Ghazal: Jag mein aa kar (Dard)
غزل: جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا (خواجہ میر درد)
خواجہ میر درد کی صوفیانہ غزل۔ یہاں پورا متن، شاعر کا تعارف، مرکزی خیال، مشکل الفاظ، پانچوں اشعار کی امتحانی طرز پر تشریح، 2026 کے پرچوں اور ماڈل پیپر کے حل شدہ سوالات اور امتحانی طرز کے نئے سوالات ہیں۔
Learning outcomes (3)
- غزل کو فہم کے ساتھ پڑھ کر اشعار کی تشریح کر سکیں۔
- غزل کے اشعار پر مبنی سوالات کے جواب دے سکیں۔
- غزل کے عناصر (مطلع، مقطع، قافیہ، ردیف) اور صنائع و بدائع کی پہچان کر سکیں۔
شاعر اور غزل کا تعارف
خواجہ میر درد (1721ء تا 1785ء)
نام خواجہ میر اور تخلص درد تھا۔ والد خواجہ محمد ناصر عندلیب بھی شاعر تھے اور ان کا دیوان "نالۂ عندلیب" کے نام سے مشہور ہے۔ درد کی تعلیم و تربیت میں والد کا بڑا حصہ ہے۔ اٹھائیس برس کی عمر میں دنیا چھوڑ کر گوشہ نشین ہو گئے۔
سلطنتِ مغلیہ کے زوال اور ملکی انتشار کے باعث جب اکثر شاعر دلی چھوڑ کر دوسرے شہروں کو چلے گئے تو درد واحد شاعر تھے جو ہر حال میں دلی میں رہے اور زندگی کے آخری لمحے وہیں گزارے۔ انھیں موسیقی سے گہرا شغف تھا؛ ان کے گھر ہر ماہ محفلِ سماع ہوتی تھی جس میں بڑے بڑے قوال اور ماہرینِ فن جمع ہوتے۔
درد اردو کے سب سے بڑے صوفی شاعر ہیں اور ان کی شاعری ان کی حقیقی زندگی کا عکس ہے۔ تصوف کے سنجیدہ مسائل کے باوجود ان کا کلام سادگی، معنی آفرینی، بے تکلفی اور بے ساختہ پن سے مالا مال ہے۔ اثر پذیری اور درد مندی ان کا خاص وصف ہے۔ ان کا دیوان مختصر ہے لیکن "سراپا درد" ہے۔
صوفی شاعر اور تصوف
تصوف دل کو دنیا کی محبت سے پاک کر کے اللہ کی محبت اور قرب حاصل کرنے کا راستہ ہے۔ صوفی شاعر اپنی شاعری میں عشقِ حقیقی (اللہ سے محبت)، دنیا کی بے ثباتی، عاجزی اور وحدت الوجود (ہر چیز میں اللہ کا جلوہ دیکھنا) کے خیالات بیان کرتا ہے۔ اسی لیے درد کی غزل میں "تو" اور "محبوب" سے اکثر مراد اللہ تعالیٰ (محبوبِ حقیقی) ہوتا ہے۔
غزل کے بارے میں
| صنف | غزل |
| مطلع | پہلا شعر (دیکھا / دیکھا؛ ادھر، نظر) |
| مقطع | آخری شعر جس میں تخلص "دردؔ" آیا ہے |
| قافیہ | ادھر، نظر، جدھر، بھر، کر، مر، مختصر |
| ردیف | دیکھا (اس لیے یہ غزل مردف ہے) |
| ماخذ | دیوانِ میر درد |
غزل کا متنOften examined
مرکزی خیالOften examined
یہ غزل تصوف کے رنگ میں ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس نے دنیا میں جدھر بھی دیکھا اسے اللہ ہی کا جلوہ نظر آیا (وحدت الوجود)۔ محبوب کی ایک بھرپور نگاہ عاشقوں کو بے جان کر دیتی ہے۔ عاشق نے نالہ، فریاد اور آہ و زاری سب کر کے دیکھ لیا، مگر محبوب کے لبوں نے مسیحائی نہ کی، اگرچہ عاشق سو سو طرح سے مرا۔ مقطع میں شاعر اپنے بارے میں کہتا ہے کہ قصہ مختصر، درد بڑا عاشق مزاج ہے۔ غزل کا بنیادی پیغام عشقِ حقیقی، عاجزی اور ہر جگہ اللہ کی موجودگی کا احساس ہے۔
مشکل الفاظ و تراکیب
| لفظ | معنی |
|---|---|
| جگ | دنیا، جہان |
| ادھر ادھر | ہر طرف، چاروں طرف |
| بدن | جسم |
| آنکھ بھر دیکھنا | بھرپور نظر سے دیکھنا، جی بھر کر دیکھنا |
| نالہ | رونا، دکھ بھری آواز |
| فریاد | دہائی، مدد کی پکار |
| آہ و زاری | رونا دھونا، گڑگڑانا |
| آپ سے | اپنی طرف سے، خود سے |
| سو کر دیکھا | وہ کر کے دیکھ لیا (سو = وہ) |
| لب | ہونٹ |
| مسیحائی | مسیحا کا کام؛ مردے کو زندہ کرنا، علاج کرنا |
| سو سو طرح سے | سیکڑوں طریقوں سے |
| مر دیکھنا | مر کر دیکھنا، جان دینے کی آزمائش کرنا |
| زور | یہاں: غضب کا، بہت زیادہ، عجیب |
| عاشق مزاج | جس کی طبیعت میں عشق ہو |
| قصۂ مختصر | بات مختصر کہ، خلاصہ یہ کہ |
تشریح لکھنے کا طریقہOften examined
غزل کی تشریح سوال 5 میں آتی ہے (تین اشعار، 9 نمبر، یعنی ہر شعر 3 نمبر)، اور سوال 2 (ج) میں کسی شعر پر مختصر سوال پوچھا جاتا ہے۔ 2026 کے پرچوں میں درد کی اس غزل سے سوال 2 (ج) میں سوالات آئے: سیٹ B اور A میں مطلع ("جگ میں آکر شاعر کس نتیجے پر پہنچا؟")، سیٹ D میں دوسرا شعر (محبوب کے آنکھ اٹھا کر دیکھنے کا نتیجہ)، اور ماڈل پیپر میں چوتھا شعر (محبوب سے شکوہ)۔
ہر شعر کی تشریح اسی ترتیب سے لکھیں: حوالہ ایک بار شروع میں، پھر ہر شعر کے نیچے مشکل الفاظ، مفہوم، تشریح، تائیدی شعر اور شعری محاسن۔
شعر 1 کی تشریحOften examined
مشکل الفاظ
| لفظ | معنی |
|---|---|
| جگ | دنیا |
| ادھر ادھر | ہر طرف |
| جدھر | جس طرف |
مفہوم
میں نے دنیا میں آ کر ہر طرف نظر دوڑائی تو جس طرف بھی دیکھا، اے اللہ! مجھے تو ہی نظر آیا۔
تشریح
یہ غزل کا مطلع ہے اور اس میں تصوف کا مشہور نظریہ وحدت الوجود بیان ہوا ہے، یعنی کائنات کی ہر چیز میں اللہ تعالیٰ ہی کا جلوہ ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب وہ اس دنیا میں آیا تو اس نے چاروں طرف غور سے دیکھا: زمین، آسمان، سورج، چاند، پھول، دریا اور انسان۔ ہر چیز اپنے بنانے والے کا پتا دیتی ہے؛ اس لیے جدھر بھی نظر گئی، اسے اللہ ہی کی قدرت اور اسی کا حسن دکھائی دیا۔
صوفی کی نظر چیزوں کے ظاہر پر نہیں رکتی بلکہ ان کے پیچھے چھپے خالق تک پہنچ جاتی ہے۔ قرآن مجید بھی کہتا ہے: "فَاَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ" (تم جدھر بھی رخ کرو ادھر اللہ کی ذات ہے)۔ یوں "جگ میں آ کر" شاعر اس نتیجے پر پہنچا کہ ساری کائنات اللہ کی نشانی ہے اور ہر طرف وہی موجود ہے۔ مجازی معنوں میں یہ ایک عاشق کا حال بھی ہو سکتا ہے جسے ہر طرف اپنا محبوب ہی دکھائی دیتا ہے۔
تائیدی شعر
شعری محاسن
یہ شعر مطلع ہے (دونوں مصرعوں میں قافیہ "ادھر، نظر" اور ردیف "دیکھا")۔ "ادھر ادھر" میں تکرار ہے۔ "ادھر" اور "جدھر" کے صوتی ربط سے نغمگی پیدا ہوئی ہے۔ زبان سادہ اور سلیس ہے اور شعر تصوف کا ترجمان ہے۔
شعر 2 کی تشریحOften examined
مشکل الفاظ
| لفظ | معنی |
|---|---|
| بدن | جسم |
| آنکھ بھر دیکھنا | بھرپور نظر سے دیکھنا |
مفہوم
اے محبوب! تو نے جس طرف بھی بھرپور نظر سے دیکھا، ادھر کے لوگوں کے جسم جان سے خالی ہو گئے، یعنی وہ تیرے حسن کی تاب نہ لا سکے اور جان دے بیٹھے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر محبوب کے حسن اور اس کی نگاہ کی تاثیر بیان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ محبوب کی ایک بھرپور نگاہ اتنی طاقت ور ہے کہ جس طرف وہ اٹھتی ہے، عاشق اس کے جلوے کی تاب نہیں لا سکتے اور ان کے بدن بے جان ہو جاتے ہیں۔ یعنی محبوب کے آنکھ بھر کر دیکھنے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عاشقوں کی جان نکل جاتی ہے۔
تصوف کے رنگ میں دیکھیں تو محبوب سے مراد اللہ تعالیٰ ہے جس کے جلوے کی تاب انسان نہیں لا سکتا۔ اس میں حضرت موسیٰؑ کے واقعے کی طرف اشارہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ کوہِ طور پر اللہ کی تجلی ہوئی تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا اور حضرت موسیٰؑ بے ہوش ہو گئے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اللہ کی محبت میں فنا ہونا ہی عاشق کی اصل کامیابی ہے؛ جسے اس کی نظرِ کرم مل جائے وہ اپنی ذات کو مٹا دیتا ہے۔
شعری محاسن
"بدن کا جان سے خالی ہونا" کنایہ ہے مر جانے سے۔ "آنکھ بھر دیکھنا" محاورہ ہے۔ محبوب کی نگاہ سے جان نکل جانا مبالغہ ہے۔ "جان" اور "بدن" کا ایک ساتھ ذکر مراعات النظیر ہے۔
شعر 3 کی تشریحOften examined
مشکل الفاظ
| لفظ | معنی |
|---|---|
| نالہ | رونا، دکھ بھری آواز |
| فریاد | دہائی |
| آہ و زاری | رونا گڑگڑانا |
| سو | وہ |
مفہوم
محبوب کو منانے کے لیے ہم سے جو کچھ ہو سکا، ہم نے کر کے دیکھ لیا: نالے کیے، فریاد کی، آہیں بھریں اور گڑگڑا کر روئے۔
تشریح
اس شعر میں عاشق کی بے بسی اور اس کی کوششوں کا ذکر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس نے محبوب کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ہر وہ طریقہ آزما لیا جو اس کے بس میں تھا۔ وہ رویا، اس نے فریاد کی، آہیں بھریں اور آہ و زاری کی۔ یعنی عاشق نے اپنی طرف سے کوئی کمی نہیں چھوڑی؛ اب جو کچھ ہونا ہے وہ محبوب کی مرضی پر ہے۔
تصوف کے حوالے سے دیکھیں تو یہ بندے کی عاجزی اور دعا کا بیان ہے۔ بندہ اللہ کے حضور روتا اور گڑگڑاتا ہے اور اپنی پوری کوشش کرتا ہے، مگر نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ مرکزی خیال: عاشق نے محبوب کو پانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر لی، اب فیصلہ محبوب کے کرم پر ہے۔ "آپ سے ہو سکا سو کر دیکھا" کا انداز بتاتا ہے کہ شاعر تھک ہار کر بھی شکایت نہیں کرتا بلکہ اپنی عاجزی کا اعتراف کرتا ہے۔
تائیدی شعر
شعری محاسن
پہلے مصرعے میں ایک ہی مفہوم کے چار الفاظ (نالہ، فریاد، آہ، زاری) جمع کیے گئے ہیں: مراعات النظیر۔ "آہ اور زاری" مرکبِ عطفی ہے۔ "آپ سے ہو سکا سو کر دیکھا" میں روزمرہ کی سادگی ہے۔ لہجہ عاجزانہ اور درد مندانہ ہے۔
شعر 4 کی تشریحOften examined
مشکل الفاظ
| لفظ | معنی |
|---|---|
| لب | ہونٹ |
| مسیحائی | مسیحا کا کام، مردے کو زندہ کرنا |
| سو سو طرح سے | سیکڑوں طریقوں سے |
مفہوم
محبوب کے لبوں نے ہم پر مسیحائی نہ کی، یعنی ہمیں زندگی نہ بخشی، حالانکہ ہم نے سیکڑوں طرح سے مر کر دیکھ لیا۔
تشریح
اس شعر میں تلمیح ہے۔ حضرت عیسیٰؑ کو اللہ نے یہ معجزہ دیا تھا کہ وہ "قُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ" (اللہ کے حکم سے اٹھ) کہتے تو مردہ زندہ ہو جاتا؛ اسی لیے انھیں مسیحا کہا جاتا ہے۔ اردو شاعری میں محبوب کے لبوں کو مسیحا کہا جاتا ہے کہ ان کی ایک بات عاشق کو نئی زندگی دے دیتی ہے۔
شاعر کو محبوب سے یہ شکایت ہے کہ اس نے سو سو طرح سے جان دی، یعنی ہجر کے ہر دکھ اور ہر تکلیف کو موت کی طرح جھیلا، اس امید پر کہ محبوب کے لب ایک بار ہل جائیں اور وہ زندہ ہو جائے؛ مگر محبوب کے لبوں نے مسیحائی نہ کی اور ایک میٹھا بول بھی نہ بولے۔ اس میں عاشق کا شکوہ بھی ہے اور محبوب کی بے نیازی کا بیان بھی۔ تصوف کے رنگ میں یہ بندے کی وہ تڑپ ہے جو اپنے رب کی نظرِ کرم کے انتظار میں ہر لمحہ مرتا اور جیتا ہے۔
تائیدی شعر
شعری محاسن
"مسیحائی" میں حضرت عیسیٰؑ کے معجزے کی طرف اشارہ صنعتِ تلمیح ہے۔ "سو سو" میں تکرار ہے۔ "سو سو طرح سے مر دیکھا" مبالغہ ہے۔ "مسیحائی" (زندگی) اور "مر" (موت) میں تضاد ہے۔ لبوں کو مسیحا بنانا استعارہ ہے۔
شعر 5 کی تشریحOften examined
مشکل الفاظ
| لفظ | معنی |
|---|---|
| زور | غضب کا، بہت |
| عاشق مزاج | عشق کرنے والی طبیعت کا |
| قصۂ مختصر | خلاصہ یہ کہ |
مفہوم
قصہ مختصر، ہم نے درد کو دیکھا ہے؛ وہ غضب کا عاشق مزاج آدمی ہے۔
تشریح
یہ غزل کا مقطع ہے کیونکہ اس میں شاعر کا تخلص "درد" آیا ہے۔ شاعر اپنے بارے میں بات کرتے ہوئے کہتا ہے کہ لمبی بات کی کیا ضرورت، مختصر یہ کہ درد بہت عاشق مزاج ہے۔ یعنی عشق اس کی طبیعت میں رچا بسا ہے؛ اس کی ساری زندگی، اس کی شاعری اور اس کا ہر دکھ اسی عشق کی کہانی ہے۔
یہاں "عاشق مزاج" کو برا نہیں سمجھنا چاہیے۔ درد صوفی تھے، اس لیے ان کا عشق عشقِ حقیقی ہے، یعنی اللہ کی محبت۔ پچھلے اشعار میں جو نالہ و فریاد، مرنا اور تڑپنا بیان ہوا وہ سب اسی عشق کا نتیجہ ہے، اور مقطع میں شاعر سب کا خلاصہ بیان کر دیتا ہے۔ "قصۂ مختصر" کہہ کر شاعر نے بڑی خوب صورتی سے پوری غزل کو ایک جملے میں سمیٹ دیا ہے۔ تخلص "درد" بھی اپنے معنی کے لحاظ سے عاشق کی کیفیت کی خوب ترجمانی کرتا ہے۔
شعری محاسن
یہ شعر مقطع ہے۔ تخلص "درد" میں ایہام کی سی کیفیت ہے (شاعر کا نام بھی اور تکلیف بھی)۔ "قصۂ مختصر" ترکیبِ توصیفی اور روزمرہ ہے۔ "عاشق مزاج" مرکب صفت ہے۔ انداز بے ساختہ اور بے تکلف ہے جو درد کی شاعری کی پہچان ہے۔
غزل کی فنی اور فکری خوبیاں (ایک نظر میں)
- تصوف: وحدت الوجود (مطلع)، عشقِ حقیقی، عاجزی اور فنا کا تصور۔
- سادگی: چھوٹی بحر، عام فہم الفاظ (جگ، ادھر ادھر، آنکھ بھر، سو سو طرح)؛ بڑی بات آسان لفظوں میں۔
- درد مندی اور اثر: نالہ، فریاد، آہ و زاری اور سو سو طرح مرنے کا ذکر دل پر اثر کرتا ہے۔
- صنائع: تلمیح (مسیحائی)، تکرار (ادھر ادھر، سو سو)، مراعات النظیر (نالہ، فریاد، آہ، زاری)، تضاد (مسیحائی/مر)، کنایہ (جان سے بدن خالی)۔
- ہیئت: مطلع (پہلا شعر)، مقطع (آخری شعر، تخلص درد)، ردیف "دیکھا"، قافیہ ادھر، نظر، جدھر، بھر، کر، مر، مختصر۔
Key terms
- وحدت الوجود
- تصوف کا نظریہ کہ ہر چیز میں اللہ ہی کا جلوہ ہے (مطلع)۔
- مسیحائی
- مسیحا (حضرت عیسیٰؑ) کا کام، مردے کو زندہ کرنا؛ تلمیح۔
- آنکھ بھر دیکھنا
- بھرپور نظر سے دیکھنا۔
- قصۂ مختصر
- خلاصہ یہ کہ۔
- ردیف / قافیہ
- ردیف "دیکھا"؛ قافیہ ادھر، نظر، جدھر، بھر، کر، مر، مختصر۔
- مقطع
- آخری شعر جس میں تخلص "درد" ہے۔
امتحانی طرز کے سوالات: حصہ غزل (سوال 2 ج)
اشعار دے کر دو سوال (2 x 3 = 6 نمبر)۔
- (i)جگ میں آکر شاعر کس نتیجے پر پہنچا؟
- (ii)تیسرے شعر کا مرکزی خیال لکھیں۔
شاعر نے دنیا میں آ کر ہر طرف دیکھا تو اس نتیجے پر پہنچا کہ ہر چیز میں اللہ ہی کا جلوہ ہے؛ جدھر بھی نظر کی، اللہ ہی نظر آیا۔ یہ تصوف کا نظریہ وحدت الوجود ہے۔
عاشق نے محبوب کو منانے کے لیے نالہ، فریاد، آہ اور زاری سب کچھ کر کے دیکھ لیا؛ اس سے جو ہو سکا اس نے کیا۔ یعنی اس نے اپنی طرف سے کوشش میں کمی نہیں چھوڑی، اب فیصلہ محبوب کے ہاتھ میں ہے۔
- (i)محبوب جس طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتا ہے اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟
- (ii)مقطع میں شاعر نے اپنے بارے میں کیا کہا ہے؟
محبوب جس طرف بھرپور نظر سے دیکھتا ہے وہاں کے عاشق اس کے حسن کی تاب نہیں لا سکتے اور ان کے بدن جان سے خالی ہو جاتے ہیں، یعنی وہ مر جاتے ہیں۔
شاعر کہتا ہے کہ قصہ مختصر، درد غضب کا عاشق مزاج ہے؛ یعنی عشق اس کی فطرت ہے۔ صوفی ہونے کے ناتے یہ عشقِ حقیقی ہے، جس میں عاشق نالہ و فریاد کرتا اور سو سو طرح مرتا ہے۔
- (i)شاعر کو محبوب سے کیا شکایت ہے؟
- (ii)اس شعر میں کون سی صنعت استعمال ہوئی ہے؟
شاعر کو شکایت ہے کہ اس نے سو سو طرح سے مر کر دیکھا مگر محبوب کے لبوں نے مسیحائی نہ کی، یعنی ایک میٹھا بول بول کر اسے نئی زندگی نہ دی۔
صنعتِ تلمیح: "مسیحائی" میں حضرت عیسیٰؑ کے معجزے (مردے کو زندہ کرنا) کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے علاوہ "سو سو" میں تکرار اور "مسیحائی/مر" میں تضاد ہے۔
کتاب کی مشق کے سوالات
درسی کتاب (صفحہ 141) کے سوالات کے نمونے کے جوابات۔
محبوب جس طرف آنکھ بھر کر دیکھتا ہے، وہاں کے عاشقوں کے بدن جان سے خالی ہو جاتے ہیں۔ وہ اس کے حسن اور جلوے کی تاب نہیں لا سکتے اور جان دے دیتے ہیں۔
شاعر نے دنیا میں آ کر ہر طرف دیکھا تو اس نتیجے پر پہنچا کہ ہر جگہ اللہ ہی کا جلوہ ہے؛ جدھر نظر کی وہی نظر آیا۔ یہ وحدت الوجود کا تصور ہے۔
عاشق نے محبوب کو منانے کے لیے رونا، فریاد کرنا، آہیں بھرنا اور گڑگڑانا سب کچھ آزما لیا۔ اس کے بس میں جو کچھ تھا وہ کر چکا؛ اب نتیجہ محبوب کی مرضی پر ہے۔
شاعر کو شکایت ہے کہ وہ سو سو طرح سے مرا مگر محبوب کے لبوں نے مسیحائی نہ کی، یعنی اسے دوبارہ زندگی نہ بخشی اور اس کی حالت پر رحم نہ کیا۔
FBISE 2026 and model paper questions
Questions from the FBISE HSSC-II 2026 (1st Annual) and FBISE HSSC-II model paper (Assessment Framework 2022-23) papers that belong to this unit, answered the way an examiner expects.
- (i)جگ میں آکر شاعر کس نتیجے پر پہنچا؟
شاعر نے دنیا میں آ کر ہر طرف دیکھا تو اس نتیجے پر پہنچا کہ کائنات کی ہر چیز میں اللہ تعالیٰ ہی کا جلوہ ہے؛ اسے جدھر بھی نظر کی، اللہ ہی نظر آیا۔ یہ تصوف کا نظریہ وحدت الوجود ہے جو صوفی شاعر درد کی شاعری کی پہچان ہے۔
- (i)محبوب کے آنکھ اٹھا کر دیکھنے کا کیا نتیجہ نکلا؟
محبوب نے جس طرف بھی آنکھ بھر کر دیکھا، وہاں عاشقوں کے بدن جان سے خالی ہو گئے؛ یعنی وہ اس کے حسن اور جلوے کی تاب نہ لا سکے اور جان دے بیٹھے۔
- (i)شاعر کو محبوب سے کس بات کا شکوہ ہے؟
شاعر کو شکوہ ہے کہ اس نے سو سو طرح سے مر کر دیکھا، مگر محبوب کے لبوں نے مسیحائی نہ کی؛ یعنی ایک بار بھی میٹھا بول بول کر اسے نئی زندگی نہ دی اور اس کی حالت پر توجہ نہ کی۔
Exam focus
- مطلع: جگ میں آکر شاعر کس نتیجے پر پہنچا؟ (short)2026 کے سیٹ B اور A دونوں کے سوال 2 (ج) میں آیا۔Go to answer
- شعر 2: محبوب کے آنکھ بھر کر دیکھنے کا نتیجہ (short)2026 کے سیٹ D میں آیا۔Go to answer
- شعر 4: محبوب سے شکوہ (مسیحائی) (short)ماڈل پیپر کے سوال 2 (ج) میں آیا۔Go to answer