم کو اچھا سامان زندگی دے گا اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں
And [saying], "Seek forgiveness of your Lord and repent to Him, [and] He will let you enjoy a good provision for a specified term and give every doer of favor his favor. But if you turn away, then indeed, I fear for you the punishment of a great Day
Allah's knowledge and provision (11:5 to 7)
اللہ کا علم اور رزق (11:5 تا 7)
- Even when they turn their breasts away to hide from Him, or cover themselves with their clothes, Allah knows what they conceal and what they declare (11:5). The word «يُسِرُّوْنَ» (they conceal) is from this ayah.
- There is no creature («دَآبَّةٍ») on the earth whose provision is not on Allah; He knows where it lives and where it is laid to rest, and all is in a clear record (11:6).
- He created the heavens and the earth in six days, and His Throne was on water, to test which of you is best in deed (11:7).
- جب وہ اپنے سینے موڑتے ہیں تاکہ اس سے چھپ جائیں یا اپنے کپڑے اوڑھ لیتے ہیں، تب بھی اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں (11:5)۔ لفظ «يُسِرُّوْنَ» (وہ چھپاتے ہیں) اسی آیت کا ہے۔
- زمین پر کوئی جاندار («دَآبَّةٍ») نہیں مگر اس کا رزق اللہ پر ہے؛ وہ اس کا ٹھکانا اور سونپے جانے کی جگہ جانتا ہے، اور سب کچھ واضح کتاب میں ہے (11:6)۔
- اسی نے آسمان اور زمین چھ دنوں میں پیدا کیے، اس کا عرش پانی پر تھا، تاکہ وہ آزمائے کہ تم میں سب سے اچھا عمل کون کرتا ہے (11:7)۔
Man in hardship and ease (11:8 to 11)
انسان تنگی اور آسانی میں (11:8 تا 11)
- When a mercy is taken from man he becomes despairing and ungrateful (11:9).
- When ease comes after hardship he says 'the troubles have gone from me' and becomes exultant and boastful (11:10).
- Except those who are patient and do righteous deeds: for them is forgiveness and a great reward (11:11).
- جب انسان سے رحمت چھین لی جاتی ہے تو وہ ناامید اور ناشکرا ہو جاتا ہے (11:9)۔
- جب تکلیف کے بعد آسانی ملتی ہے تو کہتا ہے 'مصیبتیں مجھ سے دور ہو گئیں' اور اترانے والا اور شیخی باز بن جاتا ہے (11:10)۔
- سوائے ان کے جو صبر کرتے اور نیک عمل کرتے ہیں: ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے (11:11)۔
The demands of the Quraish and the challenge (11:12 to 14)
قریش کے مطالبات اور چیلنج (11:12 تا 14)
- They said: why was no treasure sent to him, or no angel with him? The Prophet (ﷺ) is only a warner; Allah is the Guardian of everything (11:12).
- They said he invented it, so Allah told them to bring ten surahs like it and call whom they could besides Allah, if they were truthful (11:13).
- وہ کہتے: اس پر کوئی خزانہ کیوں نہ اتارا گیا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ آیا؟ نبی کریم ﷺ صرف ڈرانے والے ہیں؛ ہر چیز پر اللہ نگہبان ہے (11:12)۔
- وہ کہتے کہ اس نے خود گھڑ لیا ہے، تو اللہ نے فرمایا: اس جیسی دس سورتیں بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جسے بلا سکو بلا لو، اگر تم سچے ہو (11:13)۔
Two ways of life (11:15 to 24)
دو طرزِ زندگی (11:15 تا 24)
- Whoever wants only the life of this world is repaid for his deeds in it, but in the Hereafter he has nothing but the Fire (11:15 to 16).
- Those who invent a lie against Allah and turn people from His way are the wrongdoers on whom is the curse of Allah (11:18 to 19).
- The believers who do good and humble themselves to their Lord are the people of Paradise (11:23).
- The two groups are like the blind and deaf and the one who sees and hears; they are not equal (11:24).
- جو صرف دنیا کی زندگی چاہتا ہے اسے اس کے اعمال کا بدلہ یہیں دے دیا جاتا ہے، مگر آخرت میں اس کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں (11:15 تا 16)۔
- جو اللہ پر جھوٹ گھڑتے اور لوگوں کو اس کے راستے سے روکتے ہیں وہ ظالم ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہے (11:18 تا 19)۔
- جو ایمان لائے، نیک عمل کیے اور اپنے رب کے سامنے جھک گئے وہ جنتی ہیں (11:23)۔
- دونوں گروہ اندھے بہرے اور دیکھنے سننے والے کی طرح ہیں؛ وہ برابر نہیں ہو سکتے (11:24)۔
The prophets and their nations in Surah Hud (long topic 8)سورۃ ہود میں انبیا اور ان کی اقوام (تفصیلی موضوع 8)Often examined
Surah Hud tells the stories of seven messengers one after another. This table is the core of the long question 'a brief introduction to the earlier prophets and their nations'.
سورۃ ہود میں سات رسولوں کے قصے ایک کے بعد ایک آئے ہیں۔ یہ جدول 'انبیائے سابقین اور ان کی اقوام کا اجمالی تعارف' والے تفصیلی سوال کا مرکز ہے۔
| Prophet | Ayat | Nation and what they did | How they were punished |
|---|---|---|---|
| Hazrat Nuh (AS) | 11:25 to 49 | His people; the chiefs mocked him, called him a man like themselves and said only the lowest followed him | The flood; the believers were saved in the ark |
| Hazrat Hud (AS) | 11:50 to 60 | Aad; they clung to their gods, said Hud had brought no clear proof and followed every obstinate tyrant | Destroyed by Allah's command; Hud and the believers were saved |
| Hazrat Salih (AS) | 11:61 to 68 | Thamud; they doubted the call to leave their fathers' worship and hamstrung the she-camel of Allah | A shriek (blast) seized them after three days |
| Hazrat Ibrahim (AS) and Hazrat Lut (AS) | 11:69 to 83 | The angels gave Hazrat Ibrahim (AS) the good news of Ishaq, then went to the people of Lut, who did evil deeds | Their land was turned upside down and stones of baked clay were rained on them |
| Hazrat Shu'aib (AS) | 11:84 to 95 | Madyan; they cheated in measure and weight and spread corruption | A shriek seized them |
| Hazrat Musa (AS) | 11:96 to 99 | Pharaoh and his chiefs followed the command of Pharaoh, which was not wise | Pharaoh leads his people into the Fire on the Day of Resurrection and a curse follows them |
| نبی | آیات | قوم اور ان کا عمل | انجام |
|---|---|---|---|
| حضرت نوح علیہ السلام | 11:25 تا 49 | اس کی قوم؛ سرداروں نے مذاق اڑایا، اسے اپنے جیسا انسان کہا اور کہا کہ صرف کم تر لوگ اس کے پیچھے ہیں | طوفان؛ ایمان والے کشتی میں بچ گئے |
| حضرت ہود علیہ السلام | 11:50 تا 60 | عاد؛ وہ اپنے معبودوں سے چمٹے رہے، کہا ہود کوئی واضح دلیل نہیں لایا اور ہر سرکش ظالم کے پیچھے چلے | اللہ کے حکم سے ہلاک ہوئے؛ ہود اور ایمان والے بچائے گئے |
| حضرت صالح علیہ السلام | 11:61 تا 68 | ثمود؛ باپ دادا کی عبادت چھوڑنے کی دعوت میں شک کیا اور اللہ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں | تین دن بعد ایک چیخ نے انہیں پکڑ لیا |
| حضرت ابراہیم اور حضرت لوط علیہما السلام | 11:69 تا 83 | فرشتوں نے ابراہیم کو اسحاق کی خوشخبری دی، پھر قومِ لوط کی طرف گئے جو برے کام کرتے تھے | ان کی بستی الٹ دی گئی اور ان پر کھنگر کے پتھر برسائے گئے |
| حضرت شعیب علیہ السلام | 11:84 تا 95 | مدین؛ ناپ تول میں کمی کرتے اور فساد پھیلاتے تھے | ایک چیخ نے انہیں پکڑ لیا |
| حضرت موسیٰ علیہ السلام | 11:96 تا 99 | فرعون اور اس کے سرداروں نے فرعون کے حکم کی پیروی کی جو درست نہ تھا | قیامت کے دن فرعون اپنی قوم کو آگ میں لے جائے گا اور لعنت ان کے پیچھے لگی ہے |
What the stories have in common
قصوں کی مشترک باتیں
- Every messenger called to the worship of Allah alone: 'worship Allah, you have no deity other than Him' (Nuh 11:26, Hud 11:50, Salih 11:61, Shu'aib 11:84).
- They asked no reward from their people: Nuh 11:29, Hud 11:51.
- They called to forgiveness and repentance: Hud 11:52, Salih 11:61, Shu'aib 11:90.
- The nations answered with pride, mockery and clinging to their fathers' ways; then Allah's command came, the believers were saved and the deniers were destroyed.
- Allah did not wrong them; they wronged themselves (11:101).
- ہر رسول نے صرف اللہ کی عبادت کی دعوت دی: 'اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں' (نوح 11:26، ہود 11:50، صالح 11:61، شعیب 11:84)۔
- انہوں نے اپنی قوم سے کوئی اجر نہ مانگا: نوح 11:29، ہود 11:51۔
- انہوں نے استغفار اور توبہ کی دعوت دی: ہود 11:52، صالح 11:61، شعیب 11:90۔
- قوموں نے تکبر، مذاق اور باپ دادا کی روش سے چمٹے رہنے سے جواب دیا؛ پھر اللہ کا حکم آیا، ایمان والے بچائے گئے اور جھٹلانے والے ہلاک ہوئے۔
- اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا، وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے تھے (11:101)۔
Lessons
اسباق
- The message of all the prophets is the same: tawhid, repentance and justice.
- Pride and following the leaders of falsehood bring ruin; the believers are saved by Allah's mercy.
- The stories console the Prophet (ﷺ) and warn the Quraish (11:120).
- تمام انبیا کا پیغام ایک ہے: توحید، توبہ اور انصاف۔
- تکبر اور باطل کے سرداروں کی پیروی تباہی لاتی ہے؛ ایمان والے اللہ کی رحمت سے بچتے ہیں۔
- یہ قصے نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے اور قریش کو خبردار کرتے ہیں (11:120)۔
Hazrat Nuh (AS) and the ark (11:25 to 49) (long topic 9)حضرت نوح علیہ السلام اور کشتی (11:25 تا 49) (تفصیلی موضوع 9)Often examined
This is the longest story in the surah (25 ayat, rukus 3 and 4). It is a long-question topic and a favourite for short and ayah questions.
یہ سورت کا سب سے لمبا قصہ ہے (25 آیات، رکوع 3 اور 4)۔ یہ تفصیلی سوال کا موضوع ہے اور مختصر اور آیات کے سوالات کے لیے بھی پسندیدہ ہے۔
His call and the answer of the chiefs (11:25 to 31)
دعوت اور سرداروں کا جواب (11:25 تا 31)
- Allah sent Hazrat Nuh (AS) to his people as a clear warner: worship none but Allah, or a painful punishment will come (11:25 to 26). The word «اَرْسَلْنَا» (We sent) is from 11:25.
- The chiefs who disbelieved objected: you are only a man like us; only the lowest of us followed you without thinking; you have no merit over us; we think you are liars (11:27).
- He answered: I stand on a clear proof from my Lord; can we force it on you when you dislike it (11:28)? I ask no wealth, my reward is with Allah, and I will not drive away the believers (11:29 to 30). I do not claim the treasures of Allah, knowledge of the unseen or to be an angel (11:31).
- اللہ نے حضرت نوح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف کھلے ڈرانے والے کے طور پر بھیجا: اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ورنہ دردناک عذاب آئے گا (11:25 تا 26)۔ لفظ «اَرْسَلْنَا» (ہم نے بھیجا) 11:25 کا ہے۔
- کافر سرداروں نے اعتراض کیا: تم ہمارے جیسے بشر ہو؛ تمہارے پیچھے صرف ہمارے کم تر لوگ بغیر سوچے چلے ہیں؛ تمہیں ہم پر کوئی فضیلت نہیں؛ ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں (11:27)۔
- اس نے جواب دیا: میں اپنے رب کی واضح دلیل پر ہوں؛ کیا ہم اسے زبردستی تم پر ٹھونس دیں جب تم اسے ناپسند کرتے ہو (11:28)؟ میں مال نہیں مانگتا، میرا اجر اللہ کے ذمے ہے اور میں مومنوں کو دھتکار نہیں سکتا (11:29 تا 30)۔ میں اللہ کے خزانوں، غیب کے علم یا فرشتہ ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا (11:31)۔
The ark and the flood (11:32 to 44)
کشتی اور طوفان (11:32 تا 44)
- They said: you have argued with us too much, bring the punishment you threaten us with (11:32). He replied that it is only in Allah's hands and they cannot escape (11:33).
- Allah revealed that no more of his people would believe except those who already had, so he should not grieve (11:36).
- He was told to build the ship under Allah's eyes and revelation and not to plead for the wrongdoers, for they would be drowned (11:37). As he built it, the chiefs passing by mocked him (11:38).
- When Allah's command came and the oven («التَّنُّوْر») overflowed, he was told to load two of every kind, his family (except those against whom the word had gone forth) and the believers, who were few (11:40).
- He said: 'In the name of Allah is its sailing and its anchoring' (11:41). The ark sailed through waves like mountains (11:42).
- At last it was said: 'O earth, swallow your water, O sky, withhold', the water subsided and the ship came to rest on the mountain of Judi (11:44).
- انہوں نے کہا: تم نے بہت جھگڑا کیا، جس عذاب کی دھمکی دیتے ہو لے آؤ (11:32)۔ اس نے کہا کہ وہ صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور تم اسے عاجز نہیں کر سکتے (11:33)۔
- اللہ نے وحی کی کہ اب تمہاری قوم میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا سوائے ان کے جو لا چکے، اس لیے غم نہ کرو (11:36)۔
- اسے حکم ہوا کہ ہماری نگرانی اور وحی سے کشتی بنا اور ظالموں کے بارے میں سفارش نہ کر، وہ غرق ہونے والے ہیں (11:37)۔ جب وہ کشتی بناتا تو سردار گزرتے ہوئے اس کا مذاق اڑاتے (11:38)۔
- جب اللہ کا حکم آیا اور تنور ابل پڑا تو حکم ہوا کہ ہر قسم کا جوڑا، اپنے گھر والوں (سوائے ان کے جن کے خلاف فیصلہ ہو چکا) اور مومنوں کو سوار کر لو، اور تھوڑے ہی لوگ ایمان لائے تھے (11:40)۔
- اس نے کہا: 'اللہ کے نام سے اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے' (11:41)۔ کشتی پہاڑوں جیسی لہروں میں چلی (11:42)۔
- آخر کہا گیا: 'اے زمین! اپنا پانی نگل لے، اے آسمان! تھم جا'، پانی اتر گیا اور کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری (11:44)۔
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنو ر ابل پڑا تو ہم نے کہا "ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو، اپنے گھر والوں کو بھی سوائے اُن اشخاص کے جن کی نشان دہی پہلے کی جا چکی ہے اس میں سوار کرا دو اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے ہیں" اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوحؑ کے ساتھ ایمان لائے تھے (40) نوحؑ نے کہا "سوار ہو جاؤ اِس میں، اللہ ہی کے نام سے ہے اس کا چلنا بھی اور اس کا ٹھیرنا بھی، میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے (41)
[So it was], until when Our command came and the oven overflowed, We said, "Load upon the ship of each [creature] two mates and your family, except those about whom the word has preceded, and [include] whoever has believed." But none had believed with him, except a few (40) And [Noah] said, "Embark therein; in the name of Allah is its course and its anchorage. Indeed, my Lord is Forgiving and Merciful (41)
The son of Hazrat Nuh (AS) (11:42 to 47)
حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا (11:42 تا 47)
- Hazrat Nuh (AS) called his son, who stood apart: 'come aboard with us and do not be with the disbelievers' (11:42).
- The son refused: 'I will take refuge on a mountain that will save me from the water.' Hazrat Nuh (AS) said that today nothing protects from Allah's decree except the one on whom He has mercy. A wave came between them and the son was among the drowned (11:43).
- Hazrat Nuh (AS) prayed: 'my son is of my family and Your promise is true.' Allah said: 'he is not of your family; his deeds were not righteous; do not ask Me what you have no knowledge of' (11:45 to 46). Hazrat Nuh (AS) at once sought refuge in Allah and asked for forgiveness (11:47).
- حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو جو الگ تھا پکارا: 'ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ رہ' (11:42)۔
- بیٹے نے انکار کیا: 'میں کسی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔' نوح نے کہا آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں سوائے اس کے جس پر وہ رحم کرے۔ ایک لہر دونوں کے درمیان آ گئی اور بیٹا ڈوبنے والوں میں تھا (11:43)۔
- حضرت نوح علیہ السلام نے دعا کی: 'میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے۔' اللہ نے فرمایا: 'وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں، اس کے عمل نیک نہ تھے؛ جس کا تجھے علم نہیں مجھ سے نہ مانگ' (11:45 تا 46)۔ حضرت نوح علیہ السلام نے فوراً اللہ کی پناہ مانگی اور معافی چاہی (11:47)۔
نوحؑ نے اپنے رب کو پکارا کہا "اے رب، میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم ہے (45) جواب میں ارشاد ہوا "اے نوحؑ، وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے، وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے، لہٰذا تو اُس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت تو نہیں جانتا، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے (46)
And Noah called to his Lord and said, "My Lord, indeed my son is of my family; and indeed, Your promise is true; and You are the most just of judges (45) He said, "O Noah, indeed he is not of your family; indeed, he is [one whose] work was other than righteous, so ask Me not for that about which you have no knowledge. Indeed, I advise you, lest you be among the ignorant (46)
After the flood (11:48 to 49)
طوفان کے بعد (11:48 تا 49)
- Hazrat Nuh (AS) was told to come down in peace and blessings from Allah, upon him and the nations from those with him; other nations would be given enjoyment and then touched by a painful punishment (11:48).
- Allah told the Prophet (ﷺ) that this is news of the unseen which neither he nor his people knew before, so be patient: the good end is for the God-fearing (11:49).
- نوح کو حکم ہوا کہ ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ اتر، تجھ پر اور ان قوموں پر جو تیرے ساتھیوں سے ہوں گی؛ اور کچھ قومیں ہوں گی جنہیں ہم فائدہ دیں گے پھر دردناک عذاب پہنچے گا (11:48)۔
- اللہ نے نبی کریم ﷺ سے فرمایا کہ یہ غیب کی خبریں ہیں جو نہ آپ جانتے تھے نہ آپ کی قوم، اس لیے صبر کریں: اچھا انجام متقیوں کا ہے (11:49)۔
Lessons
اسباق
- Patience in da'wah: Hazrat Nuh (AS) kept calling his people through mockery and refusal. (His age of 950 years is mentioned in 29:14, not in Surah Hud.)
- Faith, not blood, decides the relation with a prophet: the disbelieving son was 'not of your family' (11:46).
- Do not judge people by wealth or rank: the chiefs despised the poor believers (11:27), but Hazrat Nuh (AS) refused to drive them away (11:29).
- A prophet asks no wage for his message (11:29).
- Only Allah's mercy saves: no mountain or power can protect from His decree (11:43).
- Do not ask Allah for what you have no knowledge of; turn to Him at once when you err (11:46 to 47).
- In the end victory is for the God-fearing (11:49).
- دعوت میں صبر: حضرت نوح علیہ السلام نے مذاق اور انکار کے باوجود قوم کو بلانا نہ چھوڑا۔ (950 سال کی عمر کا ذکر 29:14 میں ہے، سورۃ ہود میں نہیں۔)
- نبی سے تعلق خون سے نہیں ایمان سے ہے: کافر بیٹا 'تیرے گھر والوں میں سے نہیں' (11:46)۔
- لوگوں کو دولت یا مرتبے سے نہ پرکھیں: سرداروں نے غریب مومنوں کو حقیر سمجھا (11:27) مگر حضرت نوح علیہ السلام نے انہیں دھتکارنے سے انکار کیا (11:29)۔
- نبی اپنے پیغام پر اجر نہیں مانگتا (11:29)۔
- بچانے والی چیز صرف اللہ کی رحمت ہے: اس کے فیصلے سے کوئی پہاڑ یا طاقت نہیں بچا سکتی (11:43)۔
- اللہ سے وہ نہ مانگو جس کا علم نہ ہو؛ غلطی ہو تو فوراً اس کی طرف رجوع کرو (11:46 تا 47)۔
- آخر کار کامیابی متقیوں کی ہے (11:49)۔
Hazrat Hud (AS) and the people of Aad (11:50 to 60)حضرت ہود علیہ السلام اور قومِ عاد (11:50 تا 60)
The surah takes its name from this story. Aad were the people to whom Hazrat Hud (AS), 'their brother', was sent; their land was al-Ahqaf (46:21), in the south of Arabia according to the common view.
سورت کا نام اسی قصے پر ہے۔ عاد وہ قوم تھی جس کی طرف حضرت ہود علیہ السلام، 'ان کے بھائی'، بھیجے گئے؛ ان کا علاقہ الاحقاف (46:21) تھا، جو مشہور رائے کے مطابق جنوبی عرب میں ہے۔
| Point | Detail |
|---|---|
| Prophet and nation | Hazrat Hud (AS) and Aad (11:50) |
| His call | Worship Allah, you have no other deity; you are only inventors of falsehood (11:50). He asked no reward (11:51). Ask forgiveness, repent, and Allah will send rain and add strength to your strength (11:52). |
| Their answer | 'You brought no clear proof; we will not leave our gods on your word; some of our gods have struck you with evil' (11:53 to 54) |
| His reply | 'I call Allah to witness that I am free of what you associate; plot against me all together, I have put my trust («تَوَكَّلْتُ») in Allah, my Lord and your Lord; there is no creature whose forelock He does not hold' (11:54 to 56) |
| Punishment | When Allah's command came, Hud and the believers were saved by His mercy from a harsh punishment (11:58); Aad were followed by a curse in this world and on the Day of Resurrection (11:60). (The destroying wind is mentioned in 69:6.) |
| Why they were destroyed | They rejected the signs of their Lord, disobeyed His messengers and followed the command of every obstinate tyrant (11:59) |
| نکتہ | تفصیل |
|---|---|
| نبی اور قوم | حضرت ہود علیہ السلام اور عاد (11:50) |
| اس کی دعوت | اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تم محض جھوٹ گھڑنے والے ہو (11:50)۔ اس نے کوئی اجر نہ مانگا (11:51)۔ استغفار اور توبہ کرو، اللہ تم پر خوب بارش بھیجے گا اور تمہاری قوت میں قوت بڑھائے گا (11:52)۔ |
| ان کا جواب | 'تو کوئی واضح دلیل نہیں لایا؛ ہم تیرے کہنے پر اپنے معبود نہیں چھوڑیں گے؛ ہمارے کسی معبود نے تجھے برائی پہنچا دی ہے' (11:53 تا 54) |
| اس کا جواب | 'میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں تمہارے شرک سے بری ہوں؛ سب مل کر میرے خلاف چال چل لو، میں نے اللہ پر، جو میرا اور تمہارا رب ہے، بھروسہ («تَوَكَّلْتُ») کیا؛ کوئی جاندار نہیں جس کی پیشانی اس کے ہاتھ میں نہ ہو' (11:54 تا 56) |
| انجام | جب اللہ کا حکم آیا تو ہود اور ایمان والے اس کی رحمت سے سخت عذاب سے بچا لیے گئے (11:58)؛ عاد کے پیچھے دنیا اور قیامت میں لعنت لگا دی گئی (11:60)۔ (ہلاک کرنے والی ہوا کا ذکر 69:6 میں ہے۔) |
| ہلاکت کی وجہ | انہوں نے اپنے رب کی نشانیوں کا انکار کیا، اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر سرکش ظالم کے حکم پر چلے (11:59) |
میرا بھروسہ اللہ پر ہے جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی چوٹی اس کے ہاتھ میں نہ ہو بے شک میرا رب سیدھی ر اہ پر ہے
Indeed, I have relied upon Allah, my Lord and your Lord. There is no creature but that He holds its forelock. Indeed, my Lord is on a path [that is] straight
Lessons
اسباق
- Tawakkul: Hazrat Hud (AS) stood alone against a mighty nation and relied on Allah (11:56).
- Repentance brings blessings in this world too: rain and added strength (11:52).
- Following a tyrant instead of the messengers leads to ruin (11:59).
- توکل: حضرت ہود علیہ السلام ایک طاقتور قوم کے سامنے اکیلے ڈٹ گئے اور اللہ پر بھروسہ کیا (11:56)۔
- توبہ سے دنیا میں بھی برکتیں ملتی ہیں: بارش اور بڑھی ہوئی قوت (11:52)۔
- رسولوں کے بجائے ظالم کی پیروی تباہی کی طرف لے جاتی ہے (11:59)۔
Hazrat Salih (AS) and Thamud (11:61 to 68)حضرت صالح علیہ السلام اور ثمود (11:61 تا 68)
Thamud lived in al-Hijr in the north-west of Arabia, between Madinah and Syria (their land gave its name to Surah Al-Hijr). Hazrat Salih (AS) was sent to them.
ثمود شمال مغربی عرب میں الحجر میں رہتے تھے، مدینہ اور شام کے درمیان (ان کی سرزمین پر سورۃ الحجر کا نام ہے)۔ ان کی طرف حضرت صالح علیہ السلام بھیجے گئے۔
| Point | Detail |
|---|---|
| His call | Worship Allah; He produced you from the earth and settled you in it, so ask His forgiveness and repent; my Lord is near and responsive (11:61) |
| Their answer | 'You were a man of hope among us before this; do you forbid us what our fathers worshipped? We are in disquieting doubt about what you call us to' (11:62) |
| The sign | The she-camel of Allah: let her eat on Allah's earth and do not touch her with harm, or an impending punishment will take you (11:64) |
| What they did | They hamstrung her; Hazrat Salih (AS) said: enjoy yourselves in your homes for three days, this is a promise that will not be false (11:65) |
| Punishment | Hazrat Salih (AS) and the believers were saved from the disgrace of that day (11:66); the shriek («الصَّيْحَةُ») seized the wrongdoers and they lay dead in their homes (11:67) |
| نکتہ | تفصیل |
|---|---|
| اس کی دعوت | اللہ کی عبادت کرو؛ اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اس میں بسایا، اس لیے اس سے معافی مانگو اور توبہ کرو؛ میرا رب قریب ہے اور دعا قبول کرنے والا ہے (11:61) |
| ان کا جواب | 'اس سے پہلے تو ہم میں امیدوں کا مرکز تھا؛ کیا تو ہمیں اس سے روکتا ہے جس کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے؟ ہم تیری دعوت کے بارے میں سخت الجھن بھرے شک میں ہیں' (11:62) |
| نشانی | اللہ کی اونٹنی: اسے اللہ کی زمین میں چرنے دو اور اسے برائی سے ہاتھ نہ لگاؤ ورنہ قریب آنے والا عذاب تمہیں پکڑ لے گا (11:64) |
| انہوں نے کیا کیا | انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں؛ صالح نے کہا: تین دن اپنے گھروں میں فائدہ اٹھا لو، یہ ایسا وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا (11:65) |
| انجام | صالح اور ایمان والے اس دن کی رسوائی سے بچا لیے گئے (11:66)؛ چیخ («الصَّيْحَةُ») نے ظالموں کو پکڑ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے (11:67) |
اور اے میری قوم کے لوگو، دیکھو یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے اِسے خدا کی زمین میں چرنے کے لیے آزاد چھوڑ دو اِس سے ذرا تعرض نہ کرنا ورنہ کچھ زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ تم پر خدا کا عذاب آ جائے گا (64) مگر انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا اس پر صالحؑ نے اُن کو خبردار کر دیا کہ "بس اب تین دن اپنے گھروں میں اور رہ بس لو یہ ایسی میعاد ہے جو جھوٹی نہ ثابت ہوگی (65)
And O my people, this is the she-camel of Allah - [she is] to you a sign. So let her feed upon Allah 's earth and do not touch her with harm, or you will be taken by an impending punishment (64) But they hamstrung her, so he said, "Enjoy yourselves in your homes for three days. That is a promise not to be denied (65)
Lessons
اسباق
- A clear sign was given and the people still refused: guidance is not gained by signs alone but by an open heart.
- Blind following of the fathers' ways blocks the truth (11:62).
- Harming a sign of Allah brings His punishment; Allah's warning is always fulfilled (11:65).
- واضح نشانی دی گئی پھر بھی لوگوں نے انکار کیا: ہدایت نشانیوں سے نہیں کھلے دل سے ملتی ہے۔
- باپ دادا کی اندھی تقلید حق کو روکتی ہے (11:62)۔
- اللہ کی نشانی کو نقصان پہنچانے پر اس کا عذاب آتا ہے؛ اللہ کی وعید ضرور پوری ہوتی ہے (11:65)۔
The angels with Hazrat Ibrahim (AS) (11:69 to 76)فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس (11:69 تا 76)Often examined
The model paper asks: what good news did the angels, on their way to the people of Lut, give Hazrat Ibrahim (AS)? Learn this section well.
ماڈل پیپر میں پوچھا گیا: قومِ لوط کی طرف جانے والے فرشتوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کیا خوشخبری دی؟ اس حصے کو اچھی طرح یاد کریں۔
- Allah's messengers (angels) came to Hazrat Ibrahim (AS) with good news. They said 'Peace' and he replied 'Peace', and soon brought a roasted calf (11:69).
- When he saw their hands not reaching for the food he was suspicious of them and felt fear. They said: 'Fear not, we have been sent to the people of Lut' (11:70).
- His wife was standing there and she smiled (laughed). The good news was given: a son, Ishaq (Isaac), and after Ishaq, Yaqub (Jacob) (11:71).
- She said: 'Woe to me! Shall I bear a child when I am old and this my husband is an old man? This is indeed amazing' (11:72).
- The angels said: 'Do you wonder at Allah's decree? The mercy of Allah and His blessings be upon you, people of the house; He is Praiseworthy and Glorious' (11:73).
- When the fear left Hazrat Ibrahim (AS) and the good news reached him, he began to plead with Allah for the people of Lut (11:74). The Quran praises him as forbearing, tender-hearted and one who turns to Allah («مُنِيْبٌ») (11:75).
- They were told: 'O Ibrahim, give up this plea; your Lord's command has come and a punishment that cannot be turned back will reach them' (11:76).
- اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے خوشخبری لے کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے۔ انہوں نے 'سلام' کہا، انہوں نے بھی 'سلام' کہا اور جلد ہی بھنا ہوا بچھڑا لے آئے (11:69)۔
- جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھتے تو انہیں اجنبی سمجھا اور دل میں خوف محسوس کیا۔ انہوں نے کہا: 'ڈرو نہیں، ہم قومِ لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں' (11:70)۔
- ان کی بیوی کھڑی تھیں اور وہ ہنس پڑیں۔ پھر خوشخبری دی گئی: بیٹا اسحاق، اور اسحاق کے بعد یعقوب (11:71)۔
- وہ بولیں: 'ہائے میری شامت! کیا میں بچہ جنوں گی جبکہ میں بوڑھی ہوں اور یہ میرے شوہر بھی بوڑھے ہیں؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے' (11:72)۔
- فرشتوں نے کہا: 'کیا تم اللہ کے حکم پر تعجب کرتی ہو؟ اے گھر والو! تم پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں؛ وہ تعریف کے لائق اور بزرگ ہے' (11:73)۔
- جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کا خوف دور ہوا اور خوشخبری پہنچ گئی تو وہ قومِ لوط کے بارے میں ہم سے عرض و معروض (سفارش) کرنے لگے (11:74)۔ قرآن ان کی تعریف کرتا ہے کہ وہ بردبار، نرم دل اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والے («مُنِيْبٌ») تھے (11:75)۔
- فرمایا گیا: 'اے ابراہیم! اس بات کو چھوڑ دو؛ تمہارے رب کا حکم آ چکا ہے اور ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے جو ٹل نہیں سکتا' (11:76)۔
اور دیکھو، ابراہیمؑ کے پاس ہمارے فرشتے خوشخبری لیے ہوئے پہنچے کہا تم پر سلام ہو ابراہیمؑ نے جواب دیا تم پر بھی سلام ہو پھر کچھ دیر نہ گزری کہ ابراہیمؑ ایک بھنا ہوا بچھڑا (ان کی ضیافت کے لیے) لے آیا (69) مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے پر نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہو گیا اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا اُنہوں نے کہا "ڈرو نہیں، ہم تو لوطؑ کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں (70) ابراہیمؑ کی بیوی بھی کھڑی ہوئی تھی وہ یہ سن کر ہنس دی پھر ہم نے اس کو اسحاقؑ کی اور اسحاقؑ کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی (71) وہ بولی "ہائے میری کم بختی! کیا اب میرے ہاں اولاد ہوگی جبکہ میں بڑھیا پھونس ہو گئی اور یہ میرے میاں بھی بوڑھے ہو چکے؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے (72) فرشتوں نے کہا "اللہ کے حکم پر تعجب کرتی ہو؟ ابراہیمؑ کے گھر والو، تم لوگوں پر تو اللہ کی رحمت اور اُس کی برکتیں ہیں، اور یقیناً اللہ نہایت قابل تعریف اور بڑی شان والا ہے (73)
And certainly did Our messengers come to Abraham with good tidings; they said, "Peace." He said, "Peace," and did not delay in bringing [them] a roasted calf (69) But when he saw their hands not reaching for it, he distrusted them and felt from them apprehension. They said, "Fear not. We have been sent to the people of Lot (70) And his Wife was standing, and she smiled. Then We gave her good tidings of Isaac and after Isaac, Jacob (71) She said, "Woe to me! Shall I give birth while I am an old woman and this, my husband, is an old man? Indeed, this is an amazing thing (72) They said, "Are you amazed at the decree of Allah? May the mercy of Allah and His blessings be upon you, people of the house. Indeed, He is Praiseworthy and Honorable (73)
Lessons
اسباق
- Hospitality: Hazrat Ibrahim (AS) quickly brought food for his guests.
- Nothing is beyond Allah's power: a son and a grandson were given in old age (11:71 to 73).
- A prophet's tenderness: he even pleaded for the wrongdoing people, but when Allah's command came he had to accept it (11:74 to 76).
- مہمان نوازی: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مہمانوں کے لیے جلدی کھانا حاضر کیا۔
- اللہ کے لیے کچھ مشکل نہیں: بڑھاپے میں بیٹا اور پوتا عطا ہوا (11:71 تا 73)۔
- نبی کی نرم دلی: انہوں نے ظالم قوم کے لیے بھی سفارش کی، لیکن اللہ کا حکم آ جانے پر اسے ماننا پڑا (11:74 تا 76)۔
Hazrat Lut (AS) and his people (11:77 to 83)حضرت لوط علیہ السلام اور ان کی قوم (11:77 تا 83)
The same angels who visited Hazrat Ibrahim (AS) now came to Hazrat Lut (AS) as guests, in the form of men.
وہی فرشتے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے تھے اب مہمانوں کی صورت میں حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آئے۔
- Hazrat Lut (AS) was distressed and uneasy for his guests and said 'this is a hard day' (11:77).
- His people came rushing to him; they had been doing evil deeds before. He said: 'These are my daughters, they are purer for you; fear Allah and do not disgrace me before my guests. Is there not one right-minded man among you?' (11:78).
- They answered that they had no claim on his daughters and he knew what they wanted (11:79). He wished he had power or a strong support (11:80).
- The angels said: 'We are messengers of your Lord; they will never reach you. Leave with your family in part of the night and let none of you turn back, except your wife, who will be struck by what strikes them. Their appointed time is the morning' (11:81).
- When the command came, Allah turned the town upside down and rained on it stones of baked clay, marked from your Lord (11:82 to 83).
- حضرت لوط علیہ السلام اپنے مہمانوں کی وجہ سے پریشان اور تنگ دل ہوئے اور کہا 'یہ بڑا سخت دن ہے' (11:77)۔
- ان کی قوم دوڑتی ہوئی آئی؛ وہ پہلے بھی برے کام کرتی تھی۔ انہوں نے کہا: 'یہ میری بیٹیاں ہیں، یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں؛ اللہ سے ڈرو اور مہمانوں کے سامنے مجھے رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھلا آدمی نہیں؟' (11:78)۔
- انہوں نے کہا کہ تمہاری بیٹیوں میں ہمارا کوئی حق نہیں اور تم جانتے ہو ہم کیا چاہتے ہیں (11:79)۔ انہوں نے تمنا کی کہ کاش میرے پاس طاقت ہوتی یا مضبوط سہارا (11:80)۔
- فرشتوں نے کہا: 'ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے ہیں؛ وہ تم تک ہرگز نہیں پہنچ سکتے۔ رات کے کسی حصے میں اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جاؤ اور تم میں سے کوئی پیچھے نہ مڑے سوائے تمہاری بیوی کے، اسے وہی پہنچے گا جو ان کو پہنچے گا۔ ان کا وقت صبح ہے' (11:81)۔
- جب حکم آیا تو اللہ نے بستی کو اوپر نیچے کر دیا اور اس پر کھنگر کے پتھر برسائے جو تیرے رب کے ہاں نشان زدہ تھے (11:82 تا 83)۔
Lessons
اسباق
- Evil deeds done openly and without shame bring destruction.
- Respect for guests and the care of a prophet for his people's honour (11:78).
- The family of a prophet is not saved by relation alone: the wife who did not follow him was struck with the people (11:81).
- Allah's punishment is not far from the wrongdoers (11:83).
- بے حیائی کے کام کھلے عام اور بے شرمی سے کرنا ہلاکت لاتا ہے۔
- مہمانوں کا احترام اور نبی کی اپنی قوم کی عزت کی فکر (11:78)۔
- نبی کے گھر والے صرف رشتے سے نہیں بچتے: نافرمان بیوی کو بھی قوم کے ساتھ عذاب پہنچا (11:81)۔
- ظالموں سے اللہ کا عذاب دور نہیں (11:83)۔
Hazrat Shu'aib (AS) and Madyan (11:84 to 95)حضرت شعیب علیہ السلام اور مدین (11:84 تا 95)
Madyan was a trading people in the north-west of Arabia on the route to Syria. Their sin, besides shirk, was cheating in measure and weight.
مدین شمال مغربی عرب میں شام کے راستے پر ایک تجارت پیشہ قوم تھی۔ شرک کے ساتھ ان کا گناہ ناپ تول میں کمی تھا۔
| Point | Detail |
|---|---|
| His call | Worship Allah; do not reduce the measure and the scale (11:84); give full measure and weight with justice, do not deprive people of their things and do not spread corruption (11:85); what remains lawful with Allah is better for you (11:86) |
| Their answer | 'O Shu'aib, does your prayer command you that we leave what our fathers worshipped or stop doing as we like with our wealth?' (11:87). 'We do not understand much of what you say, and if not for your family we would have stoned you' (11:91) |
| His reply | 'I want only reform as far as I can; my success is only with Allah; in Him I trust and to Him I turn («أُنِيبُ»)' (11:88). 'Is my family stronger in your eyes than Allah?' (11:92) |
| Punishment | Hazrat Shu'aib (AS) and the believers were saved by mercy; the shriek seized the wrongdoers and they lay dead in their homes (11:94 to 95) |
| نکتہ | تفصیل |
|---|---|
| اس کی دعوت | اللہ کی عبادت کرو؛ ناپ اور تول میں کمی نہ کرو (11:84)؛ پورا ناپو اور انصاف سے تولو، لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ (11:85)؛ جو اللہ کا دیا ہوا حلال بچ رہے وہی تمہارے لیے بہتر ہے (11:86) |
| ان کا جواب | 'اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کے معبود چھوڑ دیں یا اپنے مال میں اپنی مرضی نہ کریں؟' (11:87)۔ 'تیری بہت سی باتیں ہم نہیں سمجھتے، اور اگر تیرا خاندان نہ ہوتا تو ہم تجھے سنگسار کر دیتے' (11:91) |
| اس کا جواب | 'میں تو بس اصلاح چاہتا ہوں جہاں تک ہو سکے؛ میری کامیابی صرف اللہ سے ہے؛ اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں («أُنِيبُ»)' (11:88)۔ 'کیا میرا خاندان تمہارے نزدیک اللہ سے زیادہ طاقتور ہے؟' (11:92) |
| انجام | شعیب اور ایمان والے رحمت سے بچا لیے گئے؛ چیخ نے ظالموں کو پکڑ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے (11:94 تا 95) |
اور اے برادران قوم، ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھاٹا نہ دیا کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو
And O my people, give full measure and weight in justice and do not deprive the people of their due and do not commit abuse on the earth, spreading corruption
Lessons
اسباق
- Honesty in trade: full measure and weight, and no cheating of people's rights (11:85).
- Faith and worldly dealings go together: the nation mocked the link between prayer and business (11:87), but Islam joins them.
- The reformer works for reform and success is from Allah (11:88).
- تجارت میں دیانت: پورا ناپ تول اور لوگوں کا حق نہ مارنا (11:85)۔
- ایمان اور دنیوی معاملات ساتھ چلتے ہیں: قوم نے نماز اور کاروبار کے تعلق کا مذاق اڑایا (11:87)، مگر اسلام انہیں جوڑتا ہے۔
- مصلح اصلاح کی کوشش کرتا ہے اور کامیابی اللہ کی طرف سے ہے (11:88)۔
Hazrat Musa (AS), the lessons of the stories and the Day of Judgement (11:96 to 111)حضرت موسیٰ علیہ السلام، قصوں کے اسباق اور قیامت کا دن (11:96 تا 111)
Hazrat Musa (AS) and Pharaoh (11:96 to 99)
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون (11:96 تا 99)
- Allah sent Hazrat Musa (AS) with His signs and a clear authority to Pharaoh and his chiefs (11:96 to 97).
- They followed the command of Pharaoh, but the command of Pharaoh was not right guidance.
- On the Day of Resurrection Pharaoh will lead his people into the Fire, a wretched place to be brought to; a curse follows them in this world and on that Day (11:98 to 99).
- اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی نشانیوں اور کھلی دلیل کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا (11:96 تا 97)۔
- وہ فرعون کے حکم پر چلے، مگر فرعون کا حکم راہِ راست نہ تھا۔
- قیامت کے دن فرعون اپنی قوم کے آگے ہو کر انہیں آگ میں لے جائے گا، وہ برا ٹھکانا ہے؛ اس دنیا میں اور اس دن لعنت ان کے پیچھے لگی ہے (11:98 تا 99)۔
The lessons of the stories (11:100 to 109)
قصوں کے اسباق (11:100 تا 109)
- Some of these towns are still standing and some are like a mown harvest (11:100).
- 'We did not wrong them, but they wronged themselves'; their false gods did not help them at all (11:101).
- Allah's seizing of wrongdoing towns is painful and severe (11:102).
- In this is a sign for the one who fears the punishment of the Hereafter (11:103).
- ان بستیوں میں سے کچھ باقی ہیں اور کچھ کٹی ہوئی کھیتی کی طرح مٹ گئیں (11:100)۔
- 'ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا'؛ ان کے جھوٹے معبود ان کے کچھ کام نہ آئے (11:101)۔
- ظالم بستیوں کو اللہ کی پکڑ دردناک اور سخت ہے (11:102)۔
- اس میں آخرت کے عذاب سے ڈرنے والے کے لیے نشانی ہے (11:103)۔
The Day of Judgement (11:103 to 108)
قیامت کا دن (11:103 تا 108)
- It is a Day on which all people will be gathered and which will be witnessed (11:103).
- When it comes, no soul will speak except by His permission; some will be wretched and some happy (11:105).
- The wretched will be in the Fire and the happy in Paradise (11:106 to 108).
- وہ دن ہے جس میں سب لوگ جمع کیے جائیں گے اور جس کا مشاہدہ ہوگا (11:103)۔
- جب وہ آئے گا تو اس کی اجازت کے بغیر کوئی جان بات نہ کرے گی؛ کچھ بدبخت ہوں گے اور کچھ خوش نصیب (11:105)۔
- بدبخت آگ میں ہوں گے اور خوش نصیب جنت میں (11:106 تا 108)۔
Disagreement on the Book of Musa (11:110 to 111)
کتابِ موسیٰ میں اختلاف (11:110 تا 111)
The Book was given to Hazrat Musa (AS) but people differed over it, as they differ over the Quran; Allah will repay everyone in full for his deeds (11:110 to 111).
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کتاب دی گئی مگر لوگوں نے اس میں اختلاف کیا، جیسا کہ قرآن میں اختلاف کر رہے ہیں؛ اللہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ دے گا (11:110 تا 111)۔
یہ چند بستیوں کی سرگزشت ہے جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے (100) ہم نے اُن پر ظلم نہیں کیا، انہوں نے آپ ہی اپنے اوپر ستم ڈھایا اور جب اللہ کا حکم آ گیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آ سکے اور انہوں نے ہلاکت و بربادی کے سوا انہیں کچھ فائدہ نہ دیا (101) اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہی ہوا کرتی ہے، فی الواقع اس کی پکڑ بڑی سخت اور درد ناک ہوتی ہے (102)
That is from the news of the cities, which We relate to you; of them, some are [still] standing and some are [as] a harvest [mowed down] (100) And We did not wrong them, but they wronged themselves. And they were not availed at all by their gods which they invoked other than Allah when there came the command of your Lord. And they did not increase them in other than ruin (101) And thus is the seizure of your Lord when He seizes the cities while they are committing wrong. Indeed, His seizure is painful and severe (102)
Steadfastness, prayer and trust in Allah (11:112 to 123)استقامت، نماز اور توکل (11:112 تا 123)Often examined
The surah ends with practical commands for the Prophet (ﷺ) and the believers. 11:112 and 11:114 are among the most printed ayat of the surah.
سورت عملی احکام پر ختم ہوتی ہے جو نبی کریم ﷺ اور مومنوں کے لیے ہیں۔ 11:112 اور 11:114 سورت کی سب سے زیادہ پوچھی جانے والی آیات میں سے ہیں۔
- Remain steadfast as you have been commanded, you and those who have turned back with you, and do not transgress; Allah sees what you do (11:112).
- Do not incline to the wrongdoers, or the Fire will touch you and you will have no protector besides Allah (11:113).
- Establish prayer at the two ends of the day and in the early part of the night; good deeds remove bad deeds; this is a reminder for those who remember (11:114).
- Be patient, for Allah does not waste the reward of those who do good (11:115).
- Why were there not, among the earlier generations, people of virtue who forbade corruption in the earth? Only a few were saved. Allah would not destroy towns unjustly while their people were reformers (11:116 to 117).
- The stories are told to make the Prophet's (ﷺ) heart firm and to bring truth, advice and a reminder for the believers (11:120).
- Tell the disbelievers to act according to their way and wait; the believers do the same (11:121 to 122).
- To Allah belongs the unseen of the heavens and the earth and to Him all affairs return, so worship Him and rely on Him (11:123).
- جیسا تمہیں حکم دیا گیا ہے ثابت قدم رہو، تم بھی اور وہ بھی جنہوں نے تمہارے ساتھ رجوع کیا، اور حد سے نہ بڑھو؛ اللہ تمہارے اعمال دیکھ رہا ہے (11:112)۔
- ظالموں کی طرف نہ جھکو ورنہ تمہیں آگ چھو لے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حامی نہ ہوگا (11:113)۔
- دن کے دونوں سروں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کرو؛ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں؛ یہ یاد رکھنے والوں کے لیے نصیحت ہے (11:114)۔
- صبر کرو، کیونکہ اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا (11:115)۔
- پہلی نسلوں میں ایسے اہلِ خیر کیوں نہ ہوئے جو زمین میں فساد سے روکتے؟ صرف تھوڑے بچائے گئے۔ اللہ بستیوں کو ظلم سے ہلاک نہیں کرتا جبکہ ان کے لوگ اصلاح کرنے والے ہوں (11:116 تا 117)۔
- یہ قصے نبی کریم ﷺ کے دل کو مضبوط کرنے اور مومنوں کے لیے حق، نصیحت اور یاد دہانی کے لیے سنائے گئے (11:120)۔
- کافروں سے کہہ دو کہ اپنے طریقے پر عمل کرتے رہو، ہم بھی عمل کر رہے ہیں؛ تم انتظار کرو ہم بھی منتظر ہیں (11:121 تا 122)۔
- آسمانوں اور زمین کا غیب اللہ ہی کا ہے اور سب معاملات اسی کی طرف لوٹتے ہیں، اس لیے اسی کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ رکھو (11:123)۔
پس اے محمدؐ، تم، اور تمہارے وہ ساتھی جو (کفر و بغاوت سے ایمان و طاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں، ٹھیک ٹھیک راہ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو جو کچھ تم کر رہے ہو اس پر تمہارا رب نگاہ رکھتا ہے
So remain on a right course as you have been commanded, [you] and those who have turned back with you [to Allah], and do not transgress. Indeed, He is Seeing of what you do
اور دیکھو، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر درحقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں، یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لیے جو خدا کو یاد رکھنے والے ہیں
And establish prayer at the two ends of the day and at the approach of the night. Indeed, good deeds do away with misdeeds. That is a reminder for those who remember
Lessons
اسباق
- Steadfastness on the straight path without going to extremes (11:112).
- Keep away from the wrongdoers and do not support them (11:113).
- Prayer and good deeds wipe out the effect of mistakes (11:114).
- A society survives when some people forbid corruption (11:116).
- Worship and trust in Allah go together (11:123).
- سیدھے راستے پر بغیر حد سے بڑھے ثابت قدم رہنا (11:112)۔
- ظالموں سے دور رہو اور ان کا ساتھ نہ دو (11:113)۔
- نماز اور نیک اعمال گناہوں کے اثر کو مٹا دیتے ہیں (11:114)۔
- معاشرہ تب بچتا ہے جب کچھ لوگ فساد سے روکنے والے ہوں (11:116)۔
- عبادت اور توکل ساتھ ساتھ ہیں (11:123)۔
Rukus 1 to 2 (ayat 1 to 24): the call and the two waysرکوع 1 تا 2 (آیات 1 تا 24): دعوت اور دو راستے
Ruku 1 (ayat 1 to 8)
رکوع 1 (آیات 1 تا 8)
The surah opens with the Quran, whose ayat are made firm and then explained, from the Wise and All-Aware. The call is to worship Allah alone, to seek forgiveness and to repent; those who turn away are warned of the punishment of a great Day. Allah knows what hearts conceal (11:5), provides for every creature (11:6), and created the heavens and the earth in six days to test men in deeds (11:7). The disbelievers call the news of the resurrection magic and mock the delay of punishment (11:7 to 8).
سورت قرآن سے شروع ہوتی ہے جس کی آیتیں پختہ کی گئیں اور پھر کھول کر بیان ہوئیں، حکیم و خبیر کی طرف سے۔ دعوت یہ ہے کہ صرف اللہ کی عبادت کرو، استغفار کرو اور توبہ کرو؛ منہ موڑنے والوں کو بڑے دن کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے۔ اللہ دلوں کی چھپی باتیں جانتا ہے (11:5)، ہر جاندار کو رزق دیتا ہے (11:6)، اور آسمان و زمین کو چھ دن میں پیدا کیا تاکہ انسانوں کو عمل میں آزمائے (11:7)۔ کافر قیامت کی خبر کو جادو کہتے اور عذاب کی تاخیر کا مذاق اڑاتے ہیں (11:7 تا 8)۔
زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو اور جس کے متعلق وہ نہ جانتا ہو کہ کہاں وہ رہتا ہے اور کہاں وہ سونپا جاتا ہے، سب کچھ ایک صاف دفتر میں درج ہے
And there is no creature on earth but that upon Allah is its provision, and He knows its place of dwelling and place of storage. All is in a clear register
Ruku 2 (ayat 9 to 24)
رکوع 2 (آیات 9 تا 24)
Man is ungrateful in loss and boastful in ease, except the patient who do good (11:9 to 11). The demand for a treasure or an angel is answered: the Prophet (ﷺ) is only a warner (11:12), and the challenge is given to bring ten surahs like the Quran (11:13). Those who seek only this world get their reward here and have only the Fire in the Hereafter (11:15 to 16). The liars against Allah are cursed (11:18), the believers are the people of Paradise (11:23), and the two groups are not equal (11:24).
انسان نقصان میں ناشکرا اور آسانی میں اترانے والا ہے، سوائے صبر کرنے والے نیکو کاروں کے (11:9 تا 11)۔ خزانے یا فرشتے کے مطالبے کا جواب دیا گیا کہ نبی کریم ﷺ صرف ڈرانے والے ہیں (11:12)، اور قرآن جیسی دس سورتیں لانے کا چیلنج دیا گیا (11:13)۔ جو صرف دنیا چاہتے ہیں انہیں بدلہ یہیں مل جاتا ہے اور آخرت میں صرف آگ ہے (11:15 تا 16)۔ اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ملعون ہیں (11:18)، ایمان والے جنتی ہیں (11:23)، اور دونوں گروہ برابر نہیں (11:24)۔
اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ ایک مدت خاص تک تم کو اچھا سامان زندگی دے گا اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں
And [saying], "Seek forgiveness of your Lord and repent to Him, [and] He will let you enjoy a good provision for a specified term and give every doer of favor his favor. But if you turn away, then indeed, I fear for you the punishment of a great Day
کیا یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے یہ کتاب خود گھڑ لی ہے؟ کہو، "اچھا یہ بات ہے تو اس جیسی گھڑی ہوئی دس سورتیں تم بنا لاؤ اور اللہ کے سوا اور جو جو (تمہارے معبود) ہیں اُن کو مدد کے لیے بلا سکتے ہو تو بلا لو اگر تم (انہیں معبود سمجھنے میں) سچے ہو
Or do they say, "He invented it"? Say, "Then bring ten surahs like it that have been invented and call upon [for assistance] whomever you can besides Allah, if you should be truthful
Teachings
تعلیمات
- Repentance and seeking forgiveness bring a good life and reward (11:3).
- Allah is the provider of every creature (11:6) and knows all that is hidden (11:5).
- Be patient in hardship and not proud in ease (11:9 to 11).
- The Quran is inimitable (11:13).
- توبہ اور استغفار سے اچھی زندگی اور اجر ملتا ہے (11:3)۔
- اللہ ہر جاندار کو رزق دینے والا ہے (11:6) اور ہر پوشیدہ بات جانتا ہے (11:5)۔
- مشکل میں صبر کرو اور آسانی میں غرور نہ کرو (11:9 تا 11)۔
- قرآن بے مثل ہے (11:13)۔
Rukus 3 to 4 (ayat 25 to 49): Hazrat Nuh (AS)رکوع 3 تا 4 (آیات 25 تا 49): حضرت نوح علیہ السلام
Ruku 3 (ayat 25 to 35)
رکوع 3 (آیات 25 تا 35)
Hazrat Nuh (AS) is sent as a clear warner to call to the worship of Allah alone. The chiefs reject him: a man like us, followed by the low, with no merit over us (11:27). He answers with a clear proof, no demand for wealth, and refusal to drive away the believers (11:28 to 31). They ask for the punishment (11:32) and he leaves it to Allah (11:33 to 34). Ayah 11:35 turns to the Quraish who say the Prophet (ﷺ) invented the Quran.
حضرت نوح علیہ السلام کھلے ڈرانے والے کے طور پر بھیجے جاتے ہیں تاکہ اللہ کی عبادت کی دعوت دیں۔ سردار انکار کرتے ہیں: ہمارے جیسا آدمی ہے، کم تر لوگ اس کے پیچھے ہیں، ہم پر کوئی فضیلت نہیں (11:27)۔ وہ واضح دلیل، مال نہ مانگنے اور مومنوں کو نہ دھتکارنے سے جواب دیتے ہیں (11:28 تا 31)۔ وہ عذاب مانگتے ہیں (11:32) اور نوح اسے اللہ کے سپرد کرتے ہیں (11:33 تا 34)۔ آیت 11:35 میں اُن قریش کی طرف رخ ہے جو کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے قرآن گھڑ لیا ہے۔
(اور ایسے ہی حالات تھے جب) ہم نے نوحؑ کو اُس کی قوم کی طرف بھیجا تھا (اُس نے کہا) "میں تم لوگوں کو صاف صاف خبردار کرتا ہوں (25) کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ورنہ مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر ایک روز دردناک عذاب آئے گا (26)
And We had certainly sent Noah to his people, [saying], "Indeed, I am to you a clear warner (25) That you not worship except Allah. Indeed, I fear for you the punishment of a painful day (26)
Ruku 4 (ayat 36 to 49)
رکوع 4 (آیات 36 تا 49)
No more of his people will believe; the ark is built under Allah's eyes while the chiefs mock. When the oven overflows the believers and a pair of each kind are carried (11:40). The son refuses and drowns (11:42 to 43). The ark rests on Judi (11:44), Hazrat Nuh (AS) prays for his son and is told 'he is not of your family' (11:45 to 46), then asks forgiveness (11:47). The ruku ends with peace upon Hazrat Nuh (AS) and a reminder that this is news of the unseen (11:48 to 49).
اب ان کی قوم میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا؛ کشتی اللہ کی نگرانی میں بنتی ہے اور سردار مذاق اڑاتے ہیں۔ جب تنور ابلتا ہے تو مومن اور ہر قسم کا جوڑا سوار کیے جاتے ہیں (11:40)۔ بیٹا انکار کرتا ہے اور ڈوب جاتا ہے (11:42 تا 43)۔ کشتی جودی پر ٹھہرتی ہے (11:44)، حضرت نوح علیہ السلام بیٹے کے لیے دعا کرتے ہیں تو فرمایا جاتا ہے 'وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں' (11:45 تا 46)، پھر وہ معافی مانگتے ہیں (11:47)۔ رکوع نوح پر سلامتی اور اس یاددہانی پر ختم ہوتا ہے کہ یہ غیب کی خبریں ہیں (11:48 تا 49)۔
کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جا رہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی نوحؑ کا بیٹا دور فاصلے پر تھا نوحؑ نے پکار کر کہا "بیٹا، ہمارے ساتھ سوار ہو جا، کافروں کے ساتھ نہ رہ (42) اُس نے پلٹ کر جواب دیا "میں ابھی ایک پہاڑ پر چڑھا جاتا ہوں جو مجھے پانی سے بچا لے گا" نوحؑ نے کہا، آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اِس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے" اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہو گئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہو گیا (43)
And it sailed with them through waves like mountains, and Noah called to his son who was apart [from them], "O my son, come aboard with us and be not with the disbelievers (42) [But] he said, "I will take refuge on a mountain to protect me from the water." [Noah] said, "There is no protector today from the decree of Allah, except for whom He gives mercy." And the waves came between them, and he was among the drowned (43)
نوحؑ نے اپنے رب کو پکارا کہا "اے رب، میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم ہے (45) جواب میں ارشاد ہوا "اے نوحؑ، وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے، وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے، لہٰذا تو اُس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت تو نہیں جانتا، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے (46)
And Noah called to his Lord and said, "My Lord, indeed my son is of my family; and indeed, Your promise is true; and You are the most just of judges (45) He said, "O Noah, indeed he is not of your family; indeed, he is [one whose] work was other than righteous, so ask Me not for that about which you have no knowledge. Indeed, I advise you, lest you be among the ignorant (46)
Teachings
تعلیمات
- Patience in calling to Allah, whatever the mockery.
- Relation by faith is greater than relation by blood (11:46).
- Ask Allah only for what you know to be right (11:46 to 47).
- مذاق کے باوجود اللہ کی طرف بلانے میں صبر۔
- ایمان کا رشتہ خون کے رشتے سے بڑا ہے (11:46)۔
- اللہ سے وہی مانگو جس کے درست ہونے کا علم ہو (11:46 تا 47)۔
Rukus 5 to 6 (ayat 50 to 68): Hazrat Hud (AS) and Hazrat Salih (AS)رکوع 5 تا 6 (آیات 50 تا 68): حضرت ہود اور حضرت صالح علیہما السلام
Ruku 5 (ayat 50 to 60)
رکوع 5 (آیات 50 تا 60)
Hazrat Hud (AS) calls Aad to worship Allah, asks no reward and promises rain and strength for repentance (11:50 to 52). They say he has brought no proof and that their gods have afflicted him (11:53 to 54). He relies on Allah (11:56), tells them he has delivered the message (11:57), and Aad are destroyed while Hud and the believers are saved (11:58 to 60).
حضرت ہود علیہ السلام عاد کو اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں، اجر نہیں مانگتے اور توبہ پر بارش اور قوت کا وعدہ کرتے ہیں (11:50 تا 52)۔ وہ کہتے ہیں کوئی دلیل نہیں لایا اور ہمارے معبودوں نے اس پر آفت ڈال دی (11:53 تا 54)۔ وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں (11:56)، فرماتے ہیں کہ پیغام پہنچا دیا (11:57)، اور عاد ہلاک ہوتے ہیں جبکہ ہود اور مومن بچ جاتے ہیں (11:58 تا 60)۔
میرا بھروسہ اللہ پر ہے جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی چوٹی اس کے ہاتھ میں نہ ہو بے شک میرا رب سیدھی ر اہ پر ہے
Indeed, I have relied upon Allah, my Lord and your Lord. There is no creature but that He holds its forelock. Indeed, my Lord is on a path [that is] straight
Ruku 6 (ayat 61 to 68)
رکوع 6 (آیات 61 تا 68)
Hazrat Salih (AS) calls Thamud to worship Allah and to repent. They doubt and cling to their fathers' worship (11:62). The she-camel of Allah is a sign (11:64); they hamstring her; three days are given (11:65); then the shriek seizes them while Hazrat Salih (AS) and the believers are saved (11:66 to 68).
حضرت صالح علیہ السلام ثمود کو عبادتِ الٰہی اور توبہ کی طرف بلاتے ہیں۔ وہ شک کرتے اور باپ دادا کی عبادت پر جمے رہتے ہیں (11:62)۔ اللہ کی اونٹنی نشانی ہے (11:64)؛ وہ اس کی کونچیں کاٹتے ہیں؛ تین دن کی مہلت ملتی ہے (11:65)؛ پھر چیخ انہیں پکڑ لیتی ہے جبکہ صالح اور مومن بچ جاتے ہیں (11:66 تا 68)۔
اور اے میری قوم کے لوگو، دیکھو یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے اِسے خدا کی زمین میں چرنے کے لیے آزاد چھوڑ دو اِس سے ذرا تعرض نہ کرنا ورنہ کچھ زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ تم پر خدا کا عذاب آ جائے گا (64) مگر انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا اس پر صالحؑ نے اُن کو خبردار کر دیا کہ "بس اب تین دن اپنے گھروں میں اور رہ بس لو یہ ایسی میعاد ہے جو جھوٹی نہ ثابت ہوگی (65)
And O my people, this is the she-camel of Allah - [she is] to you a sign. So let her feed upon Allah 's earth and do not touch her with harm, or you will be taken by an impending punishment (64) But they hamstrung her, so he said, "Enjoy yourselves in your homes for three days. That is a promise not to be denied (65)
Teachings
تعلیمات
- Trust in Allah removes fear of any power (11:56).
- Blind following of ancestors is a reason for ruin (11:62).
- Disobedience to a sign of Allah brings a warning that comes true (11:65).
- اللہ پر توکل کسی طاقت کا خوف مٹا دیتا ہے (11:56)۔
- آباؤ اجداد کی اندھی تقلید ہلاکت کا سبب ہے (11:62)۔
- اللہ کی نشانی کی نافرمانی پر دی گئی خبر ضرور پوری ہوتی ہے (11:65)۔
Rukus 7 to 8 (ayat 69 to 95): Ibrahim, Lut and Shu'aib (AS)رکوع 7 تا 8 (آیات 69 تا 95): ابراہیم، لوط اور شعیب علیہم السلام
Ruku 7 (ayat 69 to 83)
رکوع 7 (آیات 69 تا 83)
The angels bring Hazrat Ibrahim (AS) the good news of Ishaq and after him Yaqub, and tell him they are going to the people of Lut (11:69 to 73). He pleads for them but is told the command has come (11:74 to 76). The angels then reach Hazrat Lut (AS); the people come with evil intent; the angels reveal who they are, Hazrat Lut (AS) leaves at night with his family and the town is overturned (11:77 to 83).
فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق اور ان کے بعد یعقوب کی خوشخبری دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ وہ قومِ لوط کی طرف جا رہے ہیں (11:69 تا 73)۔ وہ ان کے لیے سفارش کرتے ہیں مگر بتایا جاتا ہے کہ حکم آ چکا (11:74 تا 76)۔ پھر فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے پاس پہنچتے ہیں؛ قوم برے ارادے سے آتی ہے؛ فرشتے اپنا تعارف کراتے ہیں، لوط رات کو گھر والوں کے ساتھ نکلتے ہیں اور بستی الٹ دی جاتی ہے (11:77 تا 83)۔
اور دیکھو، ابراہیمؑ کے پاس ہمارے فرشتے خوشخبری لیے ہوئے پہنچے کہا تم پر سلام ہو ابراہیمؑ نے جواب دیا تم پر بھی سلام ہو پھر کچھ دیر نہ گزری کہ ابراہیمؑ ایک بھنا ہوا بچھڑا (ان کی ضیافت کے لیے) لے آیا (69) مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے پر نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہو گیا اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا اُنہوں نے کہا "ڈرو نہیں، ہم تو لوطؑ کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں (70) ابراہیمؑ کی بیوی بھی کھڑی ہوئی تھی وہ یہ سن کر ہنس دی پھر ہم نے اس کو اسحاقؑ کی اور اسحاقؑ کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی (71) وہ بولی "ہائے میری کم بختی! کیا اب میرے ہاں اولاد ہوگی جبکہ میں بڑھیا پھونس ہو گئی اور یہ میرے میاں بھی بوڑھے ہو چکے؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے (72) فرشتوں نے کہا "اللہ کے حکم پر تعجب کرتی ہو؟ ابراہیمؑ کے گھر والو، تم لوگوں پر تو اللہ کی رحمت اور اُس کی برکتیں ہیں، اور یقیناً اللہ نہایت قابل تعریف اور بڑی شان والا ہے (73)
And certainly did Our messengers come to Abraham with good tidings; they said, "Peace." He said, "Peace," and did not delay in bringing [them] a roasted calf (69) But when he saw their hands not reaching for it, he distrusted them and felt from them apprehension. They said, "Fear not. We have been sent to the people of Lot (70) And his Wife was standing, and she smiled. Then We gave her good tidings of Isaac and after Isaac, Jacob (71) She said, "Woe to me! Shall I give birth while I am an old woman and this, my husband, is an old man? Indeed, this is an amazing thing (72) They said, "Are you amazed at the decree of Allah? May the mercy of Allah and His blessings be upon you, people of the house. Indeed, He is Praiseworthy and Honorable (73)
Ruku 8 (ayat 84 to 95)
رکوع 8 (آیات 84 تا 95)
Hazrat Shu'aib (AS) calls Madyan to worship Allah and to give full measure and weight (11:84 to 86). They mock his prayer (11:87). He answers that he wants only reform and relies on Allah (11:88), warns them of the fate of Nuh, Hud, Salih and Lut's peoples (11:89), and they threaten him (11:91). The shriek seizes them (11:94 to 95).
حضرت شعیب علیہ السلام مدین کو اللہ کی عبادت اور پورے ناپ تول کی دعوت دیتے ہیں (11:84 تا 86)۔ وہ ان کی نماز کا مذاق اڑاتے ہیں (11:87)۔ وہ جواب دیتے ہیں کہ میں صرف اصلاح چاہتا ہوں اور اللہ پر بھروسہ رکھتا ہوں (11:88)، انہیں نوح، ہود، صالح اور لوط کی قوموں کے انجام سے ڈراتے ہیں (11:89)، اور وہ انہیں دھمکی دیتے ہیں (11:91)۔ چیخ انہیں پکڑ لیتی ہے (11:94 تا 95)۔
اور اے برادران قوم، ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھاٹا نہ دیا کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو
And O my people, give full measure and weight in justice and do not deprive the people of their due and do not commit abuse on the earth, spreading corruption
Teachings
تعلیمات
- Allah's mercy and His good news come to the patient (11:69 to 73).
- Honesty in measure and weight is a command of the prophets (11:85).
- Turn to Allah in every matter (11:75, 11:88).
- اللہ کی رحمت اور خوشخبری صبر کرنے والوں کو ملتی ہے (11:69 تا 73)۔
- ناپ تول میں دیانت انبیا کا حکم ہے (11:85)۔
- ہر معاملے میں اللہ کی طرف رجوع کرو (11:75، 11:88)۔
Rukus 9 to 10 (ayat 96 to 123): Musa, the Hereafter and the final adviceرکوع 9 تا 10 (آیات 96 تا 123): موسیٰ، آخرت اور آخری نصیحت
Ruku 9 (ayat 96 to 109)
رکوع 9 (آیات 96 تا 109)
Hazrat Musa (AS) is sent to Pharaoh, whose people follow his unwise command and will be led by him into the Fire (11:96 to 99). The surah then states the lesson of the stories: Allah did not wrong the nations, they wronged themselves, and His seizing is severe (11:100 to 102). The Day of Judgement is described: some wretched, some happy (11:103 to 108). The Prophet (ﷺ) is told not to doubt the false worship of the Quraish: they follow their fathers (11:109).
حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کی طرف بھیجے گئے؛ اس کی قوم نے اس کے نادان حکم کی پیروی کی اور وہ انہیں آگ میں لے جائے گا (11:96 تا 99)۔ پھر قصوں کا سبق بتایا گیا: اللہ نے قوموں پر ظلم نہیں کیا، انہوں نے خود ظلم کیا، اور اس کی پکڑ سخت ہے (11:100 تا 102)۔ قیامت کا دن بیان ہوا: کچھ بدبخت، کچھ خوش نصیب (11:103 تا 108)۔ نبی کریم ﷺ کو کہا گیا کہ قریش کی ان جھوٹی عبادتوں کے بارے میں شک نہ کریں: وہ باپ دادا کی پیروی کر رہے ہیں (11:109)۔
یہ چند بستیوں کی سرگزشت ہے جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے (100) ہم نے اُن پر ظلم نہیں کیا، انہوں نے آپ ہی اپنے اوپر ستم ڈھایا اور جب اللہ کا حکم آ گیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آ سکے اور انہوں نے ہلاکت و بربادی کے سوا انہیں کچھ فائدہ نہ دیا (101) اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہی ہوا کرتی ہے، فی الواقع اس کی پکڑ بڑی سخت اور درد ناک ہوتی ہے (102)
That is from the news of the cities, which We relate to you; of them, some are [still] standing and some are [as] a harvest [mowed down] (100) And We did not wrong them, but they wronged themselves. And they were not availed at all by their gods which they invoked other than Allah when there came the command of your Lord. And they did not increase them in other than ruin (101) And thus is the seizure of your Lord when He seizes the cities while they are committing wrong. Indeed, His seizure is painful and severe (102)
Ruku 10 (ayat 110 to 123)
رکوع 10 (آیات 110 تا 123)
The Book of Musa was disputed, as the Quran is now (11:110). The Prophet (ﷺ) and the believers are told to stand firm, not to incline to the wrongdoers, to establish prayer, and to be patient (11:112 to 115). The earlier nations lacked those who forbade corruption (11:116 to 117). The stories make the Prophet's (ﷺ) heart firm (11:120). The surah ends with the command to worship Allah and rely on Him (11:123).
موسیٰ کی کتاب میں اختلاف ہوا، جیسے اب قرآن میں ہو رہا ہے (11:110)۔ نبی کریم ﷺ اور مومنوں کو حکم ہے کہ ثابت قدم رہیں، ظالموں کی طرف نہ جھکیں، نماز قائم کریں اور صبر کریں (11:112 تا 115)۔ پہلی قوموں میں فساد سے روکنے والے نہ تھے (11:116 تا 117)۔ قصے نبی کریم ﷺ کے دل کو مضبوط کرتے ہیں (11:120)۔ سورت اللہ کی عبادت اور اس پر بھروسے کے حکم پر ختم ہوتی ہے (11:123)۔
پس اے محمدؐ، تم، اور تمہارے وہ ساتھی جو (کفر و بغاوت سے ایمان و طاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں، ٹھیک ٹھیک راہ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو جو کچھ تم کر رہے ہو اس پر تمہارا رب نگاہ رکھتا ہے
So remain on a right course as you have been commanded, [you] and those who have turned back with you [to Allah], and do not transgress. Indeed, He is Seeing of what you do
اور دیکھو، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر درحقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں، یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لیے جو خدا کو یاد رکھنے والے ہیں
And establish prayer at the two ends of the day and at the approach of the night. Indeed, good deeds do away with misdeeds. That is a reminder for those who remember
اور اے محمدؐ، یہ پیغمبروں کے قصے جو ہم تمہیں سناتے ہیں، وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعے سے ہم تمہارے دل کو مضبوط کرتے ہیں ان کے اندر تم کو حقیقت کا علم ملا اور ایمان لانے والوں کو نصیحت اور بیداری نصیب ہوئی
And each [story] We relate to you from the news of the messengers is that by which We make firm your heart. And there has come to you, in this, the truth and an instruction and a reminder for the believers
Teachings
تعلیمات
- Allah is just: nations are punished for their own wrongdoing (11:101).
- Be steadfast, pray and be patient (11:112 to 115).
- Forbid corruption, so that the community is saved (11:116).
- Worship Allah and rely on Him (11:123).
- اللہ عادل ہے: قومیں اپنے ہی ظلم کی وجہ سے سزا پاتی ہیں (11:101)۔
- ثابت قدم رہو، نماز پڑھو اور صبر کرو (11:112 تا 115)۔
- فساد سے روکو تاکہ معاشرہ بچ جائے (11:116)۔
- اللہ کی عبادت کرو اور اس پر بھروسہ رکھو (11:123)۔
Exam points: facts to learnامتحانی نکات: یاد کرنے کے حقائقOften examined
One-line facts for MCQs and short questions.
MCQs اور مختصر سوالات کے لیے ایک سطری حقائق۔
- Surah Hud is the 11th surah, Makki, with 123 ayat and 10 rukus, in paras 11 and 12.
- It is named after Hazrat Hud (AS), the prophet of Aad (11:50 to 60).
- It was revealed in the late Makki period, when the opposition of the Quraish was hard.
- The Prophet (ﷺ) said 'Hud and its sisters have made me grey' (Tirmidhi).
- It begins with «الر» (Alif Lam Ra).
- The messengers in order are Nuh, Hud, Salih, Ibrahim, Lut, Shu'aib and Musa (AS).
- The longest story is that of Hazrat Nuh (AS) (11:25 to 49).
- Hazrat Nuh (AS)'s ark rested on the mountain of Judi (11:44); his disbelieving son drowned (11:43).
- 'He is not of your family' (11:46) was said about Hazrat Nuh (AS)'s son.
- Aad: Hazrat Hud (AS). Thamud: Hazrat Salih (AS). Madyan: Hazrat Shu'aib (AS). The people of Lut: Hazrat Lut (AS).
- Thamud hamstrung the she-camel of Allah; Salih gave them three days; the shriek seized them (11:64 to 67).
- Madyan cheated in measure and weight (11:84 to 85).
- The angels gave Hazrat Ibrahim (AS) the good news of Ishaq and after him Yaqub (11:71).
- The stones that fell on the people of Lut were of baked clay, marked (11:82 to 83).
- Allah created the heavens and the earth in six days, and His Throne was on water (11:7).
- The Quraish were challenged to bring ten surahs like the Quran (11:13).
- Every creature's provision is upon Allah (11:6).
- 'Stand firm as you have been commanded' is 11:112; 'good deeds remove bad deeds' is 11:114.
- 950 years of Hazrat Nuh (AS) is not in this surah (it is in 29:14).
- The 80-list words of this surah: «يُسِرُّوْنَ» (11:5), «دَآبَّةٍ» (11:6), «مُنِيْبٌ» (11:75), «اَرْسَلْنَا» (11:25), «تَوَكَّلْتُ» (11:56).
- سورۃ ہود 11 ویں سورت ہے، مکی ہے، اس کی 123 آیات اور 10 رکوع ہیں، پارہ 11 اور 12 میں ہے۔
- اس کا نام قومِ عاد کے نبی حضرت ہود علیہ السلام پر ہے (11:50 تا 60)۔
- یہ مکی دور کے آخری حصے میں نازل ہوئی جب قریش کی مخالفت سخت تھی۔
- نبی کریم ﷺ نے فرمایا 'مجھے ہود اور اس جیسی سورتوں نے بوڑھا کر دیا' (ترمذی)۔
- اس کا آغاز «الر» (الف لام را) سے ہوتا ہے۔
- رسولوں کی ترتیب: نوح، ہود، صالح، ابراہیم، لوط، شعیب اور موسیٰ علیہم السلام۔
- سب سے لمبا قصہ حضرت نوح علیہ السلام کا ہے (11:25 تا 49)۔
- حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری (11:44)؛ ان کا کافر بیٹا ڈوب گیا (11:43)۔
- 'وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں' (11:46) حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کے بارے میں فرمایا گیا۔
- عاد: حضرت ہود علیہ السلام۔ ثمود: حضرت صالح علیہ السلام۔ مدین: حضرت شعیب علیہ السلام۔ قومِ لوط: حضرت لوط علیہ السلام۔
- ثمود نے اللہ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹیں؛ صالح نے تین دن دیے؛ چیخ نے انہیں پکڑ لیا (11:64 تا 67)۔
- مدین ناپ تول میں کمی کرتے تھے (11:84 تا 85)۔
- فرشتوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق اور ان کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی (11:71)۔
- قومِ لوط پر کھنگر کے نشان زدہ پتھر برسے (11:82 تا 83)۔
- اللہ نے آسمان اور زمین چھ دن میں پیدا کیے اور اس کا عرش پانی پر تھا (11:7)۔
- قریش کو قرآن جیسی دس سورتیں لانے کا چیلنج دیا گیا (11:13)۔
- ہر جاندار کا رزق اللہ کے ذمے ہے (11:6)۔
- 'جیسا حکم ملا ہے ثابت قدم رہو' 11:112 ہے؛ 'نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں' 11:114 ہے۔
- حضرت نوح علیہ السلام کے 950 سال اس سورت میں نہیں (یہ 29:14 میں ہے)۔
- اس سورت کے منتخب 80 الفاظ: «يُسِرُّوْنَ» (11:5)، «دَآبَّةٍ» (11:6)، «مُنِيْبٌ» (11:75)، «اَرْسَلْنَا» (11:25)، «تَوَكَّلْتُ» (11:56)۔
Recognising the ayat of Surah Hudسورۃ ہود کی آیات کی پہچانOften examined
If you see one of these ayat in the paper, look for the key words and answer from the ayah first, then add the context.
اگر پرچے میں ان آیات میں سے کوئی آئے تو کلیدی الفاظ دیکھیں اور پہلے آیت کے الفاظ سے جواب دیں، پھر پس منظر شامل کریں۔
| Ayah | Key words to spot | What examiners ask |
|---|---|---|
| 11:3 | Seek forgiveness of your Lord, repent to Him; good provision for a fixed term | What the people are urged to do; the rewards; the warning of the punishment of a great Day (model paper) |
| 11:5 | They turn their breasts to hide; He knows what they conceal («يُسِرُّوْنَ») | Allah's knowledge of what is hidden; meaning of the word |
| 11:6 | No creature («دَآبَّةٍ») on earth but its provision is on Allah | Who provides for the creatures; what He knows; where it is recorded |
| 11:7 | Heavens and earth in six days; Throne upon water; test of deeds | Days of creation; purpose of creation |
| 11:9 to 11 | Despairing and ungrateful; exultant and boastful; except the patient | The faults of man; who is excepted; their reward |
| 11:13 | Bring ten surahs like it | The challenge to the deniers |
| 11:25 to 26 | We sent Nuh to his people: a clear warner, worship none but Allah («اَرْسَلْنَا») | Who was sent; what was his call; the meaning of the word |
| 11:40 to 41 | The oven overflowed; two of each kind; in the name of Allah is its sailing | Who was loaded in the ark; what Nuh said |
| 11:42 to 43 | O my son, come aboard; I will take refuge on a mountain; the wave came between them | The answer of the son; who protects from Allah's decree |
| 11:45 to 46 | My son is of my family; he is not of your family; do not ask what you have no knowledge of | Nuh's prayer; Allah's answer; the lesson |
| 11:50 | To Aad (We sent) their brother Hud | Which people; the prophet's call |
| 11:56 | I have put my trust («تَوَكَّلْتُ») in Allah, my Lord and your Lord; He holds its forelock | Who said it; what it shows; meaning of the word |
| 11:61 to 65 | The she-camel of Allah; hamstrung her; enjoy for three days | The sign of Salih; what they did; the period |
| 11:69 to 73 | Messengers came to Ibrahim with good news; roasted calf; Ishaq and after him Yaqub; the wife's amazement | The good news; where were they going; the wife's reaction (model paper) |
| 11:75 | Ibrahim was forbearing, tender-hearted, turning to Allah («مُنِيْبٌ») | The qualities of Hazrat Ibrahim (AS); meaning of the word |
| 11:82 to 83 | Highest part made lowest; stones of baked clay, marked | The punishment of the people of Lut |
| 11:84 to 85 | Do not decrease measure and scale; give full measure and weight | Which people; their sin; the command |
| 11:112 | Remain on a right course as you have been commanded; do not transgress | Command of steadfastness; the hadith about greyness |
| 11:114 | Establish prayer at the two ends of the day; good deeds do away with misdeeds | The command of prayer; the effect of good deeds |
| 11:123 | To Allah belong the unseen of the heavens and the earth; worship Him and rely on Him | The last ayah; the two commands |
| آیت | پہچان کے الفاظ | ممتحن کیا پوچھتے ہیں |
|---|---|---|
| 11:3 | اپنے رب سے معافی مانگو، اس کی طرف رجوع کرو؛ مقررہ مدت تک اچھا سامان | کن باتوں کی تلقین ہے؛ انعامات؛ بڑے دن کے عذاب کی وعید (ماڈل پیپر) |
| 11:5 | وہ سینے موڑتے ہیں کہ چھپ جائیں؛ وہ جانتا ہے جو چھپاتے ہیں («يُسِرُّوْنَ») | اللہ کا پوشیدہ باتوں کا علم؛ لفظ کا مطلب |
| 11:6 | زمین پر کوئی جاندار («دَآبَّةٍ») نہیں مگر اس کا رزق اللہ پر ہے | رزق کون دیتا ہے؛ وہ کیا جانتا ہے؛ کہاں لکھا ہے |
| 11:7 | آسمان و زمین چھ دن میں؛ عرش پانی پر؛ عمل کی آزمائش | تخلیق کے دن؛ تخلیق کا مقصد |
| 11:9 to 11 | ناامید اور ناشکرا؛ اترانے والا اور شیخی باز؛ سوائے صبر کرنے والوں کے | انسان کی کمزوریاں؛ کون مستثنیٰ ہے؛ ان کا اجر |
| 11:13 | اس جیسی دس سورتیں لے آؤ | منکروں کو چیلنج |
| 11:25 to 26 | ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا: کھلا ڈرانے والا، اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو («اَرْسَلْنَا») | کون بھیجا گیا؛ اس کی دعوت کیا تھی؛ لفظ کا مطلب |
| 11:40 to 41 | تنور ابل پڑا؛ ہر قسم کا جوڑا؛ اللہ کے نام سے اس کا چلنا | کشتی میں کون سوار ہوا؛ نوح نے کیا کہا |
| 11:42 to 43 | اے بیٹے! سوار ہو جا؛ میں پہاڑ کی پناہ لوں گا؛ لہر بیچ میں آ گئی | بیٹے کا جواب؛ اللہ کے فیصلے سے کون بچاتا ہے |
| 11:45 to 46 | میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے؛ وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں؛ جس کا علم نہیں وہ نہ مانگ | نوح کی دعا؛ اللہ کا جواب؛ سبق |
| 11:50 | عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو (بھیجا) | کون سی قوم؛ نبی کی دعوت |
| 11:56 | میں نے اللہ پر بھروسہ («تَوَكَّلْتُ») کیا جو میرا اور تمہارا رب ہے؛ وہ اس کی پیشانی تھامے ہوئے ہے | یہ کس نے کہا؛ اس سے کیا ظاہر ہوتا ہے؛ لفظ کا مطلب |
| 11:61 to 65 | اللہ کی اونٹنی؛ اس کی کونچیں کاٹ دیں؛ تین دن فائدہ اٹھا لو | صالح کی نشانی؛ انہوں نے کیا کیا؛ مہلت |
| 11:69 to 73 | رسول ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر آئے؛ بھنا بچھڑا؛ اسحاق اور اس کے بعد یعقوب؛ بیوی کا تعجب | خوشخبری کیا تھی؛ کہاں جا رہے تھے؛ بیوی کا ردعمل (ماڈل پیپر) |
| 11:75 | ابراہیم بردبار، نرم دل، رجوع کرنے والے («مُنِيْبٌ») تھے | حضرت ابراہیم علیہ السلام کی صفات؛ لفظ کا مطلب |
| 11:82 to 83 | اوپر کا حصہ نیچے کر دیا؛ کھنگر کے نشان زدہ پتھر | قومِ لوط کی سزا |
| 11:84 to 85 | ناپ اور تول میں کمی نہ کرو؛ پورا ناپو اور تولو | کون سی قوم؛ ان کا گناہ؛ حکم |
| 11:112 | جیسا حکم ملا ثابت قدم رہو؛ حد سے نہ بڑھو | استقامت کا حکم؛ بوڑھا کر دینے کی حدیث |
| 11:114 | دن کے دونوں سروں پر نماز قائم کرو؛ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں | نماز کا حکم؛ نیکیوں کا اثر |
| 11:123 | آسمانوں اور زمین کا غیب اللہ کا ہے؛ اس کی عبادت کرو اور اس پر بھروسہ رکھو | آخری آیت؛ دو احکام |
Key terms
- يُسِرُّوْنَ
- They conceal (11:5)وہ چھپاتے ہیں (11:5)
- دَآبَّةٍ
- A creature that moves on the earth (11:6)زمین پر چلنے پھرنے والا جاندار (11:6)
- مُنِيْبٌ
- One who turns (to Allah) in repentance (11:75)رجوع کرنے والا (11:75)
- اَرْسَلْنَا
- We sent (11:25)ہم نے بھیجا (11:25)
- تَوَكَّلْتُ
- I have put my trust (in Allah) (11:56)میں نے توکل (بھروسہ) کیا (11:56)
- التَّنُّوْرُ
- The oven; its overflowing was the sign of the flood (11:40)تنور؛ اس کا ابل پڑنا طوفان کی نشانی تھی (11:40)
- الْجُوْدِيِّ
- Judi, the mountain on which the ark of Hazrat Nuh (AS) rested (11:44)جودی، وہ پہاڑ جس پر حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی ٹھہری (11:44)
- الصَّيْحَةُ
- The shriek (blast) that seized Thamud and Madyan (11:67, 11:94)چیخ جس نے ثمود اور مدین کو پکڑ لیا (11:67، 11:94)
- سِجِّيْلٍ
- Baked (hard) clay; the stones rained on the people of Lut were of it (11:82)کھنگر / پکی مٹی؛ قومِ لوط پر برسنے والے پتھر اسی کے تھے (11:82)
- الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَانَ
- Measure and scale; Hazrat Shu'aib (AS) told Madyan to give them in full (11:85)ناپ اور ترازو؛ حضرت شعیب علیہ السلام نے مدین کو انہیں پورا دینے کا حکم دیا (11:85)
- Istiqamah (steadfastness)استقامت
- Remaining firm on the straight path as commanded (11:112)حکم کے مطابق سیدھے راستے پر ثابت قدم رہنا (11:112)
- Tawakkulتوکل
- Relying on Allah while doing one's duty (11:56, 11:123)اپنا فرض ادا کرتے ہوئے اللہ پر بھروسہ کرنا (11:56، 11:123)
Multiple choice questionsکثیر الانتخابی سوالات
Section A of the paper has 10 MCQs, 8 on the introduction and occasion of revelation of the surahs and 2 on the 80 words. Choose the one correct option.پرچے کے حصہ اول میں 10 MCQs ہوتے ہیں، 8 سورتوں کے تعارف اور شانِ نزول پر اور 2 منتخب 80 الفاظ پر۔ ایک درست اختیار چنیں۔
- A12thبارھویں
- B11thگیارھویںAnswerجواب
- C9thنویں
- D10thدسویں
Answer B. Hud is the 11th surah, after Yunus (10th) and before Yusuf (12th).
جواب B۔ ہود گیارھویں سورت ہے، یونس (دسویں) کے بعد اور یوسف (بارھویں) سے پہلے۔
- AHazrat Shu'aib (AS)حضرت شعیب علیہ السلام
- BHazrat Salih (AS)حضرت صالح علیہ السلام
- CHazrat Nuh (AS)حضرت نوح علیہ السلام
- DHazrat Hud (AS)حضرت ہود علیہ السلامAnswerجواب
Answer D. The surah is named after Hazrat Hud (AS), whose story is in 11:50 to 60. The tempting option Hazrat Nuh (AS) has the longest story in the surah, but the name is from Hud.
جواب D۔ سورت حضرت ہود علیہ السلام کے نام پر ہے جن کا قصہ 11:50 تا 60 میں ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام کا قصہ سب سے لمبا ہے مگر نام ہود کا ہے۔
- A128128
- B123123Answerجواب
- C111111
- D109109
Answer B. Surah Hud has 123 ayat (109 is Yunus, 111 is Al-Isra, 128 is An-Nahl).
جواب B۔ سورۃ ہود کی 123 آیات ہیں (109 یونس کی، 111 الاسراء کی، 128 النحل کی ہیں)۔
- A1010Answerجواب
- B1212
- C88
- D1111
Answer A. Surah Hud has 10 rukus (Yunus has 11).
جواب A۔ سورۃ ہود کے 10 رکوع ہیں (یونس کے 11 ہیں)۔
- AThe first year after the hijrahہجرت کے پہلے سال
- BThe year of the Conquest of Makkahفتحِ مکہ کے سال
- CThe late Makki periodمکی دور کے آخری حصے میںAnswerجواب
- DThe early Makki periodمکی دور کے ابتدائی حصے میں
Answer C. It is Makki and belongs to the late Makki period, when the opposition of the Quraish was hard.
جواب C۔ یہ مکی ہے اور مکی دور کے آخری حصے میں نازل ہوئی جب قریش کی مخالفت سخت تھی۔
- AThamudثمود
- BMadyanمدین
- CAadعادAnswerجواب
- DThe people of Lutقومِ لوط
Answer C. 'And to Aad (We sent) their brother Hud' (11:50).
جواب C۔ 'اور عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو (بھیجا)' (11:50)۔
- AHazrat Uthman (RA)حضرت عثمان رضی اللہ عنہ
- BHazrat Ali (RA)حضرت علی رضی اللہ عنہ
- CHazrat Abu Bakr (RA)حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہAnswerجواب
- DHazrat Umar (RA)حضرت عمر رضی اللہ عنہ
Answer C. It was Hazrat Abu Bakr (RA) (reported by Tirmidhi).
جواب C۔ یہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے (ترمذی)۔
- AMount Uhudاحد
- BMount Sinai (Tur)طورِ سینا
- CMount JudiجودیAnswerجواب
- DMount Safaصفا
Answer C. '...and the ship came to rest on the (mountain of) Judi' (11:44).
جواب C۔ '...اور کشتی جودی پر ٹھہر گئی' (11:44)۔
- AHazrat Nuh (AS)حضرت نوح علیہ السلامAnswerجواب
- BHazrat Hud (AS)حضرت ہود علیہ السلام
- CHazrat Musa (AS)حضرت موسیٰ علیہ السلام
- DHazrat Lut (AS)حضرت لوط علیہ السلام
Answer A. The story of Hazrat Nuh (AS) (11:25 to 49) has 25 ayat; Hazrat Hud's (AS) has 11.
جواب A۔ حضرت نوح علیہ السلام کا قصہ (11:25 تا 49) 25 آیات کا ہے؛ حضرت ہود علیہ السلام کا 11 آیات کا۔
- AThe kingdom of Syriaشام کی بادشاہی
- BThe destruction of Namrudنمرود کی ہلاکت
- CA son, Ismail (AS)بیٹا اسماعیل علیہ السلام
- DA son, Ishaq (AS), and after him Yaqub (AS)بیٹا اسحاق علیہ السلام اور ان کے بعد یعقوب علیہ السلامAnswerجواب
Answer D. 11:71: 'We gave her good tidings of Ishaq and after Ishaq, Yaqub'.
جواب D۔ 11:71: 'ہم نے اسے اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی'۔
- AWorshipping the calfبچھڑے کی پوجا
- BKilling newborn girlsبچیوں کو قتل کرنا
- CHamstringing a she-camelاونٹنی کی کونچیں کاٹنا
- DCheating in measure and weightناپ تول میں کمیAnswerجواب
Answer D. 11:84 to 85: they reduced the measure and the scale.
جواب D۔ 11:84 تا 85: وہ ناپ اور تول میں کمی کرتے تھے۔
- AA staff that became a snakeعصا جو سانپ بن گیا
- BThe she-camel of Allahاللہ کی اونٹنیAnswerجواب
- CA table spread from heavenآسمان سے دسترخوان
- DA spring from the rock of the seaسمندر کی چٹان سے چشمہ
Answer B. 11:64: 'this is the she-camel of Allah, a sign for you'.
جواب B۔ 11:64: 'یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے نشانی ہے'۔
- AThe shriekچیخAnswerجواب
- BA floodطوفان
- CA furious windتیز آندھی
- DA rain of stonesپتھروں کی بارش
Answer A. 11:67: 'the shriek seized those who had wronged'. The rain of stones was the punishment of the people of Lut.
جواب A۔ 11:67: 'ظالموں کو چیخ نے پکڑ لیا'۔ پتھروں کی بارش قومِ لوط کی سزا تھی۔
- ATenدسAnswerجواب
- BThreeتین
- COneایک
- DTwentyبیس
Answer A. 11:13: 'bring ten surahs like it'. (Other surahs challenge with one surah.)
جواب A۔ 11:13: 'اس جیسی دس سورتیں لے آؤ'۔ (دوسری سورتوں میں ایک سورت کا چیلنج ہے۔)
- ATenدس
- BSixچھAnswerجواب
- CEightآٹھ
- DFourچار
Answer B. 11:7: 'in six days, and His Throne had been upon water'.
جواب B۔ 11:7: 'چھ دنوں میں، اور اس کا عرش پانی پر تھا'۔
- AOne who turns in repentanceرجوع کرنے والا
- BWe sentہم نے بھیجا
- CA creature that moves on the earthزمین پر چلنے پھرنے والا جاندارAnswerجواب
- DThey concealوہ چھپاتے ہیں
Answer C. «دَآبَّةٍ» means a creature that moves on the earth; the other options are the meanings of other words of this surah.
جواب C۔ «دَآبَّةٍ» کے معنی زمین پر چلنے پھرنے والا جاندار ہیں؛ باقی اختیارات اسی سورت کے دوسرے الفاظ کے معانی ہیں۔
- AI concealمیں چھپاتا ہوں
- BI sentمیں نے بھیجا
- CI turnمیں رجوع کرتا ہوں
- DI have put my trustمیں نے توکل (بھروسہ) کیاAnswerجواب
Answer D. «تَوَكَّلْتُ» means 'I have put my trust (in Allah)', said by Hazrat Hud (AS).
جواب D۔ «تَوَكَّلْتُ» کا مطلب 'میں نے توکل (بھروسہ) کیا' ہے، یہ حضرت ہود علیہ السلام نے کہا۔
- AOne who turns to Allah in repentanceرجوع کرنے والاAnswerجواب
- BOne who is patientصبر کرنے والا
- COne who fastsروزہ رکھنے والا
- DOne who migratesہجرت کرنے والا
Answer A. «مُنِيْبٌ» means one who turns (to Allah).
جواب A۔ «مُنِيْبٌ» کے معنی رجوع کرنے والا ہے۔
- AThey returnوہ لوٹتے ہیں
- BThey concealوہ چھپاتے ہیںAnswerجواب
- CThey disputeوہ جھگڑتے ہیں
- DThey declareوہ ظاہر کرتے ہیں
Answer B. «يُسِرُّوْنَ» means they conceal; its opposite «يُعْلِنُوْنَ» (they declare) is in the same ayah.
جواب B۔ «يُسِرُّوْنَ» کے معنی وہ چھپاتے ہیں؛ اس کا الٹ «يُعْلِنُوْنَ» (وہ ظاہر کرتے ہیں) اسی آیت میں ہے۔
- AWe savedہم نے بچایا
- BWe sentہم نے بھیجاAnswerجواب
- CWe createdہم نے پیدا کیا
- DWe destroyedہم نے ہلاک کیا
Answer B. «اَرْسَلْنَا» means 'We sent'; in 11:25 'We sent Nuh to his people'.
جواب B۔ «اَرْسَلْنَا» کے معنی 'ہم نے بھیجا' ہیں؛ 11:25 میں 'ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا'۔
- AHazrat Hud (AS)حضرت ہود علیہ السلامAnswerجواب
- BHazrat Salih (AS)حضرت صالح علیہ السلام
- CHazrat Musa (AS)حضرت موسیٰ علیہ السلام
- DHazrat Lut (AS)حضرت لوط علیہ السلام
Answer A. Hazrat Hud (AS) said it to Aad when they threatened him.
جواب A۔ حضرت ہود علیہ السلام نے عاد کی دھمکی کے جواب میں یہ فرمایا۔
- AHazrat Hud (AS)حضرت ہود علیہ السلام
- BHazrat Ibrahim (AS)حضرت ابراہیم علیہ السلام
- CHazrat Shu'aib (AS)حضرت شعیب علیہ السلامAnswerجواب
- DHazrat Nuh (AS)حضرت نوح علیہ السلام
Answer C. This was said by Madyan to Hazrat Shu'aib (AS) (11:87).
جواب C۔ یہ مدین نے حضرت شعیب علیہ السلام سے کہا (11:87)۔
Short questions (Section B, Q.2 a)مختصر سوالات (حصہ دوم، سوال 2 الف)
Section B, Q.2 (a) has five 2-mark short questions on the introduction, background, stories and teachings, each with an OR. Write two clear points, each with its ayah reference.حصہ دوم، سوال 2 (الف) میں تعارف، پس منظر، قصوں اور تعلیمات پر پانچ مختصر سوالات (ہر ایک 2 نمبر) ہوتے ہیں اور ہر ایک کا متبادل ہوتا ہے۔ دو واضح نکات آیت کے حوالے کے ساتھ لکھیں۔
- It is named after Hazrat Hud (AS), the prophet sent to the people of Aad.
- His story is told in 11:50 to 60 and his name comes in 11:50, 53, 58, 60 and 89; the name is only a label, as the longest story is that of Hazrat Nuh (AS).
- اس کا نام حضرت ہود علیہ السلام پر ہے جو قومِ عاد کی طرف بھیجے گئے۔
- ان کا قصہ 11:50 تا 60 میں ہے اور نام 11:50، 53، 58، 60 اور 89 میں آیا ہے؛ نام صرف پہچان ہے، کیونکہ سب سے لمبا قصہ حضرت نوح علیہ السلام کا ہے۔
- It has 123 ayat and 10 rukus and is in paras 11 and 12.
- It is Makki, the 11th surah of the Quran.
- اس کی 123 آیات اور 10 رکوع ہیں اور یہ پارہ 11 اور 12 میں ہے۔
- یہ مکی ہے اور قرآن کی 11 ویں سورت ہے۔
- It was revealed in the late Makki period, when the opposition of the Quraish was hard; no single incident is reported as its occasion.
- The Quraish called the message magic (11:7), mocked the delay of punishment (11:8), demanded a treasure or an angel (11:12) and said the Prophet (ﷺ) had invented the Quran (11:13); the surah answers them.
- یہ مکی دور کے آخری حصے میں نازل ہوئی جب قریش کی مخالفت سخت تھی؛ اس کے لیے کوئی ایک واقعہ شانِ نزول کے طور پر منقول نہیں۔
- قریش نے پیغام کو جادو کہا (11:7)، عذاب کی تاخیر کا مذاق اڑایا (11:8)، خزانے یا فرشتے کا مطالبہ کیا (11:12) اور کہا کہ نبی کریم ﷺ نے قرآن گھڑ لیا (11:13)؛ سورت ان کو جواب دیتی ہے۔
- The call to the worship of Allah alone, to repentance and to the Hereafter, the same call that every prophet gave.
- A warning from the stories of Nuh, Hud, Salih, Lut, Shu'aib and Musa (AS): the deniers were destroyed and the believers saved; and the command to be steadfast and rely on Allah.
- صرف اللہ کی عبادت، توبہ اور آخرت کی دعوت، جو ہر نبی نے دی۔
- نوح، ہود، صالح، لوط، شعیب اور موسیٰ علیہم السلام کے قصوں سے تنبیہ: جھٹلانے والے ہلاک ہوئے اور مومن بچے؛ اور ثابت قدم رہنے اور اللہ پر بھروسے کا حکم۔
- Hazrat Abu Bakr (RA) said to the Prophet (ﷺ): 'you have become grey'.
- He (ﷺ) replied that Hud and its sisters had made him grey (Tirmidhi).
- حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: 'آپ پر بڑھاپا آ گیا'۔
- آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہود اور اس جیسی سورتوں نے مجھے بوڑھا کر دیا (ترمذی)۔
- They asked why no treasure was sent down to him or no angel came with him, and said he had invented the Quran.
- The answer: the Prophet (ﷺ) is only a warner (11:12); if you think it is invented, bring ten surahs like it and call whom you can besides Allah (11:13).
- انہوں نے کہا اس پر خزانہ کیوں نہ اترا یا اس کے ساتھ فرشتہ کیوں نہ آیا، اور کہا کہ اس نے قرآن گھڑ لیا ہے۔
- جواب: نبی کریم ﷺ صرف ڈرانے والے ہیں (11:12)؛ اگر یہ گھڑا ہوا ہے تو اس جیسی دس سورتیں بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جسے بلا سکو بلا لو (11:13)۔
- When a mercy is withdrawn he becomes despairing and ungrateful; after ease he becomes exultant and boastful (11:9 to 10).
- Only those who are patient and do righteous deeds are different: for them is forgiveness and a great reward (11:11).
- جب رحمت چھین لی جائے تو ناامید اور ناشکرا ہو جاتا ہے؛ آسانی کے بعد اترانے والا اور شیخی باز بن جاتا ہے (11:9 تا 10)۔
- صرف صبر کرنے والے نیک عمل والے مختلف ہیں: ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے (11:11)۔
- The good news of a son, Ishaq (AS) (11:71).
- And after Ishaq, of Yaqub (AS), a grandson, although his wife and he were old (11:71 to 72).
- بیٹے اسحاق علیہ السلام کی خوشخبری (11:71)۔
- اور اسحاق کے بعد یعقوب علیہ السلام کی، یعنی پوتے کی، حالانکہ ان کی بیوی اور وہ خود بوڑھے تھے (11:71 تا 72)۔
- 'You are only a man like ourselves' (11:27).
- 'Only the lowest of us followed you without thinking' and 'you have no merit over us; we think you are liars' (11:27).
- 'تم ہمارے جیسے بشر ہو' (11:27)۔
- 'تمہارے پیچھے صرف ہمارے کم تر لوگ بغیر سوچے چلے' اور 'تمہیں ہم پر کوئی فضیلت نہیں، ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں' (11:27)۔
- He refused to board the ark, saying he would take refuge on a mountain; a wave came between them and he was drowned (11:42 to 43).
- Allah said: 'he is not of your family; his deed was other than righteous; do not ask Me what you have no knowledge of' (11:46).
- اس نے کشتی میں سوار ہونے سے انکار کیا اور کہا کہ پہاڑ کی پناہ لوں گا؛ ایک لہر درمیان آئی اور وہ ڈوب گیا (11:42 تا 43)۔
- اللہ نے فرمایا: 'وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں، اس کے عمل نیک نہ تھے؛ جس کا تجھے علم نہیں مجھ سے نہ مانگ' (11:46)۔
- Two of every kind (a pair), his family except those against whom the word had gone forth, and the believers (11:40).
- The ark rested on the mountain of Judi (11:44).
- ہر قسم کا جوڑا، اپنے گھر والے سوائے ان کے جن کے خلاف فیصلہ ہو چکا، اور مومن (11:40)۔
- کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری (11:44)۔
- He called them to worship Allah alone, and to ask forgiveness and repent (11:50, 52).
- He promised that Allah would send abundant rain and add strength to their strength (11:52).
- انہوں نے صرف اللہ کی عبادت اور استغفار و توبہ کی دعوت دی (11:50، 52)۔
- وعدہ کیا کہ اللہ خوب بارش بھیجے گا اور ان کی قوت میں قوت بڑھائے گا (11:52)۔
- The she-camel of Allah, a sign from Hazrat Salih (AS); they were told not to harm her (11:64); they hamstrung her and were given three days (11:65).
- Then the shriek seized them and they lay dead in their homes (11:67).
- اللہ کی اونٹنی، جو حضرت صالح علیہ السلام کی نشانی تھی؛ انہیں اسے نقصان نہ پہنچانے کا کہا گیا (11:64)؛ انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں اور تین دن کی مہلت ملی (11:65)۔
- پھر چیخ نے انہیں پکڑ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے (11:67)۔
- To worship Allah alone and not to reduce the measure and the scale (11:84).
- To give full measure and weight with justice, not to deprive people of their things and not to spread corruption (11:85).
- صرف اللہ کی عبادت کرو اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو (11:84)۔
- انصاف سے پورا ناپو اور تولو، لوگوں کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور فساد نہ پھیلاؤ (11:85)۔
- Allah made the highest part of their town its lowest (turned it upside down) (11:82).
- He rained on them stones of baked clay, marked from your Lord (11:82 to 83).
- اللہ نے ان کی بستی کا اوپر کا حصہ نیچے کر دیا (الٹ دیا) (11:82)۔
- اور ان پر کھنگر کے پتھر برسائے جو تیرے رب کے ہاں نشان زدہ تھے (11:82 تا 83)۔
- Remain steadfast as you have been commanded and do not transgress (11:112); do not incline to the wrongdoers (11:113).
- Establish prayer at the two ends of the day and in parts of the night, because good deeds do away with misdeeds; and be patient (11:114 to 115).
- جیسا حکم ملا ہے ثابت قدم رہو اور حد سے نہ بڑھو (11:112)؛ ظالموں کی طرف نہ جھکو (11:113)۔
- دن کے دونوں سروں اور رات کے حصوں میں نماز قائم کرو، کیونکہ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں؛ اور صبر کرو (11:114 تا 115)۔
- 'Worship Allah, you have no deity other than Him' (11:26, 50, 61, 84).
- They asked no reward (11:29, 51) and called to forgiveness and repentance (11:52, 61, 90).
- 'اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں' (11:26، 50، 61، 84)۔
- انہوں نے کوئی اجر نہ مانگا (11:29، 51) اور استغفار اور توبہ کی دعوت دی (11:52، 61، 90)۔
- To make firm the heart of the Prophet (ﷺ).
- They bring the truth, an instruction and a reminder for the believers (11:120).
- تاکہ نبی کریم ﷺ کے دل کو مضبوط کرے۔
- ان میں حق، نصیحت اور مومنوں کے لیے یاد دہانی ہے (11:120)۔
- The provision of every creature on the earth is upon Allah (11:6).
- He knows its place of dwelling and storage, and all is in a clear record (11:6).
- زمین کے ہر جاندار کا رزق اللہ کے ذمے ہے (11:6)۔
- وہ اس کی رہنے اور سونپے جانے کی جگہ جانتا ہے، اور سب کچھ واضح کتاب میں ہے (11:6)۔
Ayah questions (Section B, Q.2 c)آیات پر سوالات (حصہ دوم، سوال 2 ج)
Section B, Q.2 (c) prints an ayah with its translation and asks one to three sub-questions worth 3 marks in all. Answer first from the words of the ayah, then add the context. Keep each part short and in line with its marks.حصہ دوم، سوال 2 (ج) میں آیت مع ترجمہ دی جاتی ہے اور ایک سے تین ذیلی سوالات پوچھے جاتے ہیں جن کے کل 3 نمبر ہوتے ہیں۔ پہلے آیت کے اپنے الفاظ سے جواب دیں، پھر پس منظر شامل کریں۔ ہر حصہ نمبروں کے مطابق مختصر لکھیں۔
اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ ایک مدت خاص تک تم کو اچھا سامان زندگی دے گا اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں
And [saying], "Seek forgiveness of your Lord and repent to Him, [and] He will let you enjoy a good provision for a specified term and give every doer of favor his favor. But if you turn away, then indeed, I fear for you the punishment of a great Day
To seek forgiveness of their Lord and to repent to Him.
اپنے رب سے معافی مانگنے اور اس کی طرف رجوع (توبہ) کرنے کی۔
Allah will give a good provision (enjoyment) for a fixed term and will give every doer of good his due reward (his merit).
اللہ ایک مقررہ مدت تک اچھا سامانِ زندگی دے گا اور ہر نیکی کرنے والے کو اس کا حق (اجر) دے گا۔
The Prophet (ﷺ) fears for them the punishment of a great Day.
نبی کریم ﷺ ان پر ایک بڑے دن کے عذاب کا خوف رکھتے ہیں۔
Note.نوٹ: Part of the opening call of 11:2 to 4: the Prophet (ﷺ) invites the Quraish to repent and warns them.11:2 تا 4 کی ابتدائی دعوت کا حصہ: نبی کریم ﷺ قریش کو توبہ کی دعوت دیتے اور خبردار کرتے ہیں۔
زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو اور جس کے متعلق وہ نہ جانتا ہو کہ کہاں وہ رہتا ہے اور کہاں وہ سونپا جاتا ہے، سب کچھ ایک صاف دفتر میں درج ہے
And there is no creature on earth but that upon Allah is its provision, and He knows its place of dwelling and place of storage. All is in a clear register
Allah's: 'there is no creature on the earth but its provision is upon Allah'.
اللہ پر: 'زمین پر کوئی جاندار نہیں مگر اس کا رزق اللہ پر ہے'۔
He knows its place of dwelling and its place of storage (where it is laid to rest).
وہ اس کے رہنے کی جگہ اور سونپے جانے (ٹھہرنے) کی جگہ جانتا ہے۔
«دَآبَّةٍ» is a creature that moves on the earth; all is in a clear record («كِتَابٍ مُّبِيْنٍ»).
«دَآبَّةٍ» زمین پر چلنے پھرنے والا جاندار ہے؛ سب کچھ واضح کتاب («كِتَابٍ مُّبِيْنٍ») میں ہے۔
Note.نوٹ: Follows 11:5, about Allah's knowledge; the 80-list word «دَآبَّةٍ» is here.11:5 کے بعد آتی ہے جو اللہ کے علم کے بارے میں ہے؛ منتخب 80 الفاظ میں سے «دَآبَّةٍ» یہاں ہے۔
اگر کبھی ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازنے کے بعد پھر اس سے محروم کر دیتے ہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے (9) اور اگر اُس مصیبت کے بعد جو اُس پر آئی تھی ہم اسے نعمت کا مزا چکھاتے ہیں تو کہتا ہے میرے تو سارے دلدر پار ہو گئے، پھر وہ پھولا نہیں سماتا اور اکڑنے لگتا ہے (10) اس عیب سے پاک اگر کوئی ہیں تو بس وہ لوگ جو صبر کرنے والے اور نیکو کار ہیں اور وہی ہیں جن کے لیے درگزر بھی ہے اور بڑا اجر بھی (11)
And if We give man a taste of mercy from Us and then We withdraw it from him, indeed, he is despairing and ungrateful (9) But if We give him a taste of favor after hardship has touched him, he will surely say, "Bad times have left me." Indeed, he is exultant and boastful (10) Except for those who are patient and do righteous deeds; those will have forgiveness and great reward (11)
He is despairing and ungrateful (11:9).
وہ ناامید اور ناشکرا ہو جاتا ہے (11:9)۔
He says 'the troubles have gone from me' and becomes exultant and boastful (11:10).
وہ کہتا ہے 'مصیبتیں مجھ سے دور ہو گئیں' اور اترانے والا اور شیخی باز بن جاتا ہے (11:10)۔
Those who are patient and do righteous deeds; for them is forgiveness and a great reward (11:11).
جو صبر کرتے اور نیک عمل کرتے ہیں؛ ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے (11:11)۔
Note.نوٹ: Long topic 6 of Surah Yunus (negative attitudes in hardship and ease) has a related teaching in 10:12; this is the Hud version.سورۃ یونس کا تفصیلی موضوع 6 (رنج و راحت میں منفی رویے) 10:12 میں ملتی جلتی تعلیم رکھتا ہے؛ یہ ہود کا بیان ہے۔
(اور ایسے ہی حالات تھے جب) ہم نے نوحؑ کو اُس کی قوم کی طرف بھیجا تھا (اُس نے کہا) "میں تم لوگوں کو صاف صاف خبردار کرتا ہوں (25) کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ورنہ مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر ایک روز دردناک عذاب آئے گا (26)
And We had certainly sent Noah to his people, [saying], "Indeed, I am to you a clear warner (25) That you not worship except Allah. Indeed, I fear for you the punishment of a painful day (26)
He sent Hazrat Nuh (AS) to his people (the word «اَرْسَلْنَا» means We sent).
اللہ نے حضرت نوح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف بھیجا («اَرْسَلْنَا» کا مطلب ہم نے بھیجا)۔
As a clear warner; his call: do not worship anyone but Allah.
کھلے ڈرانے والے کی حیثیت سے؛ دعوت: اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔
The punishment of a painful Day.
دردناک دن کے عذاب کا۔
Note.نوٹ: The start of the story of Hazrat Nuh (AS) (long topic 9).حضرت نوح علیہ السلام کے قصے کا آغاز (تفصیلی موضوع 9)۔
کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جا رہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی نوحؑ کا بیٹا دور فاصلے پر تھا نوحؑ نے پکار کر کہا "بیٹا، ہمارے ساتھ سوار ہو جا، کافروں کے ساتھ نہ رہ (42) اُس نے پلٹ کر جواب دیا "میں ابھی ایک پہاڑ پر چڑھا جاتا ہوں جو مجھے پانی سے بچا لے گا" نوحؑ نے کہا، آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اِس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے" اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہو گئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہو گیا (43)
And it sailed with them through waves like mountains, and Noah called to his son who was apart [from them], "O my son, come aboard with us and be not with the disbelievers (42) [But] he said, "I will take refuge on a mountain to protect me from the water." [Noah] said, "There is no protector today from the decree of Allah, except for whom He gives mercy." And the waves came between them, and he was among the drowned (43)
'O my son, come aboard with us and be not with the disbelievers.'
'اے میرے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ رہ۔'
'I will take refuge on a mountain to protect me from the water.'
'میں کسی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔'
'There is no protector today from the decree of Allah except for whom He gives mercy'; the wave came between them and the son was among the drowned.
'آج اللہ کے فیصلے سے کوئی بچانے والا نہیں سوائے اس کے جس پر وہ رحم کرے'؛ لہر دونوں کے بیچ آ گئی اور بیٹا ڈوبنے والوں میں تھا۔
نوحؑ نے اپنے رب کو پکارا کہا "اے رب، میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم ہے (45) جواب میں ارشاد ہوا "اے نوحؑ، وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے، وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے، لہٰذا تو اُس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت تو نہیں جانتا، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے (46)
And Noah called to his Lord and said, "My Lord, indeed my son is of my family; and indeed, Your promise is true; and You are the most just of judges (45) He said, "O Noah, indeed he is not of your family; indeed, he is [one whose] work was other than righteous, so ask Me not for that about which you have no knowledge. Indeed, I advise you, lest you be among the ignorant (46)
He called to his Lord about his son: 'my son is of my family and Your promise is true'.
انہوں نے اپنے بیٹے کے بارے میں رب کو پکارا: 'میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے'۔
'He is not of your family; his work was other than righteous.'
'وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں، اس کا عمل نیک نہ تھا۔'
Do not ask Me about what you have no knowledge of; I advise you not to be among the ignorant.
جس بات کا تجھے علم نہیں اس کا مجھ سے سوال نہ کر؛ میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ نادانوں میں سے نہ ہو۔
میرا بھروسہ اللہ پر ہے جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی چوٹی اس کے ہاتھ میں نہ ہو بے شک میرا رب سیدھی ر اہ پر ہے
Indeed, I have relied upon Allah, my Lord and your Lord. There is no creature but that He holds its forelock. Indeed, my Lord is on a path [that is] straight
Hazrat Hud (AS), to the people of Aad.
حضرت ہود علیہ السلام نے قومِ عاد سے۔
He relied on Allah, 'my Lord and your Lord'; «تَوَكَّلْتُ» means I have put my trust.
انہوں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو 'میرا اور تمہارا رب' ہے؛ «تَوَكَّلْتُ» کا مطلب میں نے توکل کیا۔
There is no creature but He holds it by its forelock, and my Lord is on a straight path.
کوئی جاندار نہیں مگر وہ اس کی پیشانی تھامے ہوئے ہے، اور میرا رب سیدھی راہ پر ہے۔
اور اے میری قوم کے لوگو، دیکھو یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے اِسے خدا کی زمین میں چرنے کے لیے آزاد چھوڑ دو اِس سے ذرا تعرض نہ کرنا ورنہ کچھ زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ تم پر خدا کا عذاب آ جائے گا (64) مگر انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا اس پر صالحؑ نے اُن کو خبردار کر دیا کہ "بس اب تین دن اپنے گھروں میں اور رہ بس لو یہ ایسی میعاد ہے جو جھوٹی نہ ثابت ہوگی (65)
And O my people, this is the she-camel of Allah - [she is] to you a sign. So let her feed upon Allah 's earth and do not touch her with harm, or you will be taken by an impending punishment (64) But they hamstrung her, so he said, "Enjoy yourselves in your homes for three days. That is a promise not to be denied (65)
The she-camel of Allah, from Hazrat Salih (AS) to Thamud.
اللہ کی اونٹنی، حضرت صالح علیہ السلام کی طرف سے ثمود کو۔
Not to touch her with harm, or an impending punishment would take them.
اسے برائی سے ہاتھ نہ لگاؤ ورنہ قریب آنے والا عذاب تمہیں پکڑ لے گا۔
They hamstrung her; Hazrat Salih (AS) gave them three days to enjoy themselves in their homes.
انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں؛ حضرت صالح علیہ السلام نے انہیں اپنے گھروں میں تین دن فائدہ اٹھانے کی مہلت دی۔
اور دیکھو، ابراہیمؑ کے پاس ہمارے فرشتے خوشخبری لیے ہوئے پہنچے کہا تم پر سلام ہو ابراہیمؑ نے جواب دیا تم پر بھی سلام ہو پھر کچھ دیر نہ گزری کہ ابراہیمؑ ایک بھنا ہوا بچھڑا (ان کی ضیافت کے لیے) لے آیا (69) مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے پر نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہو گیا اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا اُنہوں نے کہا "ڈرو نہیں، ہم تو لوطؑ کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں (70) ابراہیمؑ کی بیوی بھی کھڑی ہوئی تھی وہ یہ سن کر ہنس دی پھر ہم نے اس کو اسحاقؑ کی اور اسحاقؑ کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی (71)
And certainly did Our messengers come to Abraham with good tidings; they said, "Peace." He said, "Peace," and did not delay in bringing [them] a roasted calf (69) But when he saw their hands not reaching for it, he distrusted them and felt from them apprehension. They said, "Fear not. We have been sent to the people of Lot (70) And his Wife was standing, and she smiled. Then We gave her good tidings of Isaac and after Isaac, Jacob (71)
They said 'Peace' and he replied 'Peace' and soon brought a roasted calf.
انہوں نے 'سلام' کہا، انہوں نے بھی 'سلام' کہا اور جلد ہی بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔
Their hands did not reach for the food; they said 'Fear not, we have been sent to the people of Lut'.
ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہ بڑھے؛ انہوں نے کہا 'ڈرو نہیں، ہم قومِ لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں'۔
Ishaq and, after Ishaq, Yaqub.
اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔
Note.نوٹ: Linked to the model paper short question on the good news given by the angels to Hazrat Ibrahim (AS).ماڈل پیپر کے اس مختصر سوال سے جڑی ہے جس میں فرشتوں کی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خوشخبری پوچھی گئی۔
اور اے برادران قوم، ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھاٹا نہ دیا کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو
And O my people, give full measure and weight in justice and do not deprive the people of their due and do not commit abuse on the earth, spreading corruption
Hazrat Shu'aib (AS), to the people of Madyan.
حضرت شعیب علیہ السلام نے مدین والوں سے۔
Give full measure and weight with justice, and do not deprive people of their things.
انصاف سے پورا ناپو اور تولو، اور لوگوں کی چیزیں گھٹا کر نہ دو۔
Doing mischief (spreading corruption) in the earth.
زمین میں فساد پھیلانے سے۔
پس اے محمدؐ، تم، اور تمہارے وہ ساتھی جو (کفر و بغاوت سے ایمان و طاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں، ٹھیک ٹھیک راہ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو جو کچھ تم کر رہے ہو اس پر تمہارا رب نگاہ رکھتا ہے
So remain on a right course as you have been commanded, [you] and those who have turned back with you [to Allah], and do not transgress. Indeed, He is Seeing of what you do
To remain steadfast on the right course as commanded.
حکم کے مطابق سیدھے راستے پر ثابت قدم رہنا۔
Those who turned to Allah with the Prophet (ﷺ).
وہ لوگ جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کیا۔
Do not transgress; Allah sees what you do.
حد سے نہ بڑھو؛ اللہ تمہارے اعمال دیکھ رہا ہے۔
Note.نوٹ: The Prophet (ﷺ) said that Hud and its sisters made him grey (Tirmidhi); commentators connect it with the weight of this command.نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہود اور اس جیسی سورتوں نے مجھے بوڑھا کر دیا (ترمذی)؛ مفسرین اسے اس حکم کے بوجھ سے جوڑتے ہیں۔
اور دیکھو، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر درحقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں، یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لیے جو خدا کو یاد رکھنے والے ہیں
And establish prayer at the two ends of the day and at the approach of the night. Indeed, good deeds do away with misdeeds. That is a reminder for those who remember
To establish prayer at the two ends of the day and at the approach of the night.
دن کے دونوں سروں اور رات کے قریبی حصوں میں نماز قائم کرنا۔
Good deeds do away with misdeeds.
نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔
For those who remember (Allah).
یاد رکھنے والوں (اللہ کو یاد کرنے والوں) کے لیے۔
FBISE and model paper questions
Questions from the FBISE Model Paper SSC-II (Assessment Framework, session 2026-27 onwards) papers that belong to this unit, answered the way an examiner expects.
- The good news of a son, Ishaq (AS) (11:71).
- And after Ishaq, of Yaqub (AS), a grandson, although his wife and he were old (11:71 to 72). (The angels were on their way to the people of Lut, 11:70.)
- بیٹے اسحاق علیہ السلام کی خوشخبری (11:71)۔
- اور اسحاق کے بعد یعقوب علیہ السلام کی، یعنی پوتے کی، حالانکہ ان کی بیوی اور وہ خود بوڑھے تھے (11:71 تا 72)۔ (فرشتے قومِ لوط کی طرف جا رہے تھے، 11:70۔)
اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ ایک مدت خاص تک تم کو اچھا سامان زندگی دے گا اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں
And [saying], "Seek forgiveness of your Lord and repent to Him, [and] He will let you enjoy a good provision for a specified term and give every doer of favor his favor. But if you turn away, then indeed, I fear for you the punishment of a great Day
To seek forgiveness of their Lord and to repent to Him.
اپنے رب سے معافی مانگنے اور اس کی طرف رجوع (توبہ) کرنے کی۔
A good provision (enjoyment) for a fixed term, and every doer of good is given his due reward (his merit).
ایک مقررہ مدت تک اچھا سامانِ زندگی، اور ہر نیکی کرنے والے کو اس کا حق (اجر)۔
The punishment of a great Day (the Prophet (ﷺ) fears it for them).
ایک بڑے دن کا عذاب (نبی کریم ﷺ ان کے لیے اس کا خوف رکھتے ہیں)۔
Note.نوٹ: 11:3 is part of the opening call of the surah (11:2 to 4).11:3 سورت کی ابتدائی دعوت (11:2 تا 4) کا حصہ ہے۔
Exam focus
- What good news did the angels give Hazrat Ibrahim (AS)?فرشتوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کیا خوشخبری دی؟ (short)Asked in the model paper (Q.2 (a)(iv)); two markable points: Ishaq and then Yaqub (11:71).ماڈل پیپر (سوال 2 (الف)(iv)) میں آیا؛ دو نکات: اسحاق اور پھر یعقوب (11:71)۔Go to answer
- Read 11:3: what are people urged to do, the rewards, the warning?11:3 پڑھ کر بتائیں: کیا تلقین ہے، انعامات اور وعید؟ (ayah)The model paper prints 11:3 (Q.2 (c)(ii OR)) with exactly these three parts (SLO A-03).ماڈل پیپر میں 11:3 اسی طرح تین حصوں کے ساتھ آئی ہے (SLO A-03)۔Go to answer
- The story of Hazrat Nuh (AS) and its guidance.حضرت نوح علیہ السلام کا واقعہ اور اس سے حاصل رہنمائی۔ (long)Long topic 9 of the framework (8 marks). Full answer in unit 16, topic 9.فریم ورک کا تفصیلی موضوع 9 (8 نمبر)۔ مکمل جواب یونٹ 16، موضوع 9 میں ہے۔Go to answer
- A brief introduction to the earlier prophets and their nations.انبیائے سابقین اور ان کی اقوام کا اجمالی تعارف۔ (long)Long topic 8 of the framework (8 marks). Full answer in unit 16, topic 8.فریم ورک کا تفصیلی موضوع 8 (8 نمبر)۔ مکمل جواب یونٹ 16، موضوع 8 میں ہے۔Go to answer
- Why is the surah named Hud? Ayat, rukus, period?سورت کا نام ہود کیوں ہے؟ آیات، رکوع، زمانہ؟ (short)Introduction questions are asked every year (SLO A-01); 8 of the 10 MCQs come from introductions.تعارف کے سوالات ہر سال پوچھے جاتے ہیں (SLO A-01)؛ 10 میں سے 8 MCQs تعارف سے ہوتے ہیں۔Go to answer
- Meanings of «يُسِرُّوْنَ»، «دَآبَّةٍ»، «مُنِيْبٌ»، «اَرْسَلْنَا»، «تَوَكَّلْتُ».«يُسِرُّوْنَ»، «دَآبَّةٍ»، «مُنِيْبٌ»، «اَرْسَلْنَا»، «تَوَكَّلْتُ» کے معنی۔ (short)Five of the 80 words (1 mark each) are asked in Section B (b) and 2 MCQs in Section A (SLO A-02).80 الفاظ میں سے پانچ (ہر ایک 1 نمبر) حصہ ب (ب) میں اور 2 MCQs حصہ اول میں پوچھے جاتے ہیں (SLO A-02)۔Go to answer
- What did Thamud demand/do and how were they punished? What did Madyan do?ثمود نے کیا کیا اور انہیں کیسے سزا ملی؟ مدین نے کیا کیا؟ (short)The model paper asks story questions of this kind (the sign of Thamud in Al-Hijr); here they are in 11:61 to 68 and 11:84 to 95.ماڈل پیپر ایسے قصوں کے سوال پوچھتا ہے (الحجر میں ثمود کی نشانی)؛ یہاں یہ 11:61 تا 68 اور 11:84 تا 95 میں ہیں۔Go to answer
- 11:112 and 11:114: steadfastness, prayer and good deeds.11:112 اور 11:114: استقامت، نماز اور نیکیاں۔ (ayah)The two famous teaching ayat of the surah; the hadith of greyness is linked with 11:112.سورت کی دو مشہور تعلیمی آیات؛ بوڑھا کر دینے والی حدیث 11:112 سے جوڑی جاتی ہے۔Go to answer